روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔