التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)

48 احادیث ملیں

حضرت عمر بن الخطاب r کا خواب میں دیکھنا کہ نبی کریم ﷺپر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺپر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیقr پر آرہا ہے، نیز حضرت عمر rکا اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھنا، اور ابوبکر rسے چھینٹوں کا اڑکر حضرت عمر r پر پڑنا۔

حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔

روا یت : ’’ لرد دانق من حرام يعدل عند الله سبعين ألف حجة‘‘. حرام کا ایک دانق لو ٹا نا اللہ تعا لی کے ہاں ستر ہزار مقبو ل حج کے برابر ہے ۔

روايت:’’ آپ ﷺ نےفرمایا: الذكر نعمة من الله فأدوا شكرها. ذکر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہذا اس کا شکر ادا کرو‘‘۔

روایت: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من ترك الأربع قبل الظهر لم تنله شفاعتي‘‘. جس نے ظہر سے پہلے کی چار سنتیں چھوڑ دیں، وہ میری شفاعت نہیں پائے گا‘‘۔

روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔

روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔

روایت: ایک شخص کا غرائب علم سیکھنے کےلئے آنا، اور آپ ﷺ کا اس سے چند سوالات کرنا، مثلاً حق تعالی کی معرفت، موت کی پہچان، پھر آپ ﷺ کا جواب میں ارشاد فرمانا کہ پہلے اس پر پختگی اختیار کرو، پھر آکر غرائب علم سیکھنا۔

روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔

روایت: ایک صحابی r کا نبی ﷺ کی اتباع میں مانگ نکالنے کی چاہت کرنا، بال گھنگھریالے ہونے کی وجہ سے مانگ نہ نکلنا، پھر صحابی r کا مانگ نکالنے کےلئے اپنے سر کے درمیان گرم سلاخ کا پھیرنا۔