التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)

روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔

حکم: ذکر کردہ حکایت میں موجود نکارت اہل نظر پر مخفی نہیں، خصوصاً حکایت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کے نہ آنے کی صورت میں ان کے کفیل حضرت ابو ذر r پر قصاص جاری کردیا جاتا، اور یہ فیصلہ دیگر تمام صحابہ p کی موجودگی میں تھا، حالانکہ مسلمہ امر ہے کہ اس صورت میں کفیل پر صرف دیت واجب ہوتی ہے، الحاصل زیر بحث حکایت کو ذکر کردہ سیاق کے ساتھ بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، واللہ اعلم۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] إعلام الناس بما وقع للبرامكة مع بني العباس:ص:11،ت:محمد أحمد عبد العزيز سالم،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[2] الاستذكار:7/218،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ . 

ملتی جلتی احادیث