روایت: حضرت موسیٰe کا بے اولاد عورت کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام دینا کہ تمہاری قسمت میں اولاد نہیں ہے، پھر فقیر کو صدقہ دینے سے اللہ تعالی کا اس کو چار بیٹے عطا کرنا۔
تفصیل
روایت: ’’ایک بار موسی e اللہ تعالی سے ملاقات کرنے کوہ طور پر تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں ایک عورت ملی، وہ زار وقطار رو رہی تھی، موسی e نے اس سے رونے کا سبب پوچھا، تو وہ کہنے لگی: بے اولاد ہوں، آپ اللہ تعالی سے پوچھ کر بتائیں کہ میری قسمت میں اولاد ہے یا نہیں؟ لوگ مجھے بانجھ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، حضرت موسی e نے کوہ طور پر جا کر اللہ تعالی سے اس عورت کی قسمت کے بارے میں پوچھا تو اللہ پاک نے فرمایا: اس عورت کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔
جب حضرت موسی e نے اس عورت کو بتایا کہ اللہ پاک کا کہنا ہے کہ تمہاری قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے، تو وہ عورت یہ سن کر بہت زیادہ روئی مگر لا چار تھی، اب صبر کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا، اس واقعہ کے گزر جانے کے بعد ایک دن ایک بھوکے فقیر نے اس عورت کے گھر کے باہر صدا لگائی کہ میں بہت زیادہ بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلا دو، اس فقیر کی صدا سن کر وہ عورت دروازے پر آئی، تو فقیر نے عورت سے کہا: ’’تم مجھے جتنی روٹیاں دوگی اللہ ذو الجلال والاکرام تمہیں اتنے ہی بیٹوں سے نوازیں گے، یہ سن کر اس عورت نے فقیر کو چار روٹیاں پکا کر دیں اور اللہ کے کرم سے اس کے ہاں چار بیٹے ہوگئے، اس طرح وہ عورت خوش وخرم اپنی زندگی گزارنے لگی۔
ایک بار حضرت موسی e کا اس عورت کے گھر کے پاس سے گزر ہوا تو اس عورت نے آپ سے کہا: آپ نے تو کہا تھا کہ میری کوئی اولاد نہیں ہوگی، یہ دیکھیں میرے چار بیٹے ہیں، حضرت موسی e کو بڑا تعجب ہوا وہ کوہ طور پر گئے اور اللہ پاک سے سوال کیا:یا اللہ! آپ نے تو فرمایا تھا کہ اس عورت کی کوئی اولاد نہیں ہوگی مگر اس کے تو چار بیٹے ہیں، معاملہ کیا ہے؟
اس پر اللہ تعالی نے انہیں ایک پلیٹ اور ایک چھری دی اور فرمایا: تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل جائےگا، مگر پہلے تم جاؤ اور اس پلیٹ میں مجھے کہیں سے انسانی گوشت لا کر دو، موسی e نے وہ پلیٹ اور چھری لی بستی کی طرف آگئے اور بستی والوں کو اکٹھا کرکے کہا کہ اللہ تعالی نے انسانی گوشت منگوایا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی انسان اپنا گوشت دینے پر راضی نہ ہوا، موسی e ساری بستی میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک انسان سامنے آیا اور آپ سے سوال کیا کہ کیا بات ہے موسی؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں، اس کے پوچھنے پر موسی e نے اس سے کہا کہ اللہ تعالی نے انسانی گوشت منگوایا ہے، مگر کوئی بھی یہاں اس بات پر راضی نہیں ہو رہا۔
یہ سننا تھا کہ اس انسان نے چھری اٹھائی اور اپنے جسم کے کئی حصوں سے گوشت کاٹ کر حضرت موسی e کو دے دیا، آپ نے وہ گوشت کوہ طور پر لے جاکر اللہ تعالی کے حوالے کردیا، اس پر اللہ پاک نے ان سے کہا: تمہیں اس بستی میں جانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ تم اپنا گوشت بھی تو دے سکتے تھے مجھے، آخر تم بھی انسان ہو، تم نے اپنا گوشت کیوں نہیں دیا، امید ہے تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل گیا ہوگا، وہ انسان جس نے میرے کہنے پر اپنا گوشت تک دے دیا، میں نے بھی اسی کے کہنے پر ہی اس عورت کو چار بیٹے عطاء کئے، اے موسی! اگر کوئی میرے کہنے پر اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے تو میں بھی اس کے کہنے پر اپنا فیصلہ بدل دیتا ہوں‘‘۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
روایت:جس میں مسواک کے تقریباً چوّن (۵۴) فضائل مذکور ہیں۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنی اہلیہ سے ہمبستر ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ اگر یہ حاملہ ہوگئی تو میں اس بچے کا نام محمد رکھوں گا، تو اللہ اسے لڑکا عطا فرمائیں گے، اور جس گھر میں محمد نام کا شخص ہوگا اللہ اس گھر میں خیر وبرکت فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا رات کے وقت فرشتوں کی ایک جماعت کو حکم دینا کہ فلاں ناپسند بندہ کو تھپکی دے کر سلائے رکھو، فلاں محبوب بندہ کوپَر مار کر تہجد کےلئے بیدار کردو، اور فلاں فلاں مقرب بندہ کو کروٹ دے دو، وہ چاہیں عبادت کریں یا سوتے رہیں، میں ان سے راضی ہوں‘‘۔
روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔