حضرت شبلی l کی جانب اس حکایت کی نسبت غلط ہے۔
تفصیل
سوال: اسلاف صوفیہ کرام سے
بعض موحِش باتیں منقول ہیں، جن سے
بظاہر مصادمتِ [ٹکراؤ ] شریعت کا اشتباہ ہوتا ہے، {في تلبیس
إبلیس لأبي الفرج ابن الجوزي}.ص: ۴۷۰، فاروقی دہلی میں ہے:
{عن أبي بکر الذلف الصوفي، قال : سمعت الشبلي وقد سأله شاب: یا أبا بکر! لم تقول: الله، ولا تقول: لا إله إلا الله، فقال الشبلي: أستحيي أن أوجه إثباتا بعد نفي، فقال الشاب: أرید حجة أقوى من هذه، فقال: أخشى أن آخذني [كذا في الأصل، والصحيح: أن أوخذ في] کلمة الجحود والأصل [كذا في الأصل، والصحيح: ولا أصِلُ] کلمة الأقرار} اه.
[حاصل یہ ہے کہ حضرت شبلی l سے ایک نوجوان نے کہا کہ آپ صرف لفظِ ”اللہ“ کا ورد کرتے ہیں،مکمل ”لا الہ الا اللہ“ کیوں نہیں کہتے؟ حضرت شبلی l نے کہا کہ مجھے اس سے حیاء آتی ہے کہ کلمہ میں موجود اثبات کو،نفی کے بعد لاؤں، نوجوان نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ قوی دلیل چاہئے، حضرت شبلی l نے کہا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کلمۂ اقرار تک پہنچنے سے پہلے، کلمۂ انکار ہی میں مجھے گرفت میں لے لیا جائے]۔
اس سے تو کلمۂ
توحید پر بلکہ جتنے کلمات کے متعلق حضرت نے اسمِ اعظم کا اطلاق فرمایا ہے، ان پر
کلمۃ الجحود کا اطلاق لازم آتا ہے، اور {من کان آخر کلامه لا إله إلا الله} وغیرہ پراعتراض
ہوتا ہے، جن حضرات کا مدارِ کار، محض اتباع پر ہے، ان سے ایسے بے باکانہ الفاظ موجبِ حیرت
ہیں، حضرت والا کا ان حضرات سے غایت ِشغف اور خلوصِ محبت اور مجھ ایسے [كذا في الأصل] بد باطن کا ان حضرات کی طرف کسی قدر کم توجہی، مجھے موجبِ
خطر معلوم ہوتا ہے کہ میرا کیا انجام ہوگا،بندہ کو حاملانِ شریعت بالخصوص حضراتِ
محدثین سے دلی جذبات معلوم ہوتا ہے،ان سے کم حضرات فقہاء سے،مگر انیس بیس کا فرق
ہے،
اور حضرات صوفیہ کرام صاحبِ احوال معلوم ہوتے ہیں کہ جو قابلِ اتباع نہیں ہیں، {إلا من کان جامعا}.
پس حضور! بندہ کے متعلق ارشاد فرمادیں کہ اگر ایسا خیال مضر دین ہے تو میں توبہ اورانابت کروں، اور نفس کو مجبور کروں کہ کسی طرح اس کو بد گمانی نہ ہو، یا جیسا ارشاد ہو ۔
الجواب: اول تو اس نسبت ہی کی کوئی سند صحیح نہیں، اور ابن الجوزی l کا نقل کرنا حجت نہیں، ان کا تشدد مشہور ہے جس کے الوان مختلف ہیں، حدیث میں تو ثابت کو غیر ثابت کہنے سے،اور صوفیہ کے باب میں غیر ثابت کو ثابت ماننے سے،گو منشا اس کا نیک نیتی ہے، مگر نیک نیتی سے واقعہ تو نہیں بدل جاتا، حکمِ آخرت ہی بدلتا ہے،غرض قصہ بسَنَد ثابت نہیں، اور اس کا معارض ـ یعنی ان بزرگوں کا اتباع واخلاص، اخبارِ متواتر ہ سے اور مِنْ ظن مقبولین سے، جو کہ ظہور ہے مضمون {أنتم شهداء الله في الأرض} کا ـ ثابت ۔
پس ایسے جرح وتعدیل کے تعارض کے وقت تعدیل کو ترجیح ہو گی، اس لئے اس نسبت کو غلط کہا جاوے گا۔
دوسرے حضرت شبلی l کا مجاذیب میں سے ہو نا قوم میں معروف ہے، اور مرفوع القلم پر ملامت نہیں۔
تیسرے اثبات بعد النفی کو منکر یا اس کو کلمۃ الجحود قرار دینا واقع کے اعتبار سے نہیں، بلکہ عذر ہے اپنے نہ کہنے کا، اپنے ایک نقص کے اظہار سے کہ اس کے تلفظ کے وقت ایسے وساوس مستحضر ہو جاتے ہیں، ان وساوس سے بچنے کےلئے دوسرا کلمہ اختیار کر لیا، جیسا صیغہ {أستحيي}، {أخشى} اس طرف مشیر ہے، ورنہ اپنے دوسرے متعلقین کو بھی منع کرتے، اور قرآن کی تلاوت کو بھی جائز نہ سمجھتے ۔
ہف [كذا في الأصل] جیسے بعض فقہا ء نے معذور عن تصحیح الظاء کےلئے رکوع میں بجائے {سبحان ربي العظیم}کے جو کہ ماثور ہے، {سبحان ربي الکریم} کہنے کا حکم دیا ہے، اور جیسے حسن بصری l، ابن سیرین l کے [كذا في الأصل] یا ابن سیرین l نے حسن بصری l کے، جنازہ کی نماز باوجود حاضر ہونے کے نہیں پڑھی، اور عذر کیا کہ میں تحصیل اخلاصِ نیت کی کوشش میں رہا، اور نماز سے فراغ ہو گیا، اور ان کا سید المحدثین ہونا مسلم ہے، اور ایسے احوال ابتداء میں پیش آتے ہیں،اور انتہاء کے بعد تو اعمالِ مسنونہ ہی میں نسبت احسان کی، حاصل ہو نے لگتی ہے، اور خلافِ سنت حجاب ہو نے لگتا ہے، جیسےقرآن سے پہلے الف،با، تا، پڑھتے ہیں،اور بظاہر تارک ِقرآن معلوم ہوتے ہیں، پھر بعد مشغولی کے، قرآن کے وہی مقدمات حجاب ہو جاتے ہیں، اور جوابِ اول انفع واسہل ہے، اور ثانی امنع واعدل، اور ثالث اجمع اکمل، اور آپ نے جو محبت کی ترتیب اور صوفیہ کے متعلق خیال لکھا ہے اس کا منشا دین ہے، اور نجات کے لئے کافی ہے، اور بالکل بے خطر ہے،خطرِ مبغوضیت میں ہے، میرے قلب میں ترتیب بالکل اس کا عکس ہے اس کا منشا بھی بحمدہ تعالیٰ دین ہی ہے، {وکلنا على هدى إن شاء الله تعالى}[1]۔
حوالہ جات
[1] تربیت السالک : صوفیہ کرام کی مُوحِش کلام سے بدگمانی پیدا ہو نے کا ازالہ،۲/۱۲۵۳، ۱۲۵۴، دارالاشاعت، کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
روایت : ”حضورﷺ نے عیسی e کی نسبت یہ فرمایا کہ اگر ان کو زیادہ یقین ہوتا تو ہوا پر چلتے “، علامہ عراقی l نے اسے منکر کہا ہے۔
بعض اعراب لگے قرآن حضرت علی r کی جانب منسوب کرنا غلط ہے۔
حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔