یہ کہنا کہ حضرت حمزہ r پندرہ شعبان کو فوت ہوئے ہیں، درست نہیں، بلکہ آپ r شوال میں فوت ہوئے ہیں۔
تفصیل
”۔۔۔ [شب برأت میں] کھانے میں توسیع بھی کہیں منقول نہیں، جیسے عاشورہ میں بعض روایات وارد ہیں، مگر لوگوں نے اس میں حلوے کا اختراع کیا ہے، اس کے بارے میں عجیب عجیب روایات گھڑی ہیں، چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ r کی اس تاریخ کو وفات ہوئی تھی یہ ان کی فاتحہ ہے، یہ واقعہ تاریخ کے بالکل ہی خلاف ہے، کیونکہ وفات حضرت حمزہ r کی شعبان میں نہیں ہوئی، بلکہ شوال میں ہوئی ہے، اگر کہو کہ وفات گو شعبان میں نہیں ہوئی مگر جو شعبان بعد میں آیا تھا اس میں ان کی فاتحہ دلائی گئی تھی،تو جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو اتنے دنوں بعد فاتحہ کیسی، پھر تم اس کا ثبوت دو کہ شعبان میں ان کی فاتحہ دلائی گئی تھی، اور یہ بھی ثابت کرو کہ اس میں حلوہ ہی پکا تھا “[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : اصلیت آتش بازی ،۷/۳۹۸ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
حافظ ابن الاثیر ؒ نے ”اسد الغابہ“(۲/۶۷)میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہ ؓ کی شہادت جنگ
احدمیں،۱۵ شوال بروز
ہفتہ ہوئی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”شبِ برأت یعنی پندرہ شعبان میں آ پ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا“، یہ گھڑی ہوئی بات ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
ایام میں سعادت ونحوست کا مسئلہ، شیعہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے، مگر یہ روایت من گھڑت ہے۔
روایت : ”حضرت ہندہ R کو آپ ﷺ نے اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا“، بے اصل ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔