ایام میں سعادت ونحوست کا مسئلہ، شیعہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے، مگر یہ روایت من گھڑت ہے۔
تفصیل
”۔۔۔
بعض
لوگوں کو قرآن کی اس آیت (فأرسلنا
عليهم ريحا صرصرا في أيام نحسات) (القمر آیت نمبر 19) ”تو ہم نے ان پر ایک ہوائے تند، ایسے دنوں میں بھیجی جو (ان کے حق میں ) منحوس
تھی“، سے شبہ ہوگیا ہے کہ بعض ایام بھی منحوس ہوتے ہیں،مگر انہوں نے یہ نہیں دیکھا
کہ (أيام نحسات) کی تفسیر دوسری آیات میں (سبع ليال وثمنية أيام) وارد ہوئی ہے، تو اس کو ملا کر یہ لازم آئے گا کہ کوئی دن
بھی مسعود نہیں، بلکہ سب ایام منحوس ہی ہیں، اور اس کا کوئی قائل نہیں، لہٰذا اس
سے استدلال
صحیح نہیں ہوسکتا ۔
دراصل ایام میں سَعْد ونَحْس کا مسئلہ اہل نجوم کا اختراع ہے، اور شیعہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے بھی اس کو منسوب کیا ہے،مگر وہ روایت موضوع ہے، شریعت میں بعض ایام متبرک تو ہیں، مگر منحوس کوئی دن نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : سعادت ونحوست کی حقیقت، ۱/۴۵۱، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
اس روایت کا علم نہیں ہو سکا،البتہ علامہ آلوسی ؒ نے اپنی ”تفسير“(۲۷/۸۷)میں(أيام نحسات)کے تحت حضرت علی ؓ کے انتساب سے ایام میں سعْد ونحْس پر مشتمل اشعار نقل کرکے ”لا یصح“ کہا ہے،اشعار یہ ہیں:
فنعم اليوم (يوم السبت) حقا لصيد إن أردت بلا امتراء
وفي (الأحد) البناء لأن فيه تبدى الله في خلق السماء
وفي (الاثنين) إن سافرت فيه سترجع بالنجاح وبالثراء
ومن يرد الحجامة (فالثلاثا) ففي ساعاته هرق الدماء
وإن شرب امرأة يوما دواء فنعم اليوم يوم (الأربعاء)
وفي (يوم الخميس) قضاء حاج فإن الله يأذن بالقضاء
وفي (الجمعات) تزويج وعرس ولذات الرجال مع النساء
وهذا العلم لا يدريه إلا نبي أو وصي الأنبياء
علامہ سیوطی ؒ نے ”الشماريخ فی علم التاريخ“ (ص:۲۸)میں ان اشعار کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت علی ؓ کی جانب ان اشعار کو منسوب کرنا قابلِ نظر ہے۔
ملتی جلتی احادیث
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
روایت: ”میں اس بات پر خدا کا شکر کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت اور علی rکی ولایت سے راضی ہے“، یہ بالکل غلط روایت ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: {تلك الغرانیق العُلى وإن شفاعتها لتُرْتَجى}. اس قصہ کو قاضی عیاض l اور اکثر محققین نے نقلاً و عقلاً رد کیا ہے۔
روایت: ”جب معاویہ r کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو“، من گھڑت ہے۔