روایت: ”انگوٹھوں میں رگِ محبت ہے“، یہ حدیث من گھڑت ہے۔
تفصیل
”۔۔۔اور یہ حدیث موضوع ہے کہ انگوٹھوں میں رگِ محبت ہے “[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :مصافحہ کی مشہور ترکیب موضوع ہے، ۲۰/۱۸۱، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
”رد المحتار“(۹/۵۴۸)میں،دورانِ مصافحہ انگھوٹا پکڑنے کو سنت نقل کیا ہے،نیز بحوالہ قُہُسْتَانی نقل کیا ہے کہ حدیث میں ہے کہ انگھوٹے میں ایک رگِ محبت کو ابھارتی ہے،عبارت ملاحظہ ہو: {(قوله: وتمامه إلخ) ونصه: وهي إلصاق صفحة الكف بالكف، وإقبال الوجه بالوجه، فأخذ الأصابع ليس بمصافحة خلافا للروافض، والسنة أن تكون بكلتا يديه، وبغير حائل من ثوب أو غيره، وعند اللقاء بعد السلام وأن يأخذ الإبهام، فإن فيه عِرْقا ينبت المحبة كذا جاء في الحديث ذكره القُهُسْتَانِي وغيره اهـ}. بندہ کو روایت ہذا کا کوئی تذکرہ وسند کتبِ حدیث میں نہیں مل سکی۔
ملتی جلتی احادیث
مصافحہ میں انگوٹھوں کو دبانا، بے اصل ہے۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
اذان میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔