التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘، یہ الفاظ مجموعی طور پر کہیں نہیں ہیں، بلکہ دو حدیثوں سے مرکب ہیں۔

تفصیل

’’سوال: کیا ×النكاح من سنتي فمن رغب...÷. [نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے]پوری ایک حدیث ہے؟

جواب: حدیث: ×النكاح من سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني÷. [نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے] زبان زد خواص بلکہ عوام ہے، اور بعض فقہاء جیسے ابو القاسم الرافعی صاحبِ ’’فتح العزیز‘‘ نے اسی طرح نقل کی ہے، لیکن ان الفاظ سے کتب حدیث میں موجود نہیں۔ بلکہ ابن ماجہ l(ص :۵۶۷/۱)نے حضرت عائشہ R سے نقل کیا ہے :

×قال النبي صلى الله عليه وسلم: النكاح من سنتي فمن لم يعمل بسنتي فليس مني الحديث، وفي إسناده عيسى بن ميمون وهو ضعيف÷. [نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے،اور اس کی سند میں عیسی بن میمون ضعیف راوی ہے]

صحیحین میں حضرت انس r کی ایک حدیث میں: ×لكني أصوم وأفطر وأصلي وأنام، وأتزوج، فمن رغب عن سنتي فليس مني÷. [لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، آرام بھی کرتا ہوں، اور نکاح بھی کرتا ہوں، سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے]وارد ہوا ہے۔

 اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ لفظ مشہور مجموعی طور پر کہیں نہیں ہے، بلکہ دو حدیثوں سے مرکب ہے، جزء اول ’’ابن ماجہ‘‘ کی حدیث کا ٹکڑا ہے اور جزء ثانی ’’صحیحین‘‘ کی حدیث کا‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ : کیا النکاح من سنتی فمن رغب...پوری ایک حدیث ہے ؟ ۲/۴۷۸۔