روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے محبت کی کسی ایسے عدل کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والوں میں سے تھا، اللہ اس سے اس کی محبت پر اسے اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ جنت والوں میں سے کسی شخص سے محبت کرتا، اور جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے بغض رکھا کسی ایسے ظلم کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق جنت والوں میں سے تھا، اللہ اس شخص کو اس سے بغض رکھنے پر اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ دوزخ والوں میں سے کسی شخص سے بغض رکھتا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تنبیه الغافلین:ص:۴۸۲،رقم:۷۵۲،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[2] الطبقات الكبرى:5/72،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[3] شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة من الكتاب والسنة وإجماع الصحابة والتابعين من بعدهم:2/7۶۴، رقم:1276،1277،ت:أحمد بن سعد بن حمدان الغامدي،دارطيبة ـ الرياض،الطبعة الرابعة1416هـ .
[4] الجامع لشعب الإيمان:12/79،رقم:9076،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[5] تاريخ مدينة دمشق:54/336،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت:’’یہودیوں کی ایک جماعت کا آپﷺ سے چند سوال کرنا: 1 پانچ نمازوں اور ان کے ثواب سے متعلق 2 رمضان کے تیس روزوں اور ان کے ثواب سے متعلق 3 آپﷺ کی نبیوں پر کیا فضیلت ہے؟ آپﷺ کے جوابات سننے کے بعد یہودی ایمان لے آئے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی حاجیوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب مزدلفہ کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی تاجروں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب منی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی اونٹ والوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب جمرہ عقبہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی سوال کرنے والے کی مغفرت فرماتے ہیں، جو کوئی بھی اس جگہ حاضر ہوا ہو، اس کی ضرور مغفرت کردی جاتی ہے‘‘۔