روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی حاجیوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب مزدلفہ کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی تاجروں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب منی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی اونٹ والوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب جمرہ عقبہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی سوال کرنے والے کی مغفرت فرماتے ہیں، جو کوئی بھی اس جگہ حاضر ہوا ہو، اس کی ضرور مغفرت کردی جاتی ہے‘‘۔
حکم: حافظ ابن حبان lنے مذکورہ سیاق سے منقول زیر بحث روایت کے نبی ﷺ کے کلام ہونے کی نفی کی ہے، اور امام دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’یہ مالک l کی حدیث سے منکر ہے‘‘، ایک دوسرے مقام پر امام دار قطنیl فرماتے ہیں: ’’یہ باطل ہے، اسے عبد الغنی نے عبد الرزاق پر گھڑا ہے‘‘، اور حافظ ابن جوزیl نے اسے ’’من گھڑت ‘‘ قرار دیا ہے، اسی طرح حافظ ذہبیl نے بھی اس روایت کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا ہے، نیز سند کے راوی ابو عبد الغنی حسن بن علی کو حافظ ابن حبان l، حافظ ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l، حافظ ابو نعیم l، حافظ ابن قیسرانی l،حافظ ابن جوزی l اور حافظ ذہبی l نے حدیث گھڑنے والا قرار دیا ہے، اس لئے اسے رسول اللہﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ رجال کا کلام
حوالہ جات
[1] المجروحين:1/240،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
وكذا في المجروحين:1/291،رقم:222،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الثالثة1433هـ .
[2] كتاب الموضوعات:۲/۲۱۵،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[3] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:۱/۱۲۶،ت:مصطفى بن أحمد العلوي ومحمد عبد الكبير البكري،الطبعة1387هـ .
حافظ ابن عبد البر l نے اسے اس مقام پر تین طرق سے تخریج کیا ہے۔
[4] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:۱/۸۰۰،رقم:۳۸۱،ت:العربي الدائز الفرياطي،جمعية دار البر ـ دبئي، الطبعة الأولى1439هـ .
[5] تاريخ مدينة دمشق:۱۳/۳۱۳،رقم:1392،وكذا في:46/324،رقم:۵۳۸۸،وكذا في:62/12،رقم:7848، ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴18هـ .
[6] حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘ میں اس امر کو ان الفاظ سے ذکر کیا ہے: ’’وقال أبو نعيم والحاكم: حدث عن مالك أحاديث موضوعة، وتعقب ذلك ابن عساكر بأنه ما أدرك مالكا، قلت: والحديث الذي أورده له ابن حبان، قد أخرجه الدارقطني في الغرائب من طريقه، أخرجه من وجهين عنه، لكن زاد بين الحسن ومالك: عبد الرزاق، وقال: باطل، وضعه أبو عبد الغني على عبد الرزاق، وكذا ساقه ابن عساكر في ترجمته، عن ابن السمرقندي، عن ابن النقور، عن أبي سعد الإسماعيلي، عن ابن عدي، عن عمر بن سعيد بن سنان شيخ ابن حبان، فالظاهر أن عبد الرزاق سقط من النسخة التي نقل منها الذهبي‘‘. (لسان الميزان:3/78،رقم: 2326،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ) .
[7] المجروحين:۱/۲۴۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[8] كتاب الموضوعات:۲/۲۱۶،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[9] تاريخ دمشق:13/313،ت:عمر بن غرامه العمروی،دار الفکرـ بیروت،الطبعة۱۴۱۸ هـ .
[10] لسان الميزان:3/78،رقم: 2326،ت: عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
حافظ ابن حجر عسقلانی l کے مذکورہ قول کا مکمل بیان پہلے گزر چکا ہے۔
[11] اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:2/105،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[12] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:۱/۱۲۷،ت:مصطفى بن أحمد العلوي ومحمد عبد الكبير البكري،الطبعة1387هـ .
حافظ ابن عبد البر l نے اسے اس مقام پر تین طرق سے تخریج کیا ہے۔
[13] تذكرة الحفاظ:ص:42،رقم79،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[14] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:210،رقم:515،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .
[15] تاريخ الإسلام:۶/6۹،رقم:۱۶۱،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .
[16] المجروحين:۱/۲۴۰،رقم:219ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[17] الأنساب:10/419،رقم:3242،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .
[18] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:92،رقم:218،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[19] الكامل في الضعفاء:۳/۱۹۱،رقم:472،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[20] المدخل إلى الصحيح:ص:128،رقم:36،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[21] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:۴۸،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[22] تاريخ مدينة دمشق:۱۳/۳۱۲،رقم:1392،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴18هـ .
[23] ديوان الضعفاء:ص:۸۳،رقم:۹۲۶،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[24] ميزان الاعتدال:۴/237،رقم:8981 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[25] تنزيه الشريعة:۱/49،رقم:40،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[26] قوة الحجاج في عموم المغفرة للحجاج:ت:سمير حسين حلبي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو یا اس کے پاس سے گزرے، اور اس نے سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص اور سورۂ تکاثرایک بار پڑھی، اور پھر اس نے کہا: (اے اللہ!) میں نے تیرے کلام میں سے جو پڑھا، میں اس کا ثواب قبرستان کے مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے کرتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اس بندے کےلئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہوں گے، باوجودیکہ میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا، شفاعت کی اجازت دئیے جانے والا ہوں گا‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے، وہ لوگ بخار میں مبتلا تھے، حضور ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے: حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تو صُعَیب موجود ہے، (یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادی بطحان میں ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صُعَیب کو کیا کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لعاب ڈالو: ’’بسم الله، تراب أرضنا بريق بعضنا شفاء لمريضنا بإذن ربنا‘‘، ان حضرات نے اس کا استعمال کیا، اللہ کے فضل سے بخار جاتا رہا‘‘۔