روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تنبیه الغافلین:ص:۴۸۱،رقم:۷۵۰،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[2] سنن ابن ماجه:2/1413،رقم:4228،ت:محمد فؤاد عبد الباقي,دار إحياء الكتب العربية ـ حلب .
[3] حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’النکت الظراف‘‘ میں اس روایت کے تحت فرماتے ہیں:
’’قلت: هو عند ت في الحديث الذي أوله: ثلاث أقسم عليهن، وهو قبل هذا سواء، قوله: رواه شعبة، عن الأعمش... إلى آخره، قلت: المحفوظ عن شعبة ما رواه غندر وأبو زيد الهروي عنه، عن الأعمش، سمعت سالما، عن أبي كبشة، فالقائل سمعت هو الأعمش، لا سالم، ولم يسمع سالم من أبي كبشة، وقد أخرجه أبو عوانة في صحيحه، من طريق جرير، عن منصور، عن سالم قال: حدثت عن أبي كبشة‘‘. (النكت الظراف على الأطراف تحت تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف:9/274،رقم:12146،ت:عبدالصمد شرف الدین،المکتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰3 هـ) .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج حجة الإسلام، وغزا بعدها غزوة كتبت غزاته بأربع مائة حجة، قال: فانكسرت قلوب قوم لا يقدرون على الجهاد، ولا الحج، قال: فأوحى الله عز وجل إلي: ما صلى عليك أحد إلا كتبت صلاته بأربع مائة غزاة، كل غزاة بأربع مائة حجة‘‘. جو شخص حج اسلام کرلے اور اس کے بعد جہاد کرے، تو اس کا جہاد چار سو حج کے ساتھ لکھا جائے گا، علی r فرماتے ہیں: ان لوگوں کے دل ٹوٹ گئے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی حج کی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی نازل فرمائی: جو آپ پر درود پڑھے گا، اس کا درود چار سو جہاد کے ساتھ لکھا جائے گا، ہر جہاد چار سو حج کے ساتھ‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔