اذان کے بعددعائے وسیلہ میں لفظ ×الدرجة الرفيعة÷ مجموعی طور پر ثابت نہیں ہے،اسی طرح ×وارزقنا شفاعته يوم القيامة÷ کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملے، ہاں اس کے ہم معنی الفاظ وارد ہیں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیہ: دعائے اذان میں الدرجۃ الرفیعۃ اور وارزقنا شفاعتہ کا ثبوت ؟ ۱/۱۵۳ ـ ۱۵۶۔
پہلے اضافے یعنی ’’الدرجۃ الرفيعۃ‘‘ کے بارے میں علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء ‘‘(۱/ ۴۵۶، رقم:۱۲۸۹)میں،علامہ محمد درویش l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۶۷۰)میں اور علامہ قاؤقجی l نے ’’اللؤلؤ الموصوع‘‘ (رقم:۱۹۸)میں حافظ سخاوی lکے قول پر اکتفاء کیا ہے،حضرت مولانا انورشاہ کشمیری l’’العرف الشذی‘‘ (۱/۲۲۳)میں ان دونوں الفاظ: ’’الدرجۃ الرفيعۃ‘‘ اور ’’وارزقنا شفاعتہ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی کوئی اصل نہیں ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نکاح میری سنت میں سے ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘، یہ الفاظ مجموعی طور پر کہیں نہیں ہیں، بلکہ دو حدیثوں سے مرکب ہیں۔
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ یا اسّی سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘۔
اس کے الفاظ تو ثابت نہیں ہیں،لیکن معنی ثابت ہے
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔