روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
تفصیل
”بعض لوگوں نے اس مضمون کی احادیث بھی گھڑی ہے جن سے معاذ اللہ حضورﷺ کا خدا ہونا ثابت کیا ہے، چنانچہ ایک حدیث یہ گھڑی ہے: {أنا عرب بلا عین}. اس کے الفاظ ہی بتلا رہے ہیں کہ کسی جاہل نے فرصت میں بیٹھ کر گھڑی ہے،بھلا حضورﷺ کو اس چیستان [پہیلی] کی کیا ضرورت تھی، آپ نے صاف ہی کیوں نہ فرمایا : {أنا رب}. ہیر پھیر کے ساتھ {أنا عرب بلا عین} کہنے کی کیا ضرورت تھی، پھر اس سے مدعا کیونکر حاصل ہوا، کیونکہ عرب میں بامشدّد نہیں ہے، مخفّف ہے تو عین نکال کر ”رَبْ“ بلا تشدید باقی رہا، اور یہ کوئی لغت نہیں ہے، رَبّ بالتشدید ثابت نہ ہوا۔
دوسرے آپ عرب کہاں تھے، آپ تو عربی تھے، پھر {أنا عرب} میں حمل کیوں کر صحیح ہوگا، حدیث ہی گھڑی تو ایسی جس کے سر نہ پاؤں، جس میں ایک ادنی طالب علم بھی غلطیاں نکال سکتا ہے، حالانکہ حضور ﷺ ایسے فصیح وبلیغ تھے کہ آپ کے کلام میں کسی کی مجال نہیں کہ انگلی بھی دھر سکے، اسی لئے محدثین نے فرمایا ہے کہ رکاکت ِ الفاظ بھی حدیث کے موضوع ہونے کی علامت ہے، اور یہاں تو رکاکتِ الفاظ کے ساتھ مضمون بھی رکیک ہے، کیونکہ اس سے ربّ ہونا نہیں نکلتا، بلکہ ”ربْ“ نکلتا ہے، اور ”ربْ “ بلا تشدید ایک مہمل لفظ ہے“[1]۔
حوالہ جات
[1] اشرف الجواب : باب دوم ،بعض لوگوں نے حضور ﷺ کے خدا ہونے کی حدیثیں گھڑی ہیں، ص : ۸۲، دارالاشاعت، کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: {أنا أحمد بلامیم}. میں بلا میم، احمد ہوں (معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔