روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
باب: حضرت عثمان و علی
حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے فضائل و واقعات۔
گروپ: صحابہ و اہلِ بیت
19 روایات
روایت:’’حضرت علی r فرماتے ہیں: جب نبیﷺ نے میری آنکھوں میں لعاب ڈالا تو مجھے شام کی پہاڑیاں مدینہ سے نظر آنے لگیں‘‘۔
روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
حضرت عثمان بن عفانr کانبی اکرمﷺ کو دعوت دینااور آپﷺ کے قدموں کو شمار کرنا
نماز کی جانب جاتے ہوئے ایک بوڑھے شخص کے احترام میںحضرت علیr کاان سے آگے نہ چلنا ،اور اس پر ان کا اعزاز
نبی اکرمﷺ کی حضرت علی r کوسوتے وقت پانچ ہدایات
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ایک شخص کو مسجد میں سویا ہوا دیکھ کر حضرت علی r سے فرمانا: اے علی!اسے جگا دو، تاکہ وضو کر لے، پھر حضرت علی r کے پوچھنے پر بذات خود نہ جگانے کی یہ وجہ بیان فرمانا کہ مبادا انکار کر بیٹھتا اور میرے کہنے پر انکار کفر ہوجاتا، تیرے کہنے سے انکار کفر نہیں ہوگا‘‘۔
’’حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی صراط پر سے نہ گزرے گا، نیز قبرمیں سب سے حضرت علی r کی امامت کا سوال کیا جائےگا‘‘، یہ روافض کی روایات ہیں۔
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی‘‘، یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے۔