التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)

روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔

تفصیل

حوالہ جات

[1]  عمدة التحقيق في بشائر آل الصديق:ص:78،مطبعة جمعية المعارف،الطبعة1287هـ .

[2]  بهجة النفوس وتحليها بمعرفة ما لها وما عليها:3/27،دار الجيل ـ بيروت،الطبعة الثالثة .

’’ بهجة النفوس‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وكما فعل علي رضي الله عنه مع أبي بكر رضي الله تعالى عنه في السلام، لأن عليا رضي الله عنه كان إذا لقي أبا بكر رضي الله عنه ابتدأه بالسلام، فلما أن كان يوما لقيه فلم يسلم عليه، فابتدأه أبو بكر بالسلام، ورد عليه علي، فجاء أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر له ذلك، فإذا بعلي قد جاء، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما منعك أن تبتدئ أبا بكر اليوم بالسلام؟ فقال: يا رسول الله! إني رأيت البارحة قصرا في الجنة فأعجبني، فقلت: لمن هذا؟ فقيل: لمن يبتدئ أخاه بالسلام، فأردت أن أوثر اليوم أبا بكر به على نفسي‘‘.

[3]  نزهة المجالس:1/254،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .

ملتی جلتی احادیث