التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی‘‘، یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے۔

تفصیل

’’سوال: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی، صحیح ہے یا غلط ؟

جواب: یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1]  باقیات فتاوی رشیدیہ : حضرت علی r  کی تدفین سے متعلق ایک معروف روایت کی حقیقت ، ص: ۲۸،دار الکتاب  لاہور ۔

حافظ ابن تیمیہ l نے ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ ( ۴/۳۰۴)میں حضرت علی r  کی جانب منسوب اس وصیت کو جھوٹ قرار دیا ہے،اور کہا ہے کہ اہل علم کے نزدیک یہ معروف ہے کہ ان کی قبر کوفہ  ’’قصر الامارہ‘‘  میں ہے،عبارت یہ ہے:

{الحمد لله رب العالمين، أما ما ذكر من توصية أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه إذا مات، أرْكِب فوق دابته وتُسِيِّب ويُدْفَن حيث تَبْرُك وأنه فُعِل ذلك به، فهذا كذب مختلق باتفاق أهل العلم، لم يوص علي بشيء من ذلك ولا فعل به شيء من ذلك ولم يذكر هذا أحد من المعروفين بالعلم والعدل، وإنما يقول ذلك من ينقل عن بعض الكذابين، ولا يحل أن يفعل هذا بأحد من موتى المسلمين ولا يحل لأحد أن يوصي بذلك، بل هذا مثلة بالميت ولا فائدة في هذا الفعل، فإنه إن كان المقصود تعمية قبره فلا بد إذا بركت الناقة من أن يحفر له قبر ويدفن فيه، وحينئذ يمكن أن يحفر له قبر ويدفن به بدون هذه المثلة القبيحة، وهو أن يترك ميتا على ظهر دابة تسير في البرية.

 وقد تنازع العلماء في موضع قبره، والمعروف عند أهل العلم أنه دفن بقصر الإمارة بالكوفة، وأنه أخفي قبره لئلا ينبشه الخوارج الذين كانوا يكفرونه ويستحلون قتله... }.

حافظ ابن کثیر l نے بھی  ’’البدایہ والنہایہ‘‘ (۱۱/۲۰) میں حافظ ابن تیمیہ l کے موافق تفصیل لکھی ہے،ملاحظہ ہو:

{والمقصود أن عليا رضي الله عنه لما مات صلى عليه ابنه الحسن فكبر عليه تسع تكبيرات، ودفن بدار الإمارة بالكوفة خوفا عليه من الخوارج أن ينبشوا عن جثته، هذا هو المشهور، ومن قال إنه حمل على راحلته فذهبت به فلا يدري أين ذهبت فقد أخطأ وتكلف ما لا علم له به، ولا يسيغه عقل ولا شرع، وما يعتقده كثير من جهلة الروافض من أن قبره بمشهد النجف فلا دليل على ذلك ولا أصل له... }.

ملتی جلتی احادیث