روایت: ’’ آپ ﷺ کا ایک شخص کو مسجد میں سویا ہوا دیکھ کر حضرت علی r سے فرمانا: اے علی!اسے جگا دو، تاکہ وضو کر لے، پھر حضرت علی r کے پوچھنے پر بذات خود نہ جگانے کی یہ وجہ بیان فرمانا کہ مبادا انکار کر بیٹھتا اور میرے کہنے پر انکار کفر ہوجاتا، تیرے کہنے سے انکار کفر نہیں ہوگا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مفاتيح الغيب:32/29،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابی r کی عمر میں سے صرف ایک گھڑی باقی رہنے کی صورت میں آپ ﷺ کا ان کو اس وقت حصولِ علم میں مشغول ہونے کا فرمانا۔
روایت: حضرت بلال r کا اذان میں لفظ حَیَّ کو عاجزی سے ہَیَّ پڑھنا، اور منافقین کا اس پر اعتراض کرنا اور یہ مطالبہ کرنا کہ کوئی فصیح مؤذن لے آئیں، اور آپ ﷺ کا غصہ میں منافقین سے فرمانا کہ اللہ تعالی کے نزدیک بلال کا ہَیَّ شور وغل کے سینکڑوں حَیَّ اور حَیَّ سے بہتر ہے۔
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔