روایت: ’’جس نے نہایت سکون کے ساتھ نماز پڑھی، اللہ رب العزت جنت میں ایک فرشتہ کو حکم فرماتے ہیں، وہ فرشتہ جنت کے ایک دریا کے اندر غوطہ لگا کر باہر نکلتا ہے، اس کے پروں سے پانی کے جتنے قطرے ٹپکتے ہیں ،اتنی نیکیاں اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں‘‘۔
باب: ترکِ نماز اور خشوع
نماز چھوڑنے کی وعیدیں، بے نمازی کی نحوست اور نماز میں حضورِ قلب۔
گروپ: طہارت و نماز
11 روایات
روایت: ’’شیطان مسلمان سے اس وقت تک ڈرتا رہتا ہے جب تک وہ نماز کا پابند اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا رہتا ہے، کیونکہ خوف کی وجہ سے اس کو زیادہ جرأت نہیں ہوتی، لیکن جب وہ نماز کو ضائع کر دیتا ہے تو اس کی جرأت بڑھ جاتی ہے، اور اس آدمی کے گمراہ کرنے کی اُمنگ پیدا ہوجاتی ہے، اور پھر بہت سے مہلکات اور بڑے بڑے گناہوں میں اس کو مبتلاء کر دیتا ہے‘‘۔
پانچ نمازوں کوچھوڑنے پرپانچ نقصانات
بے نمازی کی نحوست سے بچنے کے لئے گھر کےدروازے پر پردہ ڈالنا
بے نمازی کی چالیس گھروں تک نحوست
جان بوجھ کرنماز چھوڑنے پر ایک حقب جہنم میں جلنا
روایت: ’’أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يعبث بلحيته في الصلاة، فقال: لو خشع قلبه، لخشعت جوارحه‘‘.آپ ﷺ نے ایک آ دمی کو دیکھا وہ نماز میں اپنی داڑھی سےکھیل رہاتھا،آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا، توضروراس کے اعضاء پُرسکون رہتے۔
روایت: ’’حضورِ قلب کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘،یہ قصہ گوواعظوں کی حدیث ہے، میں اب تک ان الفاظ کے ساتھ اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔
’’منافقوں کا آستین میں بت رکھ کر نماز پڑھنا، اور پھر حالت نماز میں آں حضرت ﷺ کو حکم ہوناکہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو‘‘، یہ قصہ سراسر غلط ہے، جہلاء روافض کی گھڑت ہے۔
{لاصلوة إلا بحضور القلب}. ’’دل کی توجہ کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘، ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں۔