’’منافقوں کا آستین میں بت رکھ کر نماز پڑھنا، اور پھر حالت نماز میں آں حضرت ﷺ کو حکم ہوناکہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو‘‘، یہ قصہ سراسر غلط ہے، جہلاء روافض کی گھڑت ہے۔
تفصیل
’’سوال: منافقوں کا آستین میں بت رکھ کر نماز پڑھنا، اور پھر حالت نماز میں آں حضرت ﷺ کو حکم ہوناکہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو، غلط ہے، یا صحیح ؟
جواب: یہ قصہ بھی سراسر غلط ہے، جہلاءِ روافض کی گھڑت ہے، فقط‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ :
منافقین کے آستینوں میں بت رکھ کر نماز پڑھنے کی روایت؟ ص: ۵۳۴،
دار الکتاب لاہور
۔
ملتی جلتی احادیث
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں