{لاصلوة إلا بحضور القلب}. ’’دل کی توجہ کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘، ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں۔
تفصیل
’’سوال: {لاصلوة إلا بحضور القلب}. اس حدیث کی تنقید بیان کی جاوے، اگر یہ قول ہے تو کس کا ہے؟ اور ماخذ کیا ہے؟
جواب: ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں کہ جس کی تنقید کی جاوے، ’’احیاء‘‘ میں امام غزالی l نے تابعین کے چند آثار نقل کئے ہیں کتاب مذکور میں دیکھے جاویں، فقط‘‘[1]۔
ملتی جلتی احادیث
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔