مقدمہ
تفصیل
بسم الله الرحمن الرحميم
الحمد لله محق الحق ومبطل الباطل، ومعلي الصدق ومنزل الكذب إلى أسفل سافل، والصلاة والسلام على سيدنا محمد ذي القول الفاصل والحكم الفاضل، وعلى آله وصحبه النجباء الأماثل، أما بعد!
اللہ تعالیٰ کی توفیق سےکتاب ’’حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب l کا من گھڑت روایات پر تعاقب‘‘ کی طباعت کے زمانے ہی میں بندہ اسی موضوع کو جاری رکھتے ہوئے حضرت فقیہ العصر،فخر المحدثین،قطب الارشاد، امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب l کے فرامین مبارکہ کو جمع کرتا رہا،جسے اس مجموعہ میں باب اول کے تحت مرتب کر دیا ہے،اس کے بعد بعض دیگر اکابر عظام یعنی مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی صاحبl، حضرت مولانا مفتی ظفر احمد عثمانی صاحب l، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحبl کے ارشادات کو ضمناًبابِ ثانی کے عنوان سےاسی مجموعہ کے آخر میں شامل کر دیاہے۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت خاتم النبوت ﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا‘‘، ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی۔
{لاصلوة إلا بحضور القلب}. ’’دل کی توجہ کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘، ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔