فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
تفصیل
سوال: حضور ﷺ کے نام مبارک پر دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کے ساتھ منہ سے بوسہ لے کر دونوں آنکھوں پر لگاتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے تو کیسا گناہ ہے، اور کس کتاب میں ہے ؟
جواب: آنحضرت ﷺ کا نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنا بدعت ہے، کیونکر [کذا في الأصل] اکثر لوگ اس کو ثواب سمجھتے ہیں، اور وہ موقوف ہے روایت پر، اور روایت اس بارے میں کوئی ثابت نہیں، {كما قال السخاوي في المقاصد الحسنة: ولايصح في المرفوع من كل هذا شیء}. [جیسا کہ امام سخاوی l نے ’’ المقاصد الحسنہ ‘‘ میں کہا ہے کہ اس باب میں کوئی بھی مرفوع حدیث صحیح نہیں ہے] اور فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت میں داخل ہو، {کما صرح به في الدرالمختار}. (شامی ص: ۱۳۲،ج: ۱)
{شرط العمل بالحديث الضعيف عدم شدة ضعفه، وأن يدخل تحت أصل عام، وأن لايعتقد سنية ذلك الحديث، وقال الشامي: أي: سنية العمل به}. [حدیث ضعیف پر عمل کی شرائط میں ہے کہ حدیث کا ضعف شدید نہ ہو،اور وہ اصل عام کے تحت داخل ہو، اور اس حدیث کے سنت ہونے کا اعتقاد نہ کرے، شامی l فرماتے ہیں : یعنی اس پر عمل کےمسنون ہونے کا اعتقاد نہ رکھے]اور آج کل لوگ ثواب سمجھنے کے علاوہ تارک پر ملامت کرتے ہیں، اس لئے اس فعل سے روکا جاوے گا، واللہ اعلم بالصواب! {ومايترائى [کذا في الأصل] في بعض كتب الفقهة [کذا في الأصل] من التحريض على فعله فمبني على ظنهم أن ضعفه يسير، وما ذكر عن بعض المشائخ [کذا في الأصل] فعلى طريق الرُقية من رمد العين}[1]. [اور بعض فقہ کی کتابوں میں جو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس عمل پر ابھارتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان فقہاء نے اس حدیث کوہلکے درجہ کا ضعیف گمان کیا ہوگا، نیز یہ عمل جوبعض مشائخ سے منقول ہے وہ آنکھوں کے درد میں دم کے طور پر ہے]۔
حوالہ جات
[1] امدادالاحکام : آنحضرت ﷺ کانام سن کر انگوٹھے چومنا بدعت ہے، ۱/۱۸۸، مکتبہ دار العلوم کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
حدیث میں ضعف اگر بسببِ فسق اور کذبِ راوی کے، یا بسبب اتہامِ وضع کے ہو، تو اس پر فضائل اعمال میں بھی عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔