التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

عمرہ حج اصغر ہے،اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔

تفصیل

’’سوال: جمعہ کے روز جو حج ہوتا ہے اس کو حج اکبری کہتے ہیں، اس کی کچھ اصل ہے یا نہیں، اور جمعہ کے حج میں زیادہ فضیلت ہے یا نہیں؟

جواب: اس کی اس قدر اصل ہے کہ آنحضرت ﷺ جو اخیر حج کیا تھا وہ جمعہ کا دن ہوا تھا اور اس کے بارہ میں آیت: (وَأَذَانٌ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ). الآیۃ نازل ہوئی، باقی ویسے حج اکبر بمقابلہ حج اصغر کے ہے، عمرہ حج اصغر ہے اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔ فقط!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :جمعہ کو جو حج ہوتا ہے اسے اکبری کہتے ہیں اس کی اصل کیا ہے؟۶/۴۸۱ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

حافظ ابن قیم الجوزیہ l  نے  ’’زاد المعاد‘‘ (۱/۶۵) میں اسے (یعنی حدیث : جمعہ کے دن کا حج، حج اکبر ہے) باطل کہا ہے،نیز حافظ ابن حجر l  نے  ’’فتح الباری‘‘ (۸/۲۷۰) میں کہا ہے کہ مجھے اس حدیث کی معرفت نہیں ہے،علامہ زرقانی l  نے ’’شرح موطأ ‘‘ میں، اور علامہ مناوی l  نے  ’’فیض القدیر‘‘ میں  حافظ ابن حجر l  کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے،علامہ شامی l  نے  ’’رد المحتار‘‘ (۴/۴۷) میں علامہ مناوی l  کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ بعض حفاظ نے اسے باطل،بے اصل کہا ہے۔

تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول،ص:۲۸۹۔

ملتی جلتی احادیث