التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

مینا بن ابی مینا مولی عبد الرحمن بن عوف قرشی زہری خرّاز

ایک روایت میں تذکرہ

مینا بن ابی مینا مولی عبد الرحمن بن عوف قرشی زہری خرّاز کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی مینا[58]بن ابی مینا مولی عبد الرحمن بن عوف قرشی زہری خرّاز[59]کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ عباس دوریl،حافظ یحیی بن معینl کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’وميناء، ليس بثقة، وربما قال يحيى: من مِيْناء؟ أبعده الله‘‘[60].مینا ثقہ نہیں ہے اور یحیی l بسا اوقات فرماتے: کون مینا؟ اللہ اسے دورکرے۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، روى أحاديث في أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مناكير، لا يعبأ بحديثه، [كان يكذب]‘‘[61]. مینا منکر الحدیث ہے، یہ اصحاب نبیﷺ کے بارے میں منکر احادیث روایت کرتا ہے، اس کی حدیث میں مشغول نہ ہوا جائے، یہ جھوٹ بولتا تھا۔

حافظ ابو زرعہl نے مینا کو’’ليس بقوي‘‘کہا ہے[62]۔

امام نسائیl نے ’’الضعفاء‘‘[63] میں اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[64] میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث، قليل الرواية، روى أحرفا يسيرة لا تشبه أحاديث الثقات، وجب التنكب عن روايته‘‘.یہ منکر الحدیث ہے، قلیل الروایہ ہے، چند حروف ہی روایت کرسکا ہے، جو ثقہ لوگوں کی حدیث کے مشابہ نہیں ہیں،اس سے روایت کرنے سے بچنا واجب ہے۔

حافظ ابن حبانl نے موصوف کو’’الثقات‘‘[65]میں بھی ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[66]میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ومينا هذا أظن أن عامة ما يرويه هو ما ذكرته، ويبين على حديثه أنه يغلو في التشيع‘‘. اس مینا کی اکثر احادیث میں ذکر کرچکا ہوں، اور اس کی حدیث میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تشیع میں غالی ہے۔

حافظ دارقطنیl نے اسے ’’المؤتلف‘‘[67] میں’’منكر الحديث‘‘ کہاہے۔

حافظ جوزجانیl ’’أحوال الرجال‘‘[68] میں فرماتے ہیں: ’’ أنكر الأئمة حديثه لسوء مذهبه ولما حدث من العضل‘‘.ائمہ نے اس کے سوء مذہب کی وجہ سے، نیز اس کے معضل احادیث بیان کرنے کی وجہ سے اسے ترک کردیا تھا۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء‘‘[69] میں فرماتے ہیں: ’’روى عنه، همام بن نافع أحاديث مناكير، لا يتابع منها على شيء‘‘.اس سےہمام بن نافع نے ایسی منکر احادیث روایت کی ہیں،جن میں کسی میں بھی اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔

حافظ ابن ماکولاl ’’الإكمال‘‘[70] میں فرماتے ہیں:’’أنكروا حديثه‘‘. محدثین نے اس کی حدیث کا انکار کیا ہے۔

حافظ ذہبیl نے مینا کو ’’الكاشف‘‘[71] میں ’’ضعفوه‘‘ اور ’’ميزان‘‘[72] میں ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’التقريب‘‘[73] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ورمي بالرفض، وكذبه أبو حاتم‘‘.یہ متروک ہے، اور اس پر رفض کا اتہام ہے، اور اسے ابو حاتمl نے جھوٹا کہا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیl نے مینا کو ’’الكشف الحثيث‘‘[74] میں ذکر کرکے حافظ ابو حاتمl ، حافظ ابن حبانl ، حافظ ابن جوزیl اور حافظ ذہبیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[75] میں مینا کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابو حاتمl کا قول نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[58] حافظ ابن ماکولاl’’الاکمال‘‘میں فرماتے ہیں:  ’’وأما مينا بكسر الميم، وبعد الياء نون يمد ويقصر، فمن مده كتبه بالألف، ومن قصره كتبه بالياء، فهو مينا مولى أبي عامر الراهب، شهد تبوكا مع النبي صلى الله عليه وسلم، قاله مصعب، ومينا رجل من أهل صنعاء، يحدث عن ابن مسعود، وأبي هريرة، روى عنه همام بن نافع الصنعاني أبو عبد الرزاق أنكروا حديثه‘‘(الإ كمال في رفع الارتياب:7/307،الفاروق الحديثة ـ القاهرة).

[59] یہ مینا حضرت عثمان کی بیعت کے وقت بالغ ہوئے ہیں، چنانچہ امام بخاریl ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’قال أحمد: عن عبد الرزاق، أخبرني أبي، نا  ميناء، قال: أخذت البقرة، وآل عمران من أبي هريرة، واحتلمت حين بويع لعثمان‘‘.(التاريخ الكبير:۷/۳۴۳،رقم:۱۱۳۸۸،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية2008هـ ).

[60] تاريخ ابن معين برواية الدوري:3/80،رقم:329،ت:أحمد محمد نور سيف،مركز البحث العلمي وإحياء التراث الإسلامي ـ مكة،الطبعة الأولى1399هـ  .

[61] الجرح والتعديل:8/395،رقم:1811،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[62] انظرالجرح والتعديل:8/395،رقم:1811،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[63] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۳۱،رقم:۶۱۰،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[64] المجروحين:3/22،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[65] الثقات:۵/۴۵۵،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة۱۳۹۳هـ .

[66] الكامل في الضعفاء:8/220،رقم:1939،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[67] المؤتلف والمختلف:4/2105،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[68] أحوال الرجال:ص:253،رقم:263،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث اكادمي ـ فيصل آباد باكستان .

[69] الضعفاء الكبير:4/253،رقم:1849،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[70] الإكمال:7/308،الفاروق الحديثة ـ القاهرة .

[71] الكاشف:2/312،رقم:5770،ت:محمد عوامة وأحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى1413هـ .

[72] ميزان الاعتدال:4/238،رقم:8982،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[73] تقريب التهذيب:ص:556،رقم:7059،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

[74] الكشف الحثيث:ص:265،رقم:801 ،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[75] تنزيه الشريعة:1/121،رقم:398،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ