اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جب کوئی شخص قبروں پر گزرتے ہوئے یہ کلمات کہے: ’’السلام على أهل لا إله إلا الله، من أهل لا إله إلا الله، يا أهل لا إله إلا الله! كيف وجدتم قول لا إله إلا الله؟ يا لا إله إلا الله بحق لا إله إلا الله، اغفر لمن قال لا إله إلا الله، واحشرنا في زمرة من قال لا إله إلا الله‘‘، تو اس کہنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، علیr نے پوچھا کہ اگر اس شخص کے گناہ اتنے نہ ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :اس کے والدین اور اس کے رشتہ دار اور عام مسلمانوں کے بھی معاف ہو جائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو القاسم اصبغ بن نُباتہ تمیمی حنظلی دارمی مجاشعی کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو بکر بن عیاشl فرماتے ہیں: ’’الأصبغ بن نُباتة وهيثم هؤلاء كلهم الكذابون‘‘[6]. اصبغ بن نُباتہ اور ہیثم کذاب ہیں۔
حافظ جریر بن عبد الحمیدl فرماتے ہیں: ’’ كان المغيرة لا يعبأ بحديث الأصبغ بن نُباتة‘‘[7]. مغیرہ (یعنی بن مقسم ضبی l)، اصبغ بن نُباتہ کی حدیث میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔
حافظ یحیی بن معینl نے اصبغ بن نُباتہ کو’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[8]۔
حافظ یحیی بن معینl نے ایک مقام پر اصبغ بن نُباتہ کو’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[9]۔
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’وكان شيعيا، وكان يضعف في روايته‘‘. یہ شیعہ تھا، اور اس کی روایت میں تضعیف کی جاتی ہے۔
حافظ عمرو بن علی فلاسl فرماتے ہیں:’’ما سمعت يحيى ولا عبد الرحمن حدثا عن الأصبغ بن نُباتة شيئا قط‘‘[11]. میں نے یحیی اور عبد الرحمن سے کبھی نہیں سنا کہ ان دونوں نے اصبغ بن نُباتہ کے انتساب سے کچھ بیان کیا ہو۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[12] میں اصبغ بن نُباتہ کو ذکر کرکے سکوت فرمایا ہے۔
حافظ جوزجانیl ’’ أحوال الرجال‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’وكان أصبغ بن نُباتة زائغا‘‘. اور اصبغ بن نُباتہ منحرف تھا۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[14] میں اصبغ بن نُباتہ کا ترجمہ قائم کرکے سکوت کیا ہے۔
حافظ عجلیl نے اصبغ بن نُباتہ کو’’ثقة‘‘ کہا ہے[15]۔
علامہ ابو عبید آجری l فرماتے ہیں: ’’قيل لأبي داود: الأصبغ بن نُباتة ليس بثقة؟ قال: بلغني هذا عن يحيى بن معين‘‘[16]. ابو داؤدl سے پوچھا گیا: کیا اصبغ بن نُباتہ لیس بثقۃ ہے؟ ابو داؤد l نے فرمایا: مجھے یہ بات یحیی بن معین l کی طرف سے پہنچی ہے۔
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعدیل‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عن أصبغ بن نُباتة، فقال: لين الحديث، قلت وعقيصا؟ فقال بابتهم، غير أن أصبغ أشبه‘‘. میں نے اپنے والد سے اصبغ بن نُباتہ کے بارے میں پوچھا تو والد نے کہا: وہ لین الحدیث ہے، میں نے کہا: اور عقیص؟ والد نے کہا: وہ انہی میں سے ہے، تاہم اصبغ اشبہ ہے۔
حافظ یعقوب بن سفیان فسویl ’’المعرفة‘‘[18]میں فرماتے ہیں: ’’سعد بن طَرِيف، وأصبغ بن نُباتة، وسعد الإسكاف، وإسماعيل بن مسلم المكي يعرف حديثه وينكر‘‘. سعد بن طَریف، اصبغ بن نُباتہ، سعد اِسکاف اور اسماعیل بن مسلم مکی ان کی حدیث معروف ومنکر ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[19] میں اصبغ بن نُباتہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[20]۔
امام ابو بکر بزار l فرماتے ہیں: ’’أكثر أحاديثه عن علي، لا يرويها غيره‘‘[21]. اس کی اکثر احادیث علی rسے ہیں، جسے کوئی دوسرا نقل نہیں کرتا۔
حافظ ساجی l نے اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[22]۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يقول بالرجعة‘‘. یہ رجعت کا قائل تھا۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[24] میں فرماتے ہیں:’’وهو ممن فتن بحب علي، أتى بالطامات في الروايات فاستحق من أجلها الترك‘‘. اور یہ ان لوگوں میں سے جو علی rکی محبت کی وجہ سے فتنہ میں پڑ گئے، یہ روایات میں طامات لاتا تھا، چنانچہ ان روایات کی وجہ سے یہ ترک کا مستحق ہوا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں اصبغ بن نُباتہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صاحب علي بن أبي طالب، يروي عنه أحاديث غير محفوظة‘‘. یہ صاحبِ علی بن ابی طالب r ہے، یہ حضرت علی r کے انتساب سے غیر محفوظ احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن عدی l چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: ’’والأصبغ بن نُباتة لم أخرج له هاهنا شيئا، لأن عامة ما يرويه عن علي لا يتابعه عليه أحد، وهو بين الضعف، وله عن علي أخبار وروايات، وإذا حدث عن الأصبغ ثقة فهو عندي لا بأس بروايته، وإنما أتى الإنكار من جهة من روى عنه، لأن الراوي عنه لعله يكون ضعيفا‘‘.
اور میں نے یہاں اصبغ بن نُباتہ سے کچھ تخریج نہیں کیا، اس لئے کہ یہ عام طور پر علی r سے ایسی روایات بیان کرتا ہے جس پر اس کی کوئی بھی متابعت نہیں کرتا، اور اس کا ضعف واضح ہے، اور اس کی علی r کے انتساب سے روایات اور اخبار ہیں، اور جب اصبغ سے کوئی ثقہ راوی روایت کرے تو میرے نزدیک اس کی روایت ’’لا بأس‘‘ ہے، اور اس میں انکار اس سے روایت کرنے والے کی طرف سے آتا ہے، اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے روایت کرنے والا راوی ضعیف ہو۔
حافظ دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[26] میں اصبغ بن نُباتہ کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl’’الكاشف‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’واه، غال في تشيعه، تركه النسائي، (وقال ابن معين: ليس بثقة)‘‘.یہ واہی ہے، تشیع میں غالی ہے، نسائی l نے اسے ترک کردیا، اور ابن معین l نے لیس بثقۃ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیl ’’الكشف الحثيث‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، متروك‘‘. کذاب ، متروک ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl’’تقريب التهذيب‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، رمي بالرفض ‘‘.متروک ہے، اس پر رفض کا اتہام ہے۔
علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[31] میں اصبغ بن نُباتہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[6] الضعفاء الكبير:1/۱۳۰رقم:۱۶۰،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[7] تهذيب الكمال:۳/۳۰۸،رقم:۵۳۷،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴07هـ .
[8] انظر الكامل في الضعفاء:۲/۱۰۲،رقم:۲۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[9] انظر الكامل في الضعفاء:۲/۱۰۲،رقم:۲۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[10] الطبقات الكبرى:6/۲۴۷،رقم:۲۲۳۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[11] الضعفاء الكبير:1/۱۲۹رقم:۱۶۰،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[12] التاريخ الكبير:۲/۲۸،رقم:۱۵۹۵،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 2008هـ .
[13] أحوال الرجال:ص:۴۴،رقم:۱۷،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث اكادمي ـ فيصل آباد باكستان .
[14] الكنى و اسلأسماء:ص:۶۸۷،رقم:۲۷۷۲،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[15] تاريخ الثقات:ص:71،رقم:109،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[16] سؤالات أبي عبيد الآجري:1/۱۷۰،رقم:78،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي، مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[17] الجرح والتعديل:2/320،رقم:1213،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[18] المعرفة والتاريخ:3/۶۶،ت:أكرم ضياءالعمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[19] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۵۶،رقم:۶۴،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[20] تهذيب الكمال:۳/۳۱۰،رقم:۵۳۷،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴07هـ .
[21] انظر إكمال تهذيب الكمال:2/252،رقم:573،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى1422هـ .
[22] انظر إكمال تهذيب الكمال:۲/۲۵۲،رقم:573،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[23] الضعفاء الكبير:1/۱۲۹رقم:۱۶۰،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[24] المجروحين:1/۱۷۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[25] الكامل في الضعفاء:۲/۱۰۲،رقم:۲۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] الضعفاء والمتروكون:ص:156،رقم:118،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .
[27] الكاشف:1/۲۵۴،رقم:۴۵۳،ت:محمد عوامة وأحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى1413هـ .
[28] المغني في الضعفاء:۱/۱۴۱،رقم:۷۷۱،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[29] الكشف الحثيث:ص:۷۳،رقم:۱۵۹ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[30] تقريب التهذيب:ص:۱۱۳،رقم:۵۳۷ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[31] تنزيه الشريعة:1/۴۰،رقم:۳۱۱،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .