التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام ابن اخی عبد الرزاق صنعانی

ایک روایت میں تذکرہ

ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام ابن اخی عبد الرزاق صنعانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام ابن اخی عبد الرزاق صنعانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[76] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’يروي عن عبد الرزاق المقلوبات الكثيرة التي لا يجوز الاحتجاج لمن يرويها لكثرتها‘‘. یہ عبد الرزاق سے ایسی بہت سے مقلوب احادیث روایت کرتا ہے جن سے ایسے شخص کےلئے احتجاج درست نہیں جو اسے روایت کرے، کیونکہ ایسی روایات کثرت سے ہیں۔

حافظ ابن عدیl نے ’’الكامل‘‘[77] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، كذاب، لا يكتب حديثه‘‘[78].متروک الحدیث، کذاب ہے، اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔

حافظ دارقطنیl ’’الضعفاء‘‘[79] میں ابراہیم بن عبد اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث‘‘. یہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ابو نعیمl ’’المسند المستخرج‘‘[80] میں فرماتے ہیں: ’’حدث بالموضوعات عن عمه‘‘.یہ اپنے چچا (یعنی عبد الرزاق) کے انتساب سے من گھڑت حدیث نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو عبد اللہ حاکمl ’’المدخل‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عنه عمه [ كذا في الأصل، والصحيح: عن عمه] بأحاديث موضوعة‘‘.یہ اپنے چچا (یعنی عبد الرزاق) کے انتساب سےمن گھڑت حدیث نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے’’تذكرة الحفاظ‘‘[82] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن عبد اللہ صنعانی کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[83] میں ابراہیم بن عبد اللہ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’فمن مصائبه‘‘.اس کے مصائب میں سے ہے، اس کے بعد حافظ ذہبیl نے تین احادیث نقل کیں، پھر فرماتے ہیں: ’’فهذه الأشياء من وضع هذا المدبر‘‘.یہ چیزیں اس مدبر نے گھڑی ہیں۔

علامہ سبط ابن عجمیl نے’’الكشف الحثيث‘‘[84] میں حافظ دارقطنیl، حافظ ابن جوزیl اور حافظ ذہبیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ ابن عراقl نے’’تنزيه الشريعة‘‘[85]میں ابراہیم بن عبد اللہ صنعانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ دارقطنیl کے قول کو ذکر کیا ہے۔

حوالہ جات

[76] المجروحين:1/118،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[77] الكامل في الضعفاء:1/440،رقم:113،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[78] الضعفاء والمتروكين:۱/۴۱،رقم:۸۵ ،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[79] الضعفاء والمتروكون:ص:107،رقم:21،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .

[80] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/58،رقم:7،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[81] المدخل:ص:116،رقم:7،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[82] تذكرة الحفاظ:ص:324،رقم:815،ت:حميدي بن عبد المجيد بن إسمعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[83] ميزان الاعتدال:۱/۴۲،رقم:۱۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[84] الكشف الحثيث:ص:36،رقم:12،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[85] تنزيه الشريعة:1/22،رقم:37،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ