التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عنبسہ بن عبد الرحمن بن عنبسہ قرشی اموی

المتوفی ما بین ۱۸۰ – ۱۹۰ھ2 روایات میں تذکرہ

عنبسہ بن عبد الرحمن بن عنبسہ قرشی اموی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عنبسہ بن عبد الرحمن بن عنبسہ قرشی اموی (المتوفی ما بین ۱۸۰– ۱۹۰ھ [38]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’لا أعرفه‘‘[39]. میں اس کو نہیں پہچانتا۔

نیز حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر عنبسہ کو ’’ضعف الحديث، ليس بشيء‘‘ کہا ہے[40]۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[41] میں اور ’’الضعفاء‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اس کو ترک کیا ہے۔

حافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[43] میں، حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے ’’المسند المستخرج‘‘[44] میں، حافظ ابن اثیر جزری l  نے ’’جامع الأصول‘‘[45] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[46]امام بخاری l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث، كان يضع الحديث، وكان عند أحمد بن يونس عنه شيء، فلم نكتب عنه على العمد‘‘[47]. وہ متروک الحدیث ہے، حدیث گھڑتا ہے، اور احمد بن یونس کے پاس اس کی کچھ اشیاء تھیں، ہم نے جان بوجھ کر اسے نہیں لکھا۔

علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[48] میں حافظ ابو حاتم l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’منكر الحديث، واهي الحديث‘‘ کہا ہے[49]۔

حافظ برذعی l فرماتے ہیں: ’’قلت: عنبسة بن عبد الرحمن؟ قال: نسأل الله أن يرحمه، اضرب على حديثه، فلم يقرأه علي‘‘[50]. میں نے عنبسہ بن عبد الرحمن کے بارے میں ابو زرعہ l سے پوچھا تو فرمایا: ہم اللہ تعالی سے اُس پر رحم کا سوال کرتے ہیں، اس کی حدیث ترک کردو، (حافظ برذعی l فرماتے ہیں) چنانچہ ابو زرعہ l نے مجھ پر اس کی حدیث نہیں پڑھی۔

امام ابو داؤدl نے عنبسہ بن عبد الرحمن قرشی کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[51]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[52] عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ ابو القاسم بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’ليس حديثه بشيء‘‘. اس کی حدیث ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام ترمذی l ’’سنن‘‘[54] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’سمعت محمدا، يقول: عنبسة بن عبد الرحمن ضعيف في الحديث، ذاهب ‘‘. میں نے محمد (یعنی امام بخاری l)کو فرماتے ہوئے سنا: عنبسہ بن عبد الرحمن حدیث میں ضعیف ہے، ذاہب ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[55] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب أشياء موضوعة، وما لا أصل له، مقلوب، لا يحل الاحتجاج به‘‘. عنبسہ بن عبد الرحمن من گھڑت اشیاء والا ہے، اور ایسی اشیاء گھڑتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، مقلوب ہوتی ہیں، اس سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[56] میں عنبسہ کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں:’’وعنبسة هذا له غير ما ذكرت من الحديث، وهو منكر الحديث‘‘. عنبسہ کی میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور وہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو الفتح ازدی l  نے اسے ’’كذاب‘‘ کہا ہے[57]۔

حافظ ابن عبد البر l ’’التمهيد‘‘[58] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعنبسة ضعيف، لا يحتج به‘‘. اور عنبسہ ضعیف ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جائےگا۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘میں ایک مقام پر ’’لا شيء في الحديث‘‘[59]، اور دوسرے مقام پر ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[60]۔

حافظ ابو الحسن ابن قطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[61] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’فأما عنبسة بن عبد الرحمن القرشي، فممن يضع الحديث، ونسأل الله العافية‘‘. عنبسہ بن عبد الرحمن اُن لوگوں میں سے ہے جو حدیث گھڑتے ہیں، اور ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

حافظ ضیاء الدین مقدسی l نے ’’السنن والأحكام‘‘[62] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ بن عبد الرحمن اور ہیاج کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

علامہ تُوْرِ بُشْتی l نے ’’الميسر‘‘[63] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

امام نووی l ’’المجموع‘‘[64] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ اور ہیَّاج خراسانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهما ضعيفان، متروكا الحديث، لا يجوز الاحتجاج برواية واحد منهما‘‘. اور دونوں ضعیف، متروک الحدیث ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کی روایت سے بھی احتجاج کرنا جائز نہیں ہے۔

 حافظ مزی l ’’تحفة الأشراف‘‘[65] میں فرماتے ہیں: ’’وعنبسة بن عبد الرحمن من الضعفاء المتروكين‘‘.  اور عنبسہ بن عبد الرحمن ضعفاء متروکین میں سے ہے۔

 حافظ ابن عبد الہادی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[66] میں عنبسہ کو ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[67] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متهم، متروك‘‘، اور ’’تذهيب‘‘[68] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن کثیر l ’’التكميل‘‘[69] میں ام سعد کے ترجمہ میں عنبسہ بن عبد الرحمن اور محمد بن زاذان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهما من الضعفاء المتروكين‘‘. اور وہ دونوں ضعیف متروک راویوں میں سے ہیں۔

حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[70] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ کو ’’متهم، متروك‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ابن ملقن lنے ’’البدر المنير‘‘[71] میں ایک حدیث  کے تحت ’’وضاع‘‘ بھی کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[72] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔  

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[73] میں فرماتے ہیں : ’’وهذا متروك، رماه أبو حاتم بالوضع‘‘. اور یہ متروک ہے، ابو حاتم l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے عنبسہ کو ’’إتحاف المهرة‘‘[74] میں ’’ضعيف جدا‘‘، ’’نتائج الأفكار‘‘[75] میں ’’متروك‘‘اور ’’التلخيص‘‘[76] میں ایک مقام پر ’’متروك ‘‘[77] اور دوسرے مقام پر ’’كذاب‘‘[78] قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الغرائب‘‘[79] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’عنبسة وشيخه واهيان‘‘. عنبسہ اور اس کا شیخ (یعنی محمد بن زاذان) دونوں واہی ہیں۔

علامہ ابن عبد الملک حنفی کرمانی l نے ’’شرح مصابيح السنة‘‘[80] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔          

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[81] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرمایا ہے: ’’متروك اتهمه أبو حاتم بالوضع‘‘. یہ متروک ہے، ابو حاتم l نے  اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[38] امام بخاری l نے  ’’التاريخ الصغير ’’میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۸۰ اور 1۹۰ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۲۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[39] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:185،رقم:669،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .

[40] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:387،رقم:471،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[41] التاريخ الكبير:6/347،رقم:9507،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .

[42] الضعفاء الصغير:ص:۹۶،رقم:۲۸۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[43] الضعفاء الكبير:3/367،رقم:1405،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[44] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/77،رقم:184،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[45] جامع الأصول في أحاديث الرسول:۱۲/۷۲۹،ت:بشير محمد عيون،دار الفكرـ بیروت،الطبعة۱۳89 هـ .

[46] الكاشف:2/100،رقم:4303،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[47] الجرح والتعديل:6/403،رقم:2247،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[48] الكشف الحثيث:ص:204،رقم:579،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[49] انظر تهذيب الكمال:22/418،رقم:4536،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴13هـ .

[50] سؤالات البرذعي:ص:410،رقم:950،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱430هـ .

[51] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/116،رقم:1294،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[52] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۶،رقم:۴۲۸،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[53] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/298،رقم:666،ت:أبو عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[54] سنن الترمذي:4/429،رقم:2699،ت:بشار عواد معروف،دار الغبر الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[55] المجروحين:2/178،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[56] الكامل في ضعفاء:6/463،رقم:1406،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .

[57] انظر تهذيب الكمال:22/419،رقم:4536،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[58] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:3/700،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر ومحمد بشار عواد،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ

[59] تذكرة الحفاظ:ص:50،رقم:98،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[60] تذكرة الحفاظ:ص:۲۹۰،رقم:۷۲۴،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[61] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/558،رقم:1339،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[62] السنن والأحكام عن المصطفى عليه أفضل الصلاة والسلام:3/526،رقم:3834،ت:أبو عبد الله حسين بن عكاشة، دار ماجد عيري ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴25هـ .

[63] الميسر في شرح ممصابيح السنة:3/1025،رقم:3484،ت:عبد الحميد هنداوي،مكتبة نزار مصطفى الباز ـ مكة المكرمة،الطبعة الثانية1429هـ . 

[64] المجموع شرح المهذب:6/512،إدارة  الطباعة المنيرية .

[65] تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف:13/34،رقم:1829،ت:عبدالصمد شرف الدین،المکتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰3 هـ .

[66] تنقیح التحقیق في أحاديث التعليق:3/376،رقم:2026،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .

[67] ديوان الضعفاء:ص:308،رقم:3245،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[68] تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال:7/276،رقم:5307،ت:مسعد كامل،أيمن سلامة،عبد السميع ومحمد نعناعة،الفاروق الحديثية ـ القااهرة،الطبعة الأولى1425هـ .

[69] التكميل في الجرح والتعديل ومعرفة الثقات والضعفاء والمجاهيل:4/341،رقم:2842،ت:شادي بن محمد بن سالم آل نعمان،مكتبة ابن عباس ـ مصر،الطبعة الأولى1432هـ .

[70] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:۲/598،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[71] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:۹/۶۱،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[72] مجمع الزوائد:1/314،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[73] تقريب التهذيب:ص:433،رقم:5206،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[74] إتحاف المهرة:3/277،رقم:3007،ت:زهير بن ناصر الناصر،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1415هـ .

[75] نتائج الأفكار في تخرج أحاديث الأذكار:5/128،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت، الطبعة الثانية1429هـ .

[76] التلخيص الحبير:1/386،رقم:194،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[77] التلخيص الحبير:1/386،رقم:194،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[78] التلخيص الحبير:4/261،رقم:1845،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[79] الغرائب الملتقطة:1/318،رقم:90،ت:أبو بكر أحمد جالو،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى1439 هـ .

[80] شرح مصابيح السنة:5/165،رقم:3602،ت:نور الدين طالب،إدارة الثقافية الإسلاميةطباعة والتوزيع، الطبعة1433هـ .

[81] تنزيه الشريعة:۱/94،رقم:368،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی عنبسہ بن عبد الرحمن بن عنبسہ قرشی اموی (المتوفی ما بین ۱۸1ھ– ۱۹۰ھ [50]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’لا أعرفه‘‘[51]. میں اس کو نہیں پہچانتا۔

نیز حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر عنبسہ کو ’’ضعف الحديث، ليس بشيء‘‘ کہا ہے[52]۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[53] اور ’’الضعفاء‘‘[54] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اس کو ترک کیا ہے۔

حافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[55] میں، حافظ ابو نعیم اصبہانیl نے ’’المسند المستخرج‘‘[56] میں، حافظ ابن اثیر جزری l  نے ’’جامع الأصول‘‘[57] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[58] میں امام بخاری l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو متروك الحديث، كان يضع الحديث، وكان عند أحمد بن يونس عنه شيء، فلم نكتب عنه على العمد‘‘[59]. وہ متروک الحدیث ہے، حدیث گھڑتا ہے، اور احمد بن یونس کے پاس اس کی کچھ اشیاء تھیں، ہم نے جان بوجھ کر اس سے نہیں لکھا۔

علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[60] میں حافظ ابو حاتم l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’منكر الحديث، واهي الحديث‘‘ کہا ہے[61]۔

حافظ برذعی l فرماتے ہیں: ’’قلت: عنبسة بن عبد الرحمن؟ قال: نسأل الله أن يرحمه، اضرب على حديثه، فلم يقرأه علي‘‘[62]. میں نے عنبسہ بن عبد الرحمن کے بارے میں ابو زرعہ l سے پوچھا تو فرمایا: ہم اللہ تعالی سے اُس پر رحم کا سوال کرتے ہیں، اس کی حدیث ترک کردو، (حافظ برذعی l فرماتے ہیں) چنانچہ ابو زرعہ l نے مجھ پر اس کی حدیث نہیں پڑھی۔

امام ابو داؤدl نے عنبسہ بن عبد الرحمن قرشی کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[63]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[64] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔

امام ترمذی l ’’سنن‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’سمعت محمدا، يقول: عنبسة بن عبد الرحمن ضعيف في الحديث، ذاهب‘‘. میں نے محمد (یعنی امام بخاری l)کو فرماتے ہوئے سنا: عنبسہ بن عبد الرحمن حدیث میں ضعیف ہے، ذاہب ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[66] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب أشياء موضوعة، وما لا أصل له، مقلوب، لا يحل الاحتجاج به‘‘. عنبسہ بن عبد الرحمن من گھڑت اشیاء والا ہے، اور ایسی اشیاء گھڑتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، مقلوب ہوتی ہیں، اس سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[67] میں عنبسہ کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں:’’وعنبسة هذا له غير ما ذكرت من الحديث، وهو منكر الحديث‘‘. عنبسہ کی میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور وہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو الفتح ازدی l  نے اسے ’’كذاب‘‘ کہا ہے[68]۔

حافظ ابن عبد البر l ’’التمهيد‘‘[69] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعنبسة ضعيف، لا يحتج به‘‘. اور عنبسہ ضعیف ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جائےگا۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو  ایک مقام پر ’’لا شيء في الحديث‘‘[70]، اور دوسرے مقام پر ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[71]۔

حافظ ابو الحسن بن قطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[72] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’فأما عنبسة بن عبد الرحمن القرشي، فممن يضع الحديث، ونسأل الله العافية‘‘. عنبسہ بن عبد الرحمن اُن لوگوں میں سے ہے جو حدیث گھڑتے ہیں، اور ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

حافظ ضیاء الدین مقدسی l نے ’’السنن والأحكام‘‘[73] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ بن عبد الرحمن اور ہیاج کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

علامہ تُوْرِ بُشْتی l نے ’’الميسر‘‘[74] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

امام نووی l ’’المجموع‘‘[75] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ اور ہیَّاج خراسانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهما ضعيفان، متروكا الحديث، لا يجوز الاحتجاج برواية واحد منهما‘‘. اور دونوں ضعیف، متروک الحدیث ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کی روایت سے بھی احتجاج کرنا جائز نہیں ہے۔

 حافظ مزی l ’’تحفة الأشراف‘‘[76] میں فرماتے ہیں: ’’وعنبسة بن عبد الرحمن من الضعفاء المتروكين‘‘.  اور عنبسہ بن عبد الرحمن ضعفاء متروکین میں سے ہے۔

 حافظ ابن عبد الہادی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[77] میں عنبسہ کو ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[78] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متهم، متروك‘‘، اور ’’تذهيب‘‘[79] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن کثیر l ’’التكميل‘‘[80] میں ام سعد کے ترجمہ میں عنبسہ بن عبد الرحمن اور محمد بن زاذان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهما من الضعفاء المتروكين‘‘. اور وہ دونوں ضعیف متروک راویوں میں سے ہیں۔

حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[81] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ کو ’’متهم، متروك‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ابن ملقن lنے ’’البدر المنير‘‘[82] میں اسے ایک حدیث  کے تحت ’’وضاع‘‘ بھی کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[83] میں ایک روایت کے تحت عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔  

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[84] میں فرماتے ہیں : ’’وهذا متروك، رماه أبو حاتم بالوضع‘‘. اور یہ متروک ہے، ابو حاتم l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے عنبسہ کو ’’إتحاف المهرة‘‘[85] میں ’’ضعيف جدا‘‘، ’’نتائج الأفكار‘‘[86] میں ’’متروك‘‘اور ’’التلخيص‘‘[87] میں ایک مقام پر ’’متروك ‘‘[88] اور دوسرے مقام پر ’’كذاب‘‘[89] کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الغرائب‘‘[90] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’عنبسة وشيخه واهيان‘‘. عنبسہ اور اس کا شیخ (یعنی محمد بن زاذان) دونوں واہی ہیں۔

علامہ ابن عبد الملک حنفی کرمانی l نے ’’شرح مصابيح السنة‘‘[91] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔          

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[92] میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرمایا ہے: ’’متروك، اتهمه أبو حاتم بالوضع‘‘. یہ متروک ہے، ابو حاتم l نے  اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[50] امام بخاری l نے  ’’التاريخ الصغير‘‘میں عنبسہ بن عبد الرحمن کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۸1ھ سے 1۹۰ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۲۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .

[51] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:185،رقم:669،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .

[52] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:387،رقم:471،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[53] التاريخ الكبير:6/347،رقم:9507،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .

[54] الضعفاء الصغير:ص:۹۶،رقم:۲۸۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[55] الضعفاء الكبير:3/367،رقم:1405،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[56] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/77،رقم:184،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[57] جامع الأصول في أحاديث الرسول:۱۲/۷۲۹،ت:بشير محمد عيون،دار الفكرـ بیروت،الطبعة۱۳89 هـ .

[58] الكاشف:2/100،رقم:4303،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[59] الجرح والتعديل:6/403،رقم:2247،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[60] الكشف الحثيث:ص:204،رقم:579،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[61] انظر تهذيب الكمال:22/418،رقم:4536،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴13هـ .

[62] سؤالات البرذعي:ص:410،رقم:950،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱430هـ .

[63] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/116،رقم:1294،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[64] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۶،رقم:۴۲۸،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[65] سنن الترمذي:4/429،رقم:2699،ت:بشار عواد معروف،دار الغبر الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[66] المجروحين:2/178،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[67] الكامل في ضعفاء:6/463،رقم:1406،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .

[68] انظر تهذيب الكمال:22/419،رقم:4536،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[69] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:3/700،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر ومحمد بشار عواد،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .

[70] تذكرة الحفاظ:ص:50،رقم:98،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[71] تذكرة الحفاظ:ص:۲۹۰،رقم:۷۲۴،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[72] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/558،رقم:1339،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[73] السنن والأحكام عن المصطفى عليه أفضل الصلاة والسلام:3/526،رقم:3834،ت:أبو عبد الله حسين بن عكاشة، دار ماجد عيري ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴25هـ .

[74] كتاب الميسر في شرح مصابيح السنة:3/1025،رقم:3484،ت:عبد الحميد هنداوي،مكتبة نزار مصطفى الباز ـ مكة المكرمة،الطبعة الثانية1429هـ . 

[75] المجموع شرح المهذب:6/512،إدارة  الطباعة المنيرية .

[76] تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف:13/34،رقم:1829،ت:عبدالصمد شرف الدین،المکتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰3 هـ .

[77] تنقیح التحقیق في أحاديث التعليق:3/376،رقم:2026،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .

[78] ديوان الضعفاء:ص:308،رقم:3245،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[79] تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال:7/276،رقم:5307،ت:مسعد كامل،أيمن سلامة،عبد السميع ومحمد نعناعة،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1425هـ .

[80] التكميل في الجرح والتعديل ومعرفة الثقات والضعفاء والمجاهيل:4/341،رقم:2842،ت:شادي بن محمد بن سالم آل نعمان،مكتبة ابن عباس ـ مصر،الطبعة الأولى1432هـ .

[81] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:۲/598،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[82] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:۹/۶۱،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[83] مجمع الزوائد:1/314،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[84] تقريب التهذيب:ص:433،رقم:5206،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[85] إتحاف المهرة:3/277،رقم:3007،ت:زهير بن ناصر الناصر،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1415هـ .

[86] نتائج الأفكار في تخرج أحاديث الأذكار:5/128،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت، الطبعة الثانية1429هـ .

[87] التلخيص الحبير:1/386،رقم:194،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[88] التلخيص الحبير:1/386،رقم:194،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[89] التلخيص الحبير:4/261،رقم:1845،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .

[90] الغرائب الملتقطة:1/318،رقم:90،ت:أبو بكر أحمد جالو،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى1439 هـ .

[91] شرح مصابيح السنة:5/165،رقم:3602،ت:نور الدين طالب،إدارة الثقافية الإسلاميةطباعة والتوزيع، الطبعة1433هـ .

[92] تنزيه الشريعة:۱/94،رقم:368،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ