اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من مات فقد قامت قيامته‘‘.جو مرجائے تو اس کی قیامت قائم ہوگئی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو سلیمان داؤد بن محَبَّر بن قَحذم بن سلیمان طائی بصری بَکراوی (المتوفی ۲۰۶ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں: ’’سمعت يحيى يقول: ليس بكذاب، قال يحيى: وقد كتبت عن أبيه المُحَبَّر بن قَحْذَم، وكان داود ثقة، ولكنه جفا الحديث، ثم حدث‘‘[8]. میں نے یحیی l کو فرماتے ہوئے سنا: داؤد بن محَبَّر کذاب نہیں ہے، یحیی l فرماتے ہیں: اور میں نے اس کے والد محَبَّر بن قَحذم سے حدیث نقل کی ہے، اور داؤد ثقہ ہے، لیکن وہ حدیث سے اعراض کئے رہا، پھر حدیث بیان کرنی شروع کردی۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’داود بن المُحَبَّر ليس بكذاب، ولكنه كان رجلا قد سمع الحديث بالبصرة، ثم صار إلى عَبَّادان، فصار مع الصوفية، فعمل الخوص والأسل، فنسي الحديث وجفاه، ثم قدم بغداد، فجاء أصحاب الحديث، فجعل يخطئ في الحديث، لأنه لم يجالس أصحاب الحديث، ولكنه كان في نفسه ليس يكذب‘‘[9]. داؤد بن محَبَّر کذاب نہیں ہے، لیکن یہ ایسا آدمی تھاکہ اس نے بصرہ میں حدیث سنی، پھر عَبَّادان جا کر صوفیاء کے ساتھ مل گیا، اور کھجور کے پتوں اور نباتات میں مشغول ہوگیا، جس کے نتیجہ میں حدیث بھول گیا اور حدیث سے اعراض کئے رہا، پھر یہ بغداد آگیا، اصحاب حدیث اس کے پاس آگئے، تو وہ حدیث میں خطا کرنے لگا، کیونکہ اس نے اصحاب حدیث کی ہمنشینی اختیار نہیں کی تھی، لیکن بذات خود یہ جھوٹ نہیں بولتا تھا۔
نیز حافظ یحیی بن معین l ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ما زال معروفا بالحديث، يكتب الحديث، وترك الحديث، ثم ذهب فصحب قوما من المعتزلة، فأفسدوه، وهو ثقة‘‘[10]. وہ حدیث میں معروف رہا ہے، وہ حدیث لکھتا تھا، اس نے حدیث کو ترک کردیا تھا، پھر جا کر معتزلہ کی ایک جماعت کے ساتھ جاملا، تو انہوں نے اس کو بگاڑ دیا، حالانکہ وہ ثقہ ہے۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’ليس له بخت‘‘[11]. اس (داؤد بن محَبَّر) کےلئے کوئی نصیب نہیں ہے۔
امام علی بن مدینی l نے داؤد بن محَبَّر کے بارے میں ’’ذهب حديثه‘‘ کہا ہے[12]۔
امام احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[13] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’شبه لا شيء، كان يدري[كذا في الأصل: والصحيح: لايدري] ذاك إيش الحديث‘‘. وہ لاشیء کی طرح ہے، وہ نہیں جانتا تھا کہ حدیث کیا چیز ہے۔
امام احمد بن حنبل l نے ایک مقام پر داؤد بن محَبَّر کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[14]۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[15] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام بخاری l ’’الضعفاء‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، شبه لا شيء، كان لا يدري ما الحديث‘‘. منکر الحدیث ہے، شبہ لاشیء ہے، یہ نہیں جانتا کہ حدیث کیا چیز ہے۔
حافظ ابو اسحاق جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[17] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان يروي عن كل، وكان مضطرب الأمر‘‘. وہ ہر کسی سے روایت کرتا ہے، اور وہ مضطرب الامر ہے۔
حافظ ابو زرعہ l نے داؤد بن محَبَّر کو ’’ضعيف الحديث ‘‘ کہا ہے[18]۔
امام ابو داؤد l ، داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو ثقة، شبه الضعيف، وبلغني عن يحيى فيه كلام أنه يوثقه‘‘[19]. وہ ثقہ ہے، ضعیف کی طرح ہے، اور مجھے یحیی l سے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ ابن محَبَّر کو ثقہ کہتے تھے۔
حافظ ابو حاتم رازی l فرماتے ہیں: ’’داود بن المُحَبَّر غير ثقة، ذاهب الحديث، منكر الحديث‘‘[20]. داؤد بن محَبَّر غیر ثقہ ہے، ذاہب الحدیث ہے، منکر الحدیث ہے۔
حافظ ابو علی صالح بن محمد جزرہ l ، داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’داود بن المُحَبَّر يكذب، ويضعف في الحديث‘‘[21]. داؤد بن محَبَّر جھوٹ بولتا ہے، اور حدیث میں اس کی تضعیف کی جاتی ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[22] میں داؤد بن محَبَّر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[23] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع الحديث على الثقات، ويروي عن المجاهيل المقلوبات‘‘. اور وہ ثقہ لوگوں پر حدیث گھڑتا تھا، اور وہ مجاہیل سے مقلوبات روایت کرتا تھا۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[24] میں داؤد بن محَبَّر کے ترجمہ میں چند روایتیں ذکرکرکے فرماتے ہیں: ’’وعند داود كتاب قد صنفه في فضائل العقل، وفيه أحاديث مسندة، وكل تلك الأخبار أو عامتها غير محفوظات، وداود له أحاديث صالحة، خارج كتاب العقل، ويشبه أن تكون صورته ما ذكره يحيى بن معين، أنه كان يخطئ، ويصحف الكثير، وفي الأصل أنه صدوق، كما ذكره‘‘. اور داؤد کی ایک کتاب ہے جو اس نے عقل کے فضائل میں تصنیف کی ہے، اور اس میں مسند احادیث ہیں، اور یہ تمام خبریں یا ان میں سے اکثر غیر محفوظ ہیں، اور داؤد کی صالح احادیث بھی ہیں جو ’’ کتاب العقل‘‘ میں نہیں ہیں، اور اس کے مشابہ صورت وہ ہے جو یحیی بن معین l نے ذکر کی ہے کہ یہ خطا کرتا تھا، اور بہت زیادہ تصحیف کرتا تھا، اور در حقیقت یہ صدوق ہے، جیسا کہ یحیی l نے ذکر کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فإن داود يهم الكثير، ويخطئ‘‘. بلاشبہ داؤد کو بہت وہم ہوتا ہے، اور یہ خطا کرتا ہے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے داؤد بن محَبَّر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[26]۔
امام دار قطنی l ’’الضعفاء‘‘[27] میں داؤد بن محبر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يضع، بصري، كان ببغداد، متروك(الحديث)‘‘. حدیث گھڑتا ہے، بصری ہے، بغداد میں رہتا ہے، متروک الحدیث ہے۔
امام دار قطنی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’كتاب العقل وضعه أربعة: أولهم ميسرة بن عبد ربه، ثم سرقه منه داود بن المُحَبَّر، فركبه بأسانيد غير أسانيد ميسرة، وسرقه عبد العزيز بن أبي رجاء، فركبه بأسانيد أخر، ثم سرقه سليمان بن عيسى السِجْزي، فأتى بأسانيد أخر‘‘[28]. کتاب العقل کو چار لوگوں نے گھڑا ہے: ان میں سب سے پہلے میسرہ بن عبد ربہ ہے، پھر اس کو میسرہ سے داؤد بن محَبَّر نے سرقہ کیا، اس نے میسرہ کی سندوں کے علاوہ سندیں اس کے ساتھ جوڑ دیں، اور اس کو عبد العزیز بن ابی رجاء نے سرقہ کیا، اس نے اس کے ساتھ دوسری سندیں جوڑ دیں، پھر اس کو سلیمان بن عیسی سِجْزی نے سرقہ کیا، چنانچہ وہ اس کی دوسری اسانید لے آیا۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکم l ’’المدخل‘‘[29] میں داؤد بن محَبَّرکے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث ببغداد عن جماعة من الثقات بأحاديث موضوعة، حدثونا عن الحارث بن أسامة [ كذا في الأصل، والصحيح: الحارث بن أبي أسامة] عنه بكتاب العقل، وأكثر ما أودع ذلك الكتاب من الحديث موضوع على رسول الله صلى الله عليه وسلم، كذبه أحمد بن حنبل، جزاه الله عن نبيه صلى الله عليه وسلم‘‘. اس نے بغداد میں ثقات کی ایک جماعت کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کیں، ہمیں محدثین نے حارث بن اسامہ، عن داؤد کی سند سے ’’ کتاب العقل‘‘بیان کی ہے، اور اس میں موجود اکثر وہ حدیثیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر گھڑی گئی ہیں، احمد بن حنبل l نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، اللہ تعالی انہیں اپنے نبی ﷺ کی طرف سے اچھا بدلہ عطا فرمائے۔
حافظ عبد الغنی بن سعید ازدی l ’’المؤتلف والمختلف‘‘[30] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، صاحب كتاب العقل، وهو موضوع‘‘. یہ منکر الحدیث ہے، ’’ کتاب العقل‘‘ والا ہے، جو من گھڑت ہے۔
حافظ ابو نعیم l ’’المستخرج‘‘[31] میں داؤد بن محَبَّر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’حدث بمناكير في العقل وغيره، حدثونا عن الحارث بن أبي أسامة، كذبه أحمد بن حنبل والبخاري رحمهما الله‘‘. اس نے ’’ کتاب العقل‘‘ اور اس کے علاوہ میں منکر روایات بیان کی ہیں، محدثین نے ہمیں حارث بن ابی اسامہ، عن داؤد کی سند سے اسے بیان کیا ہے، احمد بن حنبل l اور بخاری l نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حزم l ’’المحلى‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’داود بن المُحَبَّر كذاب، مشهور بوضع الحديث‘‘. داؤد بن محَبَّر کذاب ہے، حدیث گھڑنے میں مشہور ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[33] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حال داود ظاهرة في كونه غير ثقة، ولو لم يكن له غير وضعه كتاب العقل بأسره، لكان دليلا كافيا على ما ذكرته‘‘. داؤد کے غیر ثقہ ہونے کی حالت ظاہر ہے، اور اگر اس نے مکمل ’’ کتاب العقل‘‘ کے علاوہ کچھ بھی نہ گھڑا ہوتا تو یہی بات میری ذکر کردہ بات کےلئے کافی دلیل ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عساکر l اپنی ’’معجم‘‘[35] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’داود بن المُحَبَّر بن قَحْذَم، وميسرة بن عبد ربه كذابان‘‘. داؤد بن محَبَّر بن قَحْذم اور میسرہ بن عبد ربہ دونوں کذاب ہیں۔
حافظ ابن عبد الہادی حنبلی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وداود تألف‘‘. اور داؤد تالف ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[38] اور ’’المغني‘‘[39]میں داؤد بن محَبَّر کو ’’واه‘‘ اور ’’المقتنى‘‘[40] میں ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[41] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ بوصیری l نے ’’إتحاف الخيرة‘‘[42] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[43] میں داؤد بن محَبَّر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وأكثر كتاب العقل الذي صنفه موضوعات‘‘. متروک ہے، اور اس کی تصنیف کردہ ’’ کتاب العقل‘‘ کی اکثر روایات من گھڑت ہیں۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[44] میں ایک روایت کے تحت داؤد بن محَبَّر کو ’’ كذاب‘‘ کذاب کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[45] میں داؤد بن محَبَّر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: يضع الحديث على الثقات‘‘. ابن حبان l فرماتے ہیں: ثقہ راویوں پر حدیث گھڑتا ہے۔
حوالہ جات
[8] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/299،رقم:4920،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[9] الضعفاء الكبير للعقيلي:2/35،رقم:458ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[10] انظرتاريخ بغداد:8/356،رقم:4459،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[11] انظرتاريخ بغداد:8/35۷،رقم:4459،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[12] الجرح والتعدیل:3/424،رقم:1931،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[13] العلل ومعرفة الرجال:۱/388،رقم:766،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[14] انظرالمجروحين:1/۲91،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[15] التاريخ الكبير:3/2۱۵،رقم:۳۷۳۱،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[16] الضعفاء الصغير:ص:45،رقم:110،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[17] أحوال الرجال:ص:336،رقم:369،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، الطبعة الأولى1411هـ .
[18] سؤالات البرذعي:ص:225،رقم:393،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[19] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۳۵۶،رقم:۶۲۷،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مكتبة دار الاستقامة ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1418هـ .
[20] الجرح والتعدیل:3/424،رقم:1931،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[21] انظرتاريخ بغداد:۸/۳۵۷،رقم:۴۴۵۹،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[22] الضعفاء والمتروكين:ص:100،رقم:192،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية- بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[23] المجروحين:1/۲91،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[24] الكامل في ضعفاء الرجال:3/57۴،رقم:635،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[25] الكامل في ضعفاء الرجال:3/۱۲۳،رقم:۴۴۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] الضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:۱/۲68،رقم:۱۱68،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[27] الضعفاء والمتروکون:ص:202،رقم:208،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[28] انظرتاريخ بغداد:8/356،رقم:4459،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[29] المدخل إلى الصحيح:ص:135،رقم:54،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[30] المؤتلف والمختلف في أسماء نقلة الحديث وأسماء آبائهم وأجدادهم:2/637،رقم:1875،ت:مثنى محمد حميد الشمري وقيس عبد إسماعيل التميمي،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1428هـ .
[31] المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم:1/64،رقم:63،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[32] المحلى بالآثار:1/241،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[33] تاريخ بغداد:8/356،رقم:4459،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[34] ذخيرةالحفاظ:2/806،رقم:1562،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[35] معجم الشيوخ:1/257،رقم:298،ت:وفاء تقي الدين،دارالبشائرـ دمشق،الطبعة الأولى۱۴۲۱هـ .
[36] تنقيح التحقيق:1/303،ت:سامي بن محمد بن جاد الله وعبد العزيز بن ناصر الخياني،دار أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴28هـ .
[37] ميزان الاعتدال:3/85،رقم:5688،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] الكاشف:1/382،رقم:1460،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .
[39] المغني في الضعفاء:1/335،رقم:2024،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[40] المقتنى في سرد الكنى:1/291،رقم:2860،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[41] مجمع الزوائد:10/139،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[42] إتحاف الخیرة المهـرة بزوائد المسانید العشرة:1/181،رقم:221،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن للنشر ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴20هـ .
[43] تقريب التهذيب:ص:200،رقم:1811،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[44] تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:4/270،رقم:2420،ت:أبو عاصم حسن بن عباس، مؤسسة قرطبة ـ مكة،الطبعة الأولى 1416هـ .
[45] تنزيه الشريعة:1/59،رقم:14،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .