اس روایت کی تحقیق سے
عورتوں کےلئے حالتِ حمل، وضعِ حمل، رضاعت وغیرہ پر مشتمل روایت
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)عمرو بن سعید الخولانی کے بارے میں ائمہ کے اقوال:
۱- حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[11] میں رقمطراز ہیں:
’’...وقد روی عن أنس بن مالک حدیثا موضوعاً، یشهد المُمْعِنُ في الصناعة بوَضْعه، لا یحل ذکرُه في الکتب إلا على وجه الاختبار للخواص‘‘.
’’۔۔۔ عمرو نے حضرت انس بن مالکr سے ایک موضوع روایت مروی ہے، جس کے موضوع ہونے پر ہر وہ شخص گواہ ہے ،جو صناعتِ حدیث میں گہری سوچ رکھتا ہو، صرف خواص کے اختبار کےلئے اسے کتابوں میں ذکر کرنا جائز ہے‘‘۔
اس کلام کے بعد حافظ ابنِ حبان نے زیرِ بحث روایت تخریج کی۔
۲- علامہ عقیلیl ’’الضعفاء الکبیر‘‘[12] میں لکھتے ہیں: ’’عن أنس، لا یتابع علیه ولا یعرف إلا به، ولا یتابعه إلا من هو دونه‘‘. عمرو نے حضرت انس r سے ایک روایت نقل کی ہے،ان کے علاوہ کسی دوسرے راوی نے یہ حدیث حضرت انسr سے نقل نہیں کی ہے،عمرو کو صرف اسی روایت سے پہچانا جاتا ہے، اور ان کی متابعت ان سے کم تر لوگ ہی کرتے ہیں۔
حافظ عقیلیl نے اس کلام کے بعد زیرِبحث روایت ا ختصاراً نقل کی۔
۳- حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[13] میں لکھتے ہیں: ’’عن أنس، حدث بموضوعات...‘‘. عمرو نے حضرت انسr سے من گھڑت احادیث نقل کی ہے۔۔۔‘‘۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l نے مذکورہ روایت اور ابن حبان l کا قول نقل کیا ہے۔
واضح رہے کہ علامہ سیوطی l نے ’’اللآلئ المصنوعة‘‘ میں زیرِ بحث روایت اور ابن حبانl کا قول نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’قلت: أخرجه الحسن بن سفیان في مسنده من طریق هشام بن عمار به، انتهی‘‘[14]. میں کہتا ہوں کہ حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں ہشام بن عمار کے طریق سے اس روایت کی تخریج کی ہے، انتہی۔
واضح رہے کہ حسن بن سفیانl کے اس طریق میں بھی عمرو بن سعید الخولانی موجود ہے، جن کے بارے میں حافظ ابنِ حبانl اور حافظ ذہبیl تصریح کرچکے ہیں کہ وہ روایتیں گھڑتا تھا، چنانچہ یہ طریق بھی مفید نہیں، یہی وجہ ہے کہ علامہ شوکانی l ’’الفوائد المجموعة‘‘[15] میں علامہ سیوطیl کے کلام کو نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’هشام بن عمار یرویه عن عمار بن نصر[16] عن عمرو بن سعید، فإخراج هذا الحدیث في کتاب آخر من طریق هذا الوضاع، لا یأتي بفائدة‘‘.
ہشام بن عمار اس روایت کو عمار بن نصرسے اور عمار، عمرو بن سعید سے نقل کرنے والا ہے، چنانچہ کسی دوسری کتاب میں اسی وضاع کے طریق سے اس حدیث کی تخریج کرنا، بے سود ہے۔
حوالہ جات
[11] المجروحين:عمرو ين سعيد الخولاني:2/68،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت .
[12] الضعفاء الكبير:عمرو بن سعيد الخولاني:3/272،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت .
[13] ميزان الاعتدال: عمرو بن سعيد الخولاني:3/261،رقم:6372،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[14] اللآلئ المصنوعة:2/148،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1428هـ .
[15] الفوائد المجموعة:كتاب النكاح:133،رقم:45،ت:عبد الرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[16] كذا في ’’الفوائد المجموعة‘‘ والصحيح’’نصير‘‘.