التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

الحسن بن محمد ابومحمد البلخی قاضی مرو

ایک روایت میں تذکرہ

الحسن بن محمد ابومحمد البلخی قاضی مرو کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

الحسن بن محمد ابومحمد البلخی قاضی مرو پر ائمہ کا کلام:

ابن حبانl فرماتے ہیں:

’’شیخ، یروي عن حمید الطویل وعوف الأعرابي الأشیاء الموضوعة، و(عن) غیرهما من الثقات الأحادیث المقلوبة، لا یجوز الاحتجاج به ولا الروایة عنه بحال...‘‘[24].

’’یہ شیخ حمید طویل اور عوف اعرابی سے من گھڑت روایتیں نقل کرتا تھا، اور ان دونوں کے علاوہ دیگر ثقات سے تبدیل کی ہوئی حدیثیں نقل کرتا تھا، اس سے احتجاج کرنا اور اس سے روایت نقل کرنا بہر صورت جائز نہیں ہے۔۔۔‘‘۔

حافظ ذہبیl فرماتے ہیں کہ یہ’’ متروک الحدیث‘‘ (صیغہ جرح) ہے[25]۔

ابن عدیl فرماتے ہیں کہ اس کی ساری حدیثیں مناکیر ہیں[26]۔

حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں:

’’وقد غفل ابن حبان فذکره في الثقات، وذکره العقیلي فقال: منکر الحدیث... وقال أبوسعید النقاش: حدث عن حمید عن أنس أحادیث موضوعة...‘‘[27].

’’ابن حبان l نے غفلت سے حسن بن محمد بلخی کو ثقات میں ذکر کردیا ہے، اور عقیلیl نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’منکر الحدیث‘‘ (صیغہ جرح) ہے۔۔۔  اور ابوسعید نقاشl نے کہا کہ وہ حمید عن انسr کی سند سے من گھڑت روایتیں نقل کرتا تھا۔۔۔‘‘.

حافظ ابن حجرl کے کلام کی وضاحت:

حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حبانl سے تسامح ہوا ہے؛ کیونکہ ابن حبانl نے حسن بلخی کو ’’مجروحین‘‘ میں بھی ذکر کیا ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور پھر حسن بلخی کو ’’ثقات‘‘ میں بھی ذکر کر دیا۔

حوالہ جات

[24] المجروحين:1/238،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت .

[25] تاريخ الإسلام:5/224،رقم:4906،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 2005ء .

[26] الكامل في الضعفاء:الحسن بن محمد أبو محمد البلخي القاضي مرو:3/165،رقم:454،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[27] لسان المیزان:3/111،رقم:2383،ت:شيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ