التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

زیاد بن میمون الثقفی الفاکہی

ایک روایت میں تذکرہ

زیاد بن میمون الثقفی الفاکہی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

زیاد بن میمون الثقفی الفاکہی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[36]میں لکھتے ہیں:

’’قال اللیث بن عبدة: سمعت ابن معین یقول: زیاد بن میمون لیس یسوي قلیلاً ولا کثیراً، وقال ـ مرة: لیس بشيء، وقال یزید بن هارون: کان کذاباً، وقال البخاري: ترکوه، وقال أبو زرعة: واهي الحدیث، وقال الدارقطني: ضعیف، وقال أبو داود: أتیته فقال: أسغفر اﷲ وضعتُ هذه الأحادیث‘‘.

وقال بشر بن عمر الزهراني: سألت زیاد بن میمون أبا عمار عن حدیث لأنس، فقال: احسبوني کنتُ یهودیا ’’أو نصرانیاً، قد رجعتُ عما کنتُ أحدث به عن أنس، لم أسمع من أنس شیئاً...‘‘.

’’لیث بن عبدہ کہتے ہیں کہ یحیی بن معینl فرماتے ہیں کہ زیاد بن میمون نہ تھوڑے کے مساوی ہے نہ زیادہ کے(جرح)، اور ایک مرتبہ اسے ’’لیس بشیء‘‘ (جرح) کہا، اور یزید بن ہارون نے زیاد کو کذاب کہا ہے، اور امام بخاریl فرماتے ہیں کہ محدثین نے زیاد کو ترک کہا ہے، اور ابوزرعہl نے زیاد کو ’’واہی الحدیث‘‘ (جرح) کہا ہے، دارقطنیl نے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔ ابوداؤدl فرماتے ہیں کہ میں زیاد کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ استغفر اللہ یہ حدیثیں میں نے گھڑی تھیں، بشر بن عمر زہرانی فرماتے ہیں کہ میں ابوعمار زیاد بن میمون سے حضرت انسr  کی حدیث کے متعلق پوچھتا تو اس نے کہا: تم مجھے گذشتہ عرصہ میں یہودی سمجھو یا نصرانی (بہر حال) میں جو احادیث حضرت انسr سے نقل کر کے بیان کرتا تھا، میں نے اب ان سے رجوع کرلیا ہے کیونکہ میں نے حضرت انسr سے کچھ نہیں سنا۔۔۔‘‘۔

واضح رہے کہ مذکورہ روایت بھی زیاد بن میمون حضرت انس بن مالک r سے نقل کرنے والے ہیں۔

حوالہ جات

[36] ميزان الاعتدال:2/94،رقم:2967،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ