اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی بچہ کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنےلگے تو اس سے حساب معاف ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی اشعث بن محمد کِلابی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبیl ’’ميزان‘‘[50] میں لکھتے ہیں:’’أتى بخبر موضوع‘‘. اشعث بن محمد کِلابی ایک من گھڑت خبر لایا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’لسان الميزان‘‘[51] میں حافظ ذہبیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغنی‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’جاء بحديث موضوع‘‘. اشعث بن محمد کِلابی ایک من گھڑت حدیث لایا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ذيل دیوان الضعفاء‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’مجهول، وحديثه كذب‘‘.یہ مجہول ہے ، اور اس کی حدیث جھوٹی ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[54] میں اشعث بن محمد کِلابی کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[50] ميزان الاعتدال:۱/269،رقم:1005،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[51] لسان الميزان:2/203،رقم:1292،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[52] المغني في الضعفاء:۱/۱۲۹،رقم:۷۶۳،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[53] ذيل ديوان الضعفاء:ص:24،رقم:72،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة 1387هـ .
[54] تنزيه الشريعة:۱/۴۰،رقم:۳۰۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .