اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی بچہ کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنےلگے تو اس سے حساب معاف ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو عمیر عبدالکبیر بن محمد بن عبد اللہ بن حفص بن ہشام انصاری بخاری اَنَسی بصری (المتوفی ۲۹۱ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’اتهمه ابن عدي بوضع الحديث‘‘. ابن عدی l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے اسے ’’میزان‘‘[20] میں ’’متهم بالكذب‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl نے عبد الکبیر کو ’’المغنی‘‘[21] میں ’’متهم‘‘ اور ’’دیوان الضعفاء‘‘[22] میں ’’ليس بثقة‘‘ قرار دیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیl ’’الکشف الحثیث‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’متهم بالكذب، قال ابن الجوزي في باب ثواب من ربى صبيا: قال ابن عدي: البلاء من أبي عمير انتهى‘‘. یہ متہم بالکذب ہے، ابن جوزیl نے ’’باب ثواب من ربی صبیا‘‘ میں کہا ہے: ابن عدیl فرماتے ہیں: بلاء ابو عمیر کی جانب سے ہے، انتہی۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[24] میں ابو عمیر عبدالکبیر کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[19] الضعفاء والمتروکین:۲/۱۱۳،رقم:۱۹۷۰،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[20] ميزان الاعتدال:2/644،رقم:5159،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت,الطبعة۱۴۰۶هـ .
[21] المغني في الضعفاء:2/4،رقم:3775،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[22] ديوان الضعفاء:ص:255،رقم:2587،ت:حماد بن محمد،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة1387هـ .
[23] الكشف الحثيث:1/172،رقم:457,ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .
[24] تنزيه الشريعة:۱/۸۹ ،رقم:۱۸۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .