التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عمیر عبدالکبیر بن محمد بن عبد اللہ بن حفص بن ہشام انصاری بخاری اَنَسی بصری

المتوفی ۲۹۱ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عمیر عبدالکبیر بن محمد بن عبد اللہ بن حفص بن ہشام انصاری بخاری اَنَسی بصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عمیر عبدالکبیر بن محمد بن عبد اللہ بن حفص بن ہشام انصاری بخاری اَنَسی بصری (المتوفی ۲۹۱ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ ابن جوزی l  ’’الضعفاء‘‘[19] میں فرماتے ہیں:  ’’اتهمه ابن عدي بوضع الحديث‘‘. ابن عدی l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبیl نے اسے ’’میزان‘‘[20] میں ’’متهم بالكذب‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبیl نے عبد الکبیر کو ’’المغنی‘‘[21]  میں ’’متهم‘‘ اور ’’دیوان الضعفاء‘‘[22]  میں ’’ليس بثقة‘‘ قرار دیا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیl ’’الکشف الحثیث‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’متهم بالكذب، قال ابن الجوزي في باب ثواب من ربى صبيا: قال ابن عدي: البلاء من أبي عمير انتهى‘‘. یہ متہم بالکذب ہے، ابن جوزیl نے ’’باب ثواب من ربی صبیا‘‘ میں کہا ہے: ابن عدیl فرماتے ہیں: بلاء ابو عمیر کی جانب سے ہے، انتہی۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[24] میں ابو عمیر عبدالکبیر کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[19] الضعفاء والمتروکین:۲/۱۱۳،رقم:۱۹۷۰،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .

[20] ميزان الاعتدال:2/644،رقم:5159،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت,الطبعة۱۴۰۶هـ .

[21] المغني في الضعفاء:2/4،رقم:3775،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[22] ديوان الضعفاء:ص:255،رقم:2587،ت:حماد بن محمد،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة1387هـ .

[23] الكشف الحثيث:1/172،رقم:457,ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .

[24] تنزيه الشريعة:۱/۸۹ ،رقم:۱۸۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ