التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالک انصاری

المتوفی ۲۲۴ھ او ۲۲۵ھ2 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: ابراہیم بن براء بن نضر

ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالک انصاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابراہیم بن براء بن نضر (المتوفی ۲۲۴ھ او ۲۲۵ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[22]  میں لکھتے ہیں: ’’من ولد النضر بن أنس بن مالك، شيخ، كان يدور بالشام، ويحدث عن الثقات بالأشياء الموضوعات، وعن الضعفاء والمجاهيل بالأشياء المناكير، لا يجوز ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه‘‘. یہ نضر بن انس بن مالک r کی اولاد میں سے ہے،یہ شیخ ہے، شام میں گھومتا تھا، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت چیزیں بیان کرتا تھا، ضعیف اور مجہول راویوں سے ایسی مناکیر روایت کرتا تھا جن کا ذکر کتابوں میں صرف جرح ہی کے طریقےپر جائز ہے۔

حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[23]  میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘. یہ شدید ضعیف ہے، اور یہ شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور ان کے علاوہ دیگر ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl ، ابراہیم بن براء کی چند روایات لا کر فرماتے ہیں: ’’وإبراهيم بن البراء هذا أحاديثه التي ذكرتها,وما لم أذكرها كلها مناكير موضوعة، ومن اعتبر حديثه علم أنه ضعيف جدا، وهو متروك الحديث‘‘. ابراہیم بن براء کی وہ احادیث جن کو میں نے ذکر کیا اور جن کو میں ذکر نہیں کیا ساری مناکیر، من گھڑت ہیں،اور جو شخص بھی اس کی حدیث کا اعتبار کرے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ شدید ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وإبراهيم كذاب‘‘.ابراہیم جھوٹا ہے۔

حافظ عقیلیl ’’ الضعفاء الكبير‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات بالبواطيل‘‘.ابراہیم بن براء ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو عبد اللہ حاکمl’’المدخل‘‘[26] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ من أهل البصرة، حدث بها وبالشام بأحاديث مناكير عن حماد بن سلمة والدراوردي وغيرهما‘‘.شیخ بصرہ والوں میں سے ہے، اور بصرہ  و شام میں اس نے حماد بن سلمہ اور دراوردی وغیرہ کے انتساب سے منکر احادیث بیان کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[27] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ بصري، حدث بالشام عن شعبة، وحماد بن سلمة، والدراوردي مناكير، حدثونا عن بكر بن سهل عنه، لا شيء‘‘.شیخ بصری ہے، اس نے شام میں شعبہ، حماد بن سلمہ اور دراوردی کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں، محدثین نے بکر بن سہل عنہ کے واسطہ سے ہمیں اس کی احادیث بیان کی ہیں، یہ لاشئ ہے۔

حافظ خطیب بغدادیl ’’ الموضح‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’وإنما كثر الاختلاف في نسب هذا الرجل لأجل ضعفه، ووهاء رواياته، وكان من أهل البصرة فنزل الموصل، وحدث بها وبغيرها من البلدان أحاديث منكرة عن مالك، وشعبة، والحمادين، وشريك، فغير نسبه من سمع منه تدليسا للرواية عنه، والله أعلم‘‘.اس شخص کے ضعف اور اس کی روایات کےواہی ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت میں کثرت سے اختلاف واقع ہوا ہے، یہ بصرہ والوں میں سے تھا، پھر موصل آیا، اور وہاں اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں اس نے مالک، شعبہ، حمادین اورشریک کے انتساب سےمنکر احادیث بیان کی ہیں، چنانچہ اس سے سننے والوں نے تدلیساً اس سے روایت کرتے ہوئے اس کی نسبت کو تبدیل کیا ہے۔

حافظ ابن ماكولاl ’’ الإكمال‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء بن النضر بن أنس بن مالك الأنصاري ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘. ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالکr ’’ضعیف جداً ‘‘ہے، شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور ان کے علاوہ ثقات سے باطل روایات نقل کی ہیں۔

حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبیl ’’دیوان الضعفاء‘‘[31]  میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء: عن الحمادين، اتهم بالوضع‘‘.ابراہیم بن براء جو حمادین  سے نقل کرتا ہے، متہم بالوضع ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کو ’’ضعيف جدا‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl ’’التوضيح‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ أحاديثه باطلة‘‘. اس کی احادیث باطل ہیں۔

علامہ ابن عراقl نے’’تنزيه الشريعة‘‘[34] میں ابراہیم بن براء کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن عدیl ، حافظ عقیلیl ، حافظ ابن حبانl ، امام ابو عبد اللہ حاکمl اور حافظ خطیب بغدادیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حوالہ جات

[22] المجروحين:1/117،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[23] الكامل في ضعفاء الرجال:1/411،رقم:85 ،ت:عادل أحمد,وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[24] تذكرة الحفاظ:ص:327،رقم:823 ،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .

[25] الضعفاء الكبير:1/45،رقم:31،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[26] المدخل إلى الصحيح:ص:116،رقم:6،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ  بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[27] المسند المستخرج:1/58،رقم:6،ت:محمد حسن محمد حسن إسمعيل شافعي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[28] موضح أوهام الجمع:1/401،ت:عبد الرحمن بن يحيى المعلمي اليماني،دار الفكر الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الثانية1405هـ .

[29] الإكمال في رفع الارتياب:۲/314،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[30] تلخيص الموضوعات:ص:200،رقم:481،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[31] ديوان الضعفاء:ص:14،رقم:156،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة 1387هـ .

[32] مجمع الزوائد:۲/۲۹۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[33] توضيح المشتبه:۹/۶۳،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة1406هـ .

[34] تنزيه الشريعة:1/20،رقم:11،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالک انصاری (المتوفی ۲۲۴ھ  او ۲۲۵ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[34] میں لکھتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء من ولد النضر بن أنس بن مالك، شيخ كان يدور بالشام، ويحدث عن الثقات بالأشياء الموضوعات، وعن الضعفاء، والمجاهيل بالأشياء المناكير، لا يجوز ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه‘‘.

ابراہیم بن براء، نضر بن انس بن مالک کی اولاد میں سے ہے،یہ شیخ شام میں گھومتا تھا، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت چیزیں بیان کرتا تھا، ضعیف اور مجہول راویوں سے ایسی مناکیر روایت کرتا تھا جن کا ذکر کتابوں میں صرف جرح ہی کے طریقےپر درست ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن حبانl نے زیر بحث روایت نقل کی ہے۔

حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[35]  میں لکھتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء بن النضر بن أنس بن مالك الأنصاري ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘.ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالک انصاری شدید ضعیف ہے، اور یہ شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور ان کے علاوہ دیگر ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl ابراہیم بن براء کی چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’وإبراهيم بن البراء هذا أحاديثه التي ذكرتها,وما لم أذكرها كلها مناكير موضوعة، ومن اعتبر حديثه علم أنه ضعيف جدا، وهو متروك الحديث‘‘. ابراہیم بن براء اس کی وہ احادیث جن کو میں نے ذکر کیا اور جن کو میں ذکر نہیں کیاساری مناکیر من گھڑت ہیں، اور جو شخص بھی اس کی حدیث کا اعتبار کرے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ شدید ضعیف ہے، اور یہ متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[36] میں زیر بحث روایت نقل کرکے فرماتے ہیں:’’وإبراهيم كذاب‘‘.ابراہیم جھوٹا ہے۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات بالبواطيل‘‘.ابراہیم بن براء ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[38] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ بصري، حدث بالشام عن شعبة، وحماد بن سلمة، والدَرَاوَرْدِي مناكير، حدثونا عن بكر بن سهل عنه، لا شيء‘‘.شیخ بصری ہے، اس نے شام میں شعبہ، حماد بن سلمہ اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں، محدثین نے بکر بن سہل عنہ کے واسطہ سے ہمیں اس کی احادیث بیان کی ہیں، یہ لاشئ ہے۔

حافظ ابو عبد اللہ حاکمl ’’المدخل‘‘[39] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ من أهل البصرة، حدث بها وبالشام بأحاديث مناكير عن حماد بن سلمة والدَرَاوَرْدِي وغيرهما‘‘.شیخ بصرہ والوں میں سے ہے، اور بصرہ  و شام میں اس نے حماد بن سلمہ اور دَرَاوَرْدِی وغیرہ کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں۔

حافظ خطیب بغدادیl ’’الموضح‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’وإنما كثر الاختلاف في نسب هذا الرجل لأجل ضعفه، ووهاء رواياته، وكان من أهل البصرة فنزل الموصل، وحدث بها وبغيرها من البلدان أحاديث منكرة، عن مالك، وشعبة، والحمادين، وشريك، فغير نسبه من سمع منه تدليسا للرواية عنه، والله أعلم‘‘.اس شخص کے ضعف اور اس کی روایات کےواہی ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت میں کثرت سے اختلاف واقع ہوا ہے، یہ بصرہ والوں میں سے تھا، پھر موصل آیا، اور وہاں اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں اس نے مالک، شعبہ، حمادین اورشریک کے انتساب سےمنکر احادیث بیان کی ہیں، چنانچہ اس سے سننے والوں نے تدلیس کی وجہ سے اس سے روایت کرتے ہوئے اس کی نسبت کو تبدیل کیا ہے۔

حافظ ابن ماكولاl’’الإكمال‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء بن النضر بن أنس بن مالك الأنصاري ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘. ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالکr ضعیف جداً ہے، شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زیداور ان کے علاوہ ثقات سے باطل روایات نقل کی ہے۔

حافظ ذہبیl کا قول پہلے گزر چکا ہے،نیز حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[42] میں زیر بحث روایت کے تحت ابراہیم بن براء کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ہی’’دیوان الضعفاء‘‘[43]  میں لکھتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء: عن الحمادين، اتهم بالوضع‘‘.ابراہیم بن براء جو حمادین  سے نقل کرتا ہے، متہم بالوضع ہے۔

علامہ ابن عراقl نے’’تنزيه الشريعة‘‘[44] میں ابراہیم بن براء کو کذابین ومتہمین کی فہرست میں شامل کرکے حافظ ابن عدیl، حافظ عقیلیl، حافظ ابن حبانl، حافظ ابو عبد اللہ حاکمl اور حافظ خطیب بغدادیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حوالہ جات

[34] المجروحين:1/117،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[35] الكامل في ضعفاء الرجال:1/411،رقم:85،ت:عادل أحمد,عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[36] تذكرة الحفاظ:ص:327،رقم:823،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .

[37] الضعفاء الكبير:1/45،رقم:31،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[38] المسند المستخرج:ص:58،رقم:6،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[39] المدخل:ص:116،رقم:6،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ  بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[40] موضح أوهام الجمع والتفريق:1/401،دار الفكر الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية1405هـ .

[41] الإكمال في رفع الارتياب:۲/314،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[42] تلخيص الموضوعات:ص:200،رقم:481،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[43] ديوان الضعفاء:ص:14،رقم:156،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة 1387هـ .

[44] تنزيه الشريعة:1/20،رقم:11،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ