اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے انس ! جب کسی کام کا ارادہ کرو تو سات مرتبہ اپنے رب سے استخارہ کرو‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابراہیم بن براء بن نضر (المتوفی ۲۲۴ھ او ۲۲۵ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[22] میں لکھتے ہیں: ’’من ولد النضر بن أنس بن مالك، شيخ، كان يدور بالشام، ويحدث عن الثقات بالأشياء الموضوعات، وعن الضعفاء والمجاهيل بالأشياء المناكير، لا يجوز ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه‘‘. یہ نضر بن انس بن مالک r کی اولاد میں سے ہے،یہ شیخ ہے، شام میں گھومتا تھا، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت چیزیں بیان کرتا تھا، ضعیف اور مجہول راویوں سے ایسی مناکیر روایت کرتا تھا جن کا ذکر کتابوں میں صرف جرح ہی کے طریقےپر جائز ہے۔
حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘. یہ شدید ضعیف ہے، اور یہ شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور ان کے علاوہ دیگر ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن عدیl ، ابراہیم بن براء کی چند روایات لا کر فرماتے ہیں: ’’وإبراهيم بن البراء هذا أحاديثه التي ذكرتها,وما لم أذكرها كلها مناكير موضوعة، ومن اعتبر حديثه علم أنه ضعيف جدا، وهو متروك الحديث‘‘. ابراہیم بن براء کی وہ احادیث جن کو میں نے ذکر کیا اور جن کو میں ذکر نہیں کیا ساری مناکیر، من گھڑت ہیں،اور جو شخص بھی اس کی حدیث کا اعتبار کرے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ شدید ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وإبراهيم كذاب‘‘.ابراہیم جھوٹا ہے۔
حافظ عقیلیl ’’ الضعفاء الكبير‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات بالبواطيل‘‘.ابراہیم بن براء ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکمl’’المدخل‘‘[26] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ من أهل البصرة، حدث بها وبالشام بأحاديث مناكير عن حماد بن سلمة والدراوردي وغيرهما‘‘.شیخ بصرہ والوں میں سے ہے، اور بصرہ و شام میں اس نے حماد بن سلمہ اور دراوردی وغیرہ کے انتساب سے منکر احادیث بیان کی ہیں۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[27] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’شيخ بصري، حدث بالشام عن شعبة، وحماد بن سلمة، والدراوردي مناكير، حدثونا عن بكر بن سهل عنه، لا شيء‘‘.شیخ بصری ہے، اس نے شام میں شعبہ، حماد بن سلمہ اور دراوردی کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں، محدثین نے بکر بن سہل عنہ کے واسطہ سے ہمیں اس کی احادیث بیان کی ہیں، یہ لاشئ ہے۔
حافظ خطیب بغدادیl ’’ الموضح‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’وإنما كثر الاختلاف في نسب هذا الرجل لأجل ضعفه، ووهاء رواياته، وكان من أهل البصرة فنزل الموصل، وحدث بها وبغيرها من البلدان أحاديث منكرة عن مالك، وشعبة، والحمادين، وشريك، فغير نسبه من سمع منه تدليسا للرواية عنه، والله أعلم‘‘.اس شخص کے ضعف اور اس کی روایات کےواہی ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت میں کثرت سے اختلاف واقع ہوا ہے، یہ بصرہ والوں میں سے تھا، پھر موصل آیا، اور وہاں اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں اس نے مالک، شعبہ، حمادین اورشریک کے انتساب سےمنکر احادیث بیان کی ہیں، چنانچہ اس سے سننے والوں نے تدلیساً اس سے روایت کرتے ہوئے اس کی نسبت کو تبدیل کیا ہے۔
حافظ ابن ماكولاl ’’ الإكمال‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء بن النضر بن أنس بن مالك الأنصاري ضعيف جدا، حدث عن شعبة، وحماد بن سلمة، وحماد بن زيد، وغيرهم من الثقات بالبواطيل‘‘. ابراہیم بن براء بن نضر بن انس بن مالکr ’’ضعیف جداً ‘‘ہے، شعبہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور ان کے علاوہ ثقات سے باطل روایات نقل کی ہیں۔
حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’دیوان الضعفاء‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن البراء: عن الحمادين، اتهم بالوضع‘‘.ابراہیم بن براء جو حمادین سے نقل کرتا ہے، متہم بالوضع ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کو ’’ضعيف جدا‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl ’’التوضيح‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن براء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ أحاديثه باطلة‘‘. اس کی احادیث باطل ہیں۔
علامہ ابن عراقl نے’’تنزيه الشريعة‘‘[34] میں ابراہیم بن براء کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن عدیl ، حافظ عقیلیl ، حافظ ابن حبانl ، امام ابو عبد اللہ حاکمl اور حافظ خطیب بغدادیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[22] المجروحين:1/117،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[23] الكامل في ضعفاء الرجال:1/411،رقم:85 ،ت:عادل أحمد,وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[24] تذكرة الحفاظ:ص:327،رقم:823 ،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[25] الضعفاء الكبير:1/45،رقم:31،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .
[26] المدخل إلى الصحيح:ص:116،رقم:6،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[27] المسند المستخرج:1/58،رقم:6،ت:محمد حسن محمد حسن إسمعيل شافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[28] موضح أوهام الجمع:1/401،ت:عبد الرحمن بن يحيى المعلمي اليماني،دار الفكر الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الثانية1405هـ .
[29] الإكمال في رفع الارتياب:۲/314،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[30] تلخيص الموضوعات:ص:200،رقم:481،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[31] ديوان الضعفاء:ص:14،رقم:156،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة،الطبعة 1387هـ .
[32] مجمع الزوائد:۲/۲۹۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[33] توضيح المشتبه:۹/۶۳،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة1406هـ .
[34] تنزيه الشريعة:1/20،رقم:11،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .