اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی اسماعیل بن سلمان بن ابی مغیرہ ازرق تمیمی کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[32]۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر اسماعیل بن سلمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بشيء‘‘[33]. اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[34] میں اسماعیل بن سلمان کے ترجمہ میں ’’حدیث طیر‘‘اور ایک دوسری حدیث نقل کی، پھر فرماتے ہیں: ’’لا يتابع عليه‘‘. ان کی متابعت نہیں ہوتی۔
حافظ ابو زرعہ l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’واهي الحديث، ضعيف الحديث‘‘کہا ہے[35]۔
امام ابو داؤد l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[36]۔
حافظ ابوحاتم l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[37]۔
حافظ یعقوب فَسَوی l نے ’’المعرفة‘‘[38] میں اسماعیل بن سلمان کو ’’باب من یرغب عن الروایۃ عنہم‘‘(باب ان لوگوں کے بارے میں جن کی روایت سے اعراض کیا جاتا ہے) میں شمار کیا ہے۔
امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[39] میں اسماعیل ازرق، عن انس r کے طریق سے مشہور ’’حدیث طیر‘‘ تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وكل من رواه عن أنس فليس بالقوي‘‘. انس r سے اسے روایت کرنے والا ہر شخص غیر قوی ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[40] میں اسماعیل بن سلمان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[41]۔
حافظ ابن حبان l ’’الثقات‘‘[42] میں اسماعیل بن سلمان کو ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’يخطئ‘‘. یہ خطاء کرتا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’ينفرد بمناكير، ويرويها عن المشاهير‘‘. مناکیر نقل کرنے میں متفرد ہے، اور انہیں مشاہیر کے انتساب سے روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن نُمیر l، اسماعیل بن سلمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، وإنما نقم على وكيع به‘‘[44]. یہ متروک الحدیث ہے، اس کی وجہ سے (یعنی اس سے روایت کرنے کی وجہ سے) وکیع کو بُرا جانا جاتا تھا۔
حافظ ابن نُمیر l ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’إسماعيل الأزرق الذي يروي عن أبي عمر كان من الشيعة الغلاة، وأبو عمر صاحب ابن الحنفية ‘‘[45]. اسماعیل ازرق جو ابو عمر سے روایت کرتا ہے وہ غالی شیعہ میں سے تھا، اور ابو عمر، صاحبِ ابن حنفیہ ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[46] میں فرماتے ہیں: ’’وإسماعيل بن سلمان هذا قد روى عن أنس أيضا حديث الطير في فضائل علي رضوان الله عليه، وغيره من الأحاديث‘‘. اس اسماعیل بن سلمان نے انس r سے بھی علی رضوان اللہ علیہ کے فضائل میں ’’حدیث طیر‘‘وغیرہ احادیث روایت کی ہیں۔
حافظ مغلطای l نے ’’إكمال‘‘[47] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تهذيب التهذيب‘‘[48] میں حافظ ابن عدی l کے حوالہ سے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے: ’’البلاء فيها منه‘‘. ان میں اسماعیل بن سلمان کی جانب سے ’’بلاء‘‘ ہے۔
حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[49] میں اسماعیل بن سلمان کو ذکر کیا ہے۔
حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[50] میں ’’حدیث طیر‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’رواه الضعفاء، مثل: إسماعيل بن سلمان الأزرق وأشباهه‘‘. اسے ضعفاء نے روایت کیا ہے، جیسے: اسماعیل بن سلمان ازرق اور ان جیسے لوگ۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[51] میں ایک حدیث کے تحت اسماعیل بن سلمان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے اسماعیل بن سلمان کو ’’المغني‘‘[52] میں ’’ضعفه غير واحد‘‘، ’’ديوان‘‘[53] میں ’’ضعفوه‘‘ اور ’’الكاشف‘‘[54] میں ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[55] میں اسماعیل بن سلمان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان‘‘[56] میں اسحاق بن کثیر کے ترجمہ میں ایک مقام پر کلام فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وتعقبه النباتي بأن شيخه هذا هو إسماعيل بن سلمان الأزرق، وليس بحجة‘‘. اور نَبَاتی(یعنی حافظ ابن رومیہ l) نے ان کا تعاقب ان الفاظ سے کیا ہے: اسحاق بن کثیر کا شیخ اسماعیل بن سلمان ازرق ہے، اور یہ حجت نہیں ہے۔
حوالہ جات
[32] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/337،رقم:2269،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[33] انظر الجرح والتعدیل:۲/176،رقم:590،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[34] التاريخ الكبير:۱/۳۳۶،رقم:۱۱۳۲،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[35] انظر الجرح والتعدیل:۲/176،رقم:590،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[36] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:۱۵۵،رقم:۱۲۹،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1399هـ .
[37] الجرح والتعدیل:۲/176،رقم:590،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[38] المعرفة والتاريخ:3/3۶،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[39] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۴/۸۰ ،رقم:۷۵۴۷،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .
[40] الضعفاء والمتروكين:ص:151،رقم:37،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[41] انظر إكمال تهذيب الكمال:۲/۱۷۷،رقم:۴۹۱،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[42] الثقات:4/19،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة۱۳۹۳هـ .
[43] المجروحين:۱/1۲۰،رقم:35،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الثالثة 1433هـ .
[44] المجروحين:۱/1۲۰،رقم:35،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الثالثة 1433هـ .
[45] الجرح والتعدیل:۱/۳۲۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[46] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۴۹،رقم:۱۱۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[47] إكمال تهذيب الكمال:۲/۱۷۷،رقم:۴۹۱،ت:أبي عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱422هـ .
[48] تهذيب التهذيب:۱/۳۰۴،رقم:۵۵۷،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۶هـ .
[49] الضعفاءوالمتروكون:ص:۱۳۳،رقم:۷۶،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[50] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:1/۴۲۰،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى 1409هـ .
[51] ذخيرة الحفاظ:ص:۲۰۹۵،رقم:۴۸۴۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[52] المغني في الضعفاء:۱/۱۲۴،رقم:۶۶۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[53] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۳۴،رقم:۴۰۷،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[54] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۱/۲۴۶،رقم:۳۸۰،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[55] تقريب التهذيب:ص:۱۰۷،رقم:۴۵۰،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[56] لسان المیزان:۲/۶۹،رقم:۱۰۵۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1423هـ .