التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سعید یحیی بن عبد اللہ بن ضحاک حَرَّانی بَابْلُتِّی

المتوفی ۲۱۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابو سعید یحیی بن عبد اللہ بن ضحاک حَرَّانی بَابْلُتِّی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

اس روایت کی تحقیق سے

روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)

سند میں موجود راوی ابو سعید یحیی بن عبد اللہ بن ضحاک حَرَّانی بَابْلُتِّی (المتوفی ۲۱۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’وقال أحمد بن حنبل: أما السماع فلا يدفع‘‘. احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: سماعت کی تردید نہیں کی جا سکتی۔

اس کے بعد امام بخاری l نے یحیی بَابْلُتِّی کی اوزاعی سے تحدیث کی صراحت کے ساتھ ایک حدیث تعلیقاً نقل کی ہے۔

حافظ عبد اللہ بن احمد دَوْرَقی l فرماتے ہیں: ’’قدم يحيى بن معين حران، فطمع البَابْلُتِّي أن يجيئه، فوجه إليه بصرة فيها مئة دينار، وطعام طيب، فرد الصرة وقبل الطعام، فقيل ليحيى يوم دخل: ما تقول في البَابْلُتِّي؟ قال: والله! إن صلته حسنة وطعامه طيب، إلا أنه لم يسمع من الأوزاعي شيئا‘‘[16]. یحیی بن معین l حران تشریف لائے، تو بَابْلُتِّی کو یہ طمع ہوئی کہ وہ ان کے پاس آئے، سو بَابْلُتِّی ، یحیی بن معین l کے پاس ایک تھیلی لے کر آیا جس میں سو دینار تھے، اور عمدہ کھانا لایا، تو یحیی بن معین l نے تھیلی واپس لوٹا دی، اور کھانا قبول کرلیا، آمد کے دن یحیی بن معین l سے کہا گیا: آپ بَابْلُتِّی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یحیی بن معین l نے فرمایا: بلا شبہ وہ اچھے سلوک والا ہے، اور اس کا کھانا عمدہ ہے، البتہ اس نے اوزاعی l سے کچھ نہیں سنا[17]۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’سمعت النفيلي يحمل عليه، وقال لى: كتبت عنه؟ فقلت: لا، أوهمته أني لم أكتب عنه من أجل ضعفه، وإنما قدمت حران، وقد كان توفي‘‘[18]. میں نے نُفَیْلی (یعنی حافظ عبد اللہ بن محمد نُفَیْلی حَرَّانی l) سے سنا، وہ اس پر ’’حمل‘‘ کرتے تھے، اور مجھ سے نُفَیْلیl نے کہا: آپ نے اس سے لکھا؟ تو میں نے کہا: نہیں، میں نے یحیی بن عبد اللہ کے ضعف کی وجہ سے نُفَیْلی کو یہ ایہام دیا کہ میں نے اس سے نہیں لکھا ہے، اور میں حران آیا تو یحیی بن بن عبد اللہ کا انتقال ہوچکا تھا۔

حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’سألت أبا زرعة عن يحيى بن عبد الله بن الضحاك الحَرَّاني: فقال: لا أحدث عنه، ولم يقرأ علينا حديثه‘‘. میں نے ابو زرعہ l سے یحیی بن عبد اللہ بن ضحاک حَرَّانی کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: میں اس سے حدیث بیان نہیں کرتا، اور ہم پر ابو زرعہ l نے اس کی حدیث نہیں پڑھی۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’ كان كثير الخطأ، لا يدفع عن السماع، ولكنه يأتي عن الثقات بأشياء معضلات ممن كان يهم فيها، حتى ذهب حلاوته عن القلوب لما شاب أحاديثه المناكير، فهو عندي فيما انفرد به ساقط الاحتجاج، وفيما لم يخالف الثقات معتبر به، وفيما وافق الثقات محتج به‘‘. یہ کثیر الخطا ہے، سماعت میں اس کی تردید نہیں کی جا سکتی، لیکن یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی معضل اشیاء لاتا ہے جن میں اسے وہم ہوتا تھا، یہاں تک کہ اس کی حلاوت دلوں سے نکل گئی، کیونکہ اس کی احادیث سے مناکیر مل گئی ہیں، سو یہ میرے نزدیک ان احادیث میں ساقط الاحتجاج ہے جن میں یہ متفرد ہو، اور جن میں یہ ثقات کی مخالفت نہ کرے ان کا اعتبار کیا جائےگا، اور جن میں یہ ثقات کی موافقت کرے وہ محتج بہ ہیں۔

حافظ بن عدی l ’’الكامل‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’وليحيى البَابْلُتِّي عن الأوزاعي أحاديث صالحة، وفي تلك الأحاديث أحاديث ينفرد بها عن الأوزاعي، ويروي عن غير الأوزاعي من المشهورين والمجهولين، والضعف على حديثه بين‘‘. اور یحیی بَابْلُتِّی کی اوزاعی سے صالح احادیث ہیں، اور ان احادیث میں ایسی احادیث بھی ہیں جن میں یحیی، اوزاعی سے نقل کرنے میں متفرد ہے، اور یحیی،  اوزاعی کے علاوہ مشہور اور مجہول لوگوں سے بھی روایت کرتا ہے، اور اس کی حدیث میں ضعف واضح ہے۔

حافظ خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[22]میں فرماتے ہیں: ’’[شيخ مشهور، أكثر عن الأوزاعي، وطعنوا في سماعه منه، منهم من يحسن القول فيه، ومنهم من يضعفه]، قيل: إنه أنفذ إلى يحيى بن معين حين دخل حران بدنانير، فقال: لا تكتب عني، ولا تتكلم في‘‘. مشہور شیخ ہے، اوزاعی سے کثرت سے روایت کرتا ہے، اور اسے اوزاعی سے سماعت میں مطعون قرار دیا گیا ہے، بعض نے اس کے بارے میں اچھا قول اختیار کیاہے، اور بعض نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، کہا گیا ہے کہ جب یحیی بن معین lحَرَّان داخل ہوئے تو اس نے ان کے پاس دنانیر بھیج کر کہا: میرے متعلق مت لکھو، اور میرے بارے میں گفتگو مت کرو۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[23] میں ایک روایت کو من گھڑت قرار دینے کے بعد یحیی بن عبد اللہ بَابْلُتِّی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والآفة من البَابْلُتِّي‘‘. اور آفت بَابْلُتِّی کی طرف سے ہے۔

امام بغویl ’’شرح السنة‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت یحیی بن عبد اللہ بَابْلُتِّی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تكلموا فيه، وهو محتج به فيما يوافق الثقات‘‘. اس کے بارے میں کلام کیاگیا ہے، اور یہ ان روایات میں محتج بہ ہے جن میں یہ ثقہ راویوں کی موافقت کرے۔

حافظ ذہبیl نے یحیی بن عبد اللہ بَابْلُتِّی کو ’’الكاشف‘‘[25] میں ’’لين‘‘ اور ’’المغني‘‘[26] میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l  نے ’’مجمع الزوائد‘‘[27] میں ایک حدیث کے تحت یحیی بن عبد اللہ بَابْلُتِّی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[28] میں یحیی بن عبد اللہ بَابْلُتِّی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[15] التاريخ الكبير:۸/۱۶۹،رقم:۱۲۳۶۵،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[16] الكامل في ضعفاء الرجال:9/119،رقم:2151،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[17] امام اوزاعی l سے یحیی بَابْلُتِّی کی سماعت کے حوالہ سے ’’تاریخ دمشق‘‘میں ہے: ’’أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الملك، وأبو المطهر عبد المنعم بن أحمد بن يعقوب بن أحمد السامكاني [ كذا في الأصل، والصحيح: الشَامَكَاني]، قالا: أنا أبو طاهر بن محمود، أنا أبو بكر بن المقرئ، نا سلامة بن محمود العسقلاني، نا فهد بن سليمان، قال: سمعت يحيى بن عبد الله البَابْلُتِّي، يقول: لقيت الأوزاعي سنة ست وستين ومائة، قال ابن عساكر: لا أخال هذا التاريخ محفوظا، فإن الأوزاعي مات سنة سبع وخمسين ومائة، فإن كان محفوظا من قول البَابْلُتِّي، فيدل على أنه لم يلق الأوزاعي، ولم يسمع منه، ويشهد لقول يحيى بن معين بالصحة: إنه لم يسمع من الأوزاعي شيئا‘‘. (تاريخ دمشق:64/298،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي، دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ) .

[18]  الجرح والتعدیل:۹/۱۶۴،رقم:۶۸۱،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[19]  الجرح والتعدیل:۹/۱۶۵،رقم:۶۸۱،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[20] المجروحين:3/127،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[21] الكامل في ضعفاء الرجال:9/1۲۰،رقم:2151،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[22] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/467،رقم:191،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى 1409هـ .

[23] تذكرة الحفاظ:ص:۴۴،رقم:۸۴ ،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[24]  شرح السنة:۱/۲۴۳،ت:شعيب الأرناؤوط ومحمد زهير الشاوش،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية1403هـ .

[25]  الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۳۶۹،رقم:۶۱۹۷،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[26] المغني في الضعفاء:۲/۵۲۱،رقم:۷۰۰۳،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[27] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:2/75،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[28] تقريب التهذيب:ص:۵۹۳،رقم:۷۵۸۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ