التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو نضر محمد بن سائب کلبی کوفی

المتوفی ۱۴۶ھ2 روایات میں تذکرہ

ابو نضر محمد بن سائب کلبی کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو نضر محمد بن سائب کلبی کوفی(المتوفی ۱۴۶ھ) کے بارے میں ائمہ کے اقوال

حافظ سفیان ثوری l فرماتے ہیں کہ کلبی نے مجھ سےکہا کہ ہروہ شے جو میں نے ابوصالح سے نقل کی ہے، وہ جھوٹی ہے[22]۔

امام ابن حبان l فرماتے ہیں کہ حافظ ابو حاتم l کا کہنا ہے: ’’الکلبی هذا مذهبه في الدين، ووضوح الكذب فيه أظهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفه‘‘[23].یہ ہے کلبی کا مذہب،کلبی کی روایات میں جھوٹ اس قدر واضح ہے کہ ان کے احوال کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

حافظ جوزجانی l  فرماتے ہیں: ’’ كذاب‘‘[24].

امام یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، كذاب، ساقط‘‘[25].

حافظ زائدہ l،امام لیث l اور حافظ سلیمان تیمیl فرماتےہیں: ’’وہ کذاب ہے‘‘[26]۔

حافظ سعدی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب ساقط‘‘[27].

حافظ دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’ متروك ‘‘[28].

حافظ ابو نعیم اصبہانی l  لکھتے ہیں: ’’ محمد بن السائب الكلبي عن أبي صالح أحاديثه موضوعة‘‘[29].محمدبن سائب کلبی، ابوصالح سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:

’’وقد حدث عن الكلبي سفيان وشعبة وجماعة، ورضوه في التفسير، وأما في الحديث فعنده مناكير، وخاصة إذا روى عن أبي صالح، عن ابن عباس‘‘.کلبی سے سفیان ثوری l ،شعبہ l اور ائمہ کی ایک جماعت نے روایت نقل کی ہے،یہ حضرات ان کی تفسیر سے راضی رہے ہیں،البتہ احادیث میں ان کے ہاں مناکیر ہیں، خاص کر جب وہ عن ابی صالح عن ابن عباس r کے طریق سے روایت نقل کرے[30]۔

حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں: ’’متهم بالكذب، ورمي بالرفض‘‘[31].

محمد بن سائب کے ترجمہ میں باذام او باذان ابوصالح مولی ام ہانی کا ذکر آتا رہا ہے،اس لئے ضمناًذیل میں ان کے احوال بھی لکھے جا رہے ہیں:

حوالہ جات

[22] الكامل في الضعفاء:۶/ ۱۱۵،رقم:۱۶۲۶، دار الفکر – بیروت، الطبعة الثانية: ۱۴۰۵ هـ .

[23] المجروحين:۲/ ۲۵۳، ت: محمود ابراهيم زايد،دار المعرفة-  بيروت،ط:۱۴۱۲ هـ .

[24]  ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹،رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .

[25] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزی،۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[26] الضعفاء والمتروكين، ۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[27] الضعفاء والمتروكين، ۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[28]  ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹، رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .

[29]   كتاب الضعفاء:ص:۱۳۸، رقم:۲۱۰، ت: فاروق حمادة، دارالثقافة –  قاهره ، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ

[30]  ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹،رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .

[31]  تقريب التهذيب:ص:۴۷۹، رقم:۵۹۰۱، ت: محمد عوامة، دار الرشد -  سوريا، ط:۱۴۰۶ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

ابو نضر محمد بن سائب کلبی کوفی(المتوفی  ۱۴۶ھ) کے بارے میں ائمہ کے اقوال

حافظ سفیان ثوری  l  فرماتے ہیں  ’’قال الكلبي: كل شيء أحدث عن أبي صالح فهو كذب‘‘. کلبی نے کہا کہ ہروہ شے جو میں  ابوصالح سے نقل کرتاہوں وہ جھوٹی ہے[10] ۔

حافظ ابن حبان l  فرماتے ہیں:  ’’الکلبی هذا مذهبه في الدين. ووضوح الكذب فيه أظهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفه‘‘[11]. یہ ہے کلبی کا مذہب،کلبی کی روایات میں  جھوٹ اس قدر واضح ہے کہ ان کے احوال کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

حافظ جوزجانی  l   فرماتے ہیں:  ’’كذاب‘‘[12]  .

امام یحیی بن معین l  فرماتے ہیں: ’’ ليس بشيء، كذاب، ساقط‘‘[13].

حافظ زائدہ  l، امام لیث  l اورحافظ سلیمان تیمیl  فرماتےہیں: ’’وہ کذاب ہے‘‘[14] ۔

حافظ سعدی l  فرماتے ہیں:  ’’ كذاب، ساقط‘‘[15] .

حافظ دارقطنیl  فرماتے ہیں:  ’’ متروك‘‘[16] .

حافظ ابو نعیم اصبہانی   l   لکھتے ہیں:  ’’محمد بن السائب الكلبي عن أبي صالح، أحاديثه موضوعة‘‘[17]. محمدبن سائب کلبی، ابوصالح کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l  فرماتے ہیں:  ’’وقد حدث عن الكلبي سفيان وشعبة وجماعة، ورضوه في التفسير، وأما في الحديث فعنده مناكير، وخاصة إذا روى عن أبي صالح، عن ابن عباس‘‘.

کلبی سے سفیان ثوری l، شعبہ l  اور ائمہ کی ایک جماعت نے روایت نقل کی ہے، یہ حضرات ان کی تفسیر سے راضی رہے ہیں، البتہ احادیث میں ان کے ہاں مناکیر ہیں، خاص کر جب وہ ابی صالح عن ابن عباس رضی اللہ عنہما  کے طریق سے روایت نقل کرے[18] ۔

حافظ ابن حجرl  فرماتے ہیں:  ’’متهم بالكذب، ورمي بالرفض‘‘[19].

حوالہ جات

[10] الكامل في الضعفاء:7/274،رقم:۱۶۲۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بیروت .

[11] المجروحين:۲/۲۵۳،ت:محمودإبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعةالأولى1۴۱۲هـ .

[12] ميزان الاعتدال:۳/۵۵۹،رقم:۷۵۷۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[13] الضعفاءوالمتروكين لابن الجوزی،۳/۶۲،رقم:۲۹۹۸،ت:عبدالله قاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[14] الضعفاءوالمتروكين لابن الجوزی،۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸،ت:عبدالله قاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[15] الضعفاءوالمتروكين لابن الجوزی،۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸،ت:عبدالله قاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[16] ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹،رقم:۷۵۷۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[17] كتاب الضعفاء:ص:۱۳۸،رقم:۲۱۰،ت:فاروق حمادة،دار الثقافة ـ القاهره،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[18] ميزان الاعتدال:۳/558،رقم:۷۵۷۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[19] تقريب التهذيب:ص:۴۷۹، قم:۵۹۰۱،ت:محمد عوامة،دار الرشد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ