اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’ لم يكن يُرى له ظِلٌ .....‘‘ .
حضور ﷺ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)ابو نضر محمد بن سائب کلبی کوفی(المتوفی ۱۴۶ھ) کے بارے میں ائمہ کے اقوال
حافظ سفیان ثوری l فرماتے ہیں کہ کلبی نے مجھ سےکہا کہ ہروہ شے جو میں نے ابوصالح سے نقل کی ہے، وہ جھوٹی ہے[22]۔
امام ابن حبان l فرماتے ہیں کہ حافظ ابو حاتم l کا کہنا ہے: ’’الکلبی هذا مذهبه في الدين، ووضوح الكذب فيه أظهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفه‘‘[23].یہ ہے کلبی کا مذہب،کلبی کی روایات میں جھوٹ اس قدر واضح ہے کہ ان کے احوال کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
حافظ جوزجانی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب‘‘[24].
امام یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، كذاب، ساقط‘‘[25].
حافظ زائدہ l،امام لیث l اور حافظ سلیمان تیمیl فرماتےہیں: ’’وہ کذاب ہے‘‘[26]۔
حافظ سعدی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب ساقط‘‘[27].
حافظ دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’ متروك ‘‘[28].
حافظ ابو نعیم اصبہانی l لکھتے ہیں: ’’ محمد بن السائب الكلبي عن أبي صالح أحاديثه موضوعة‘‘[29].محمدبن سائب کلبی، ابوصالح سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔
حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:
’’وقد حدث عن الكلبي سفيان وشعبة وجماعة، ورضوه في التفسير، وأما في الحديث فعنده مناكير، وخاصة إذا روى عن أبي صالح، عن ابن عباس‘‘.کلبی سے سفیان ثوری l ،شعبہ l اور ائمہ کی ایک جماعت نے روایت نقل کی ہے،یہ حضرات ان کی تفسیر سے راضی رہے ہیں،البتہ احادیث میں ان کے ہاں مناکیر ہیں، خاص کر جب وہ عن ابی صالح عن ابن عباس r کے طریق سے روایت نقل کرے[30]۔
حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں: ’’متهم بالكذب، ورمي بالرفض‘‘[31].
محمد بن سائب کے ترجمہ میں باذام او باذان ابوصالح مولی ام ہانی کا ذکر آتا رہا ہے،اس لئے ضمناًذیل میں ان کے احوال بھی لکھے جا رہے ہیں:
حوالہ جات
[22] الكامل في الضعفاء:۶/ ۱۱۵،رقم:۱۶۲۶، دار الفکر – بیروت، الطبعة الثانية: ۱۴۰۵ هـ .
[23] المجروحين:۲/ ۲۵۳، ت: محمود ابراهيم زايد،دار المعرفة- بيروت،ط:۱۴۱۲ هـ .
[24] ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹،رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .
[25] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزی،۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[26] الضعفاء والمتروكين، ۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[27] الضعفاء والمتروكين، ۳/ ۶۲،رقم:۲۹۹۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[28] ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹، رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .
[29] كتاب الضعفاء:ص:۱۳۸، رقم:۲۱۰، ت: فاروق حمادة، دارالثقافة – قاهره ، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ
[30] ميزان الاعتدال:۳/ ۵۵۹،رقم:۷۵۷۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .
[31] تقريب التهذيب:ص:۴۷۹، رقم:۵۹۰۱، ت: محمد عوامة، دار الرشد - سوريا، ط:۱۴۰۶ هـ .