اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’ لم يكن يُرى له ظِلٌ .....‘‘ .
حضور ﷺ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)عبد الرحمن بن قيس ابو معاویہ زعفرانی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
امام احمدl کا قول
عبد اللہ بن احمدl ’’ العلل ومعرفة الرجال‘‘ میں فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عبد الرحمن بن قیس زعفرانی کے بارے میں پوچھا،آ پ نےموصوف كے بارے میں کہا: ’’ لم يكن بشيء متروك الحديث (شديد جرح) ‘‘[5].
حافظ عقیلی lنے ’’الضعفا ءالکبیر‘‘[6]میں اور حافظ محمد بن طاہرمقدسی l نے ’’معرفة التذکرة‘‘[7]میں زعفرانی کے متعلق امام احمد کے قول پر اكتفاءکیا ہے۔
امام عبدالرحمن بن مہدیl کاکلام
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاریخ مدینة السلام‘‘ میں عبدالرحمن بن قیس کے بارے میں حافظ ابن مہدی l کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں: ’’ كان عبد الرحمن بن مهدي يكذّبه‘‘[8]. عبد الرحمن بن مہدی l اسے جھوٹا کہتے تھے۔
امام ابو زرعہ رازی l کاکلام
حافظ ابن حبان l کاکلام
حافظ ابو حاتم محمد بن حبا ن البستی l ’’المجروحین‘‘ میں عبد الرحمن بن قیس زعفرانی کےمتعلق فرماتے ہیں:
’’ كان ممن يقلب الأسانيد، وينفرد عن الثقات بما لا يشبه حديث الأثبات، تركه أحمد بن حنبل ‘‘[11]. یہ ان لوگوں میں سے تھا جو سندوں میں تبدیلی کیا کرتے تھے، اوریہ تنہا ثقہ راویوں سے ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جوثقہ راویوں کی روایات کے مشابہ نہیں ہوتیں،احمد بن حنبل l نے اسے ترک کر دیا تھا۔
امام ابوسعد عبدالکریم السمعانیl ’’الأنساب‘‘[12]میں عبدالرحمن بن قیس زعفرانی کے متعلق امام احمدl اور ابن حبانl کے کلام پر اكتفاءکرتے ہیں۔
امام بخاریl کاکلام
امام بخاریl ’’التاریخ الکبیر‘‘[13] میں عبد الرحمن بن قیس کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ذهب حديثه‘‘ (جرح)۔
امام مسلمl کاکلام
حافظ خطیب بغدادیl’’تاریخ مدینة السلام‘‘[14] میں عبدالرحمن بن قیس کےمتعلق امام مسلم l کاقول نقل فرماتے ہیں: ’’ذاهب الحديث‘‘ (جرح)۔
امام نسائیl کا قول
امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث ‘‘(شديدجرح) .
امام صالح بن محمد بغدادیl کا کلام
صالح بن محمد بغدادی l،عبدالرحمن بن قیس زعفرانی کے متعلق فرماتے ہیں : ’’ كان يضع الحديث‘‘[16] . وہ حدیثیں گھڑتاتھا۔
حافظ خطیب بغدادی l نے ’’تاریخ مدینة السلام‘‘[17] میں عبدالرحمن بن قیس زعفرانی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l، حافظ عبد الرحمن بن مہدی l، حافظ ابو زرعہ رازی l،امام بخاری l، امام مسلمlاور ابوعلی صالح بن محمدl کے کلام پر اكتفاء کیا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l کا قول
حافظ ابن حجرl کاکلام
حافظ ابن حجر l ’’تقریب التهذیب‘‘[20]میں عبدالرحمن بن قیس زعفرانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، كذبه أبو زرعة وغيره‘‘ .یہ متروک ہے، ابو زرعہ l وغیرہ نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
حوالہ جات
[5] العلل ومعرفة الرجال: ۱/ ۳۸۴، رقم:۷۴۸، ت: وصي الله بن محمد عباس، المكتب الإسلامي– بيروت، الطبعة الأولى:۱۴۰۸هـ .
[6] الضعفاءالکبیر: باب العین، ۲/ ۳۴۲، رقم: ۹۳۱، ت: عبد المعطی أمین قلعجی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۸ هـ .
[7] معرفة التذکرة: حرف المیم، ص: ۲۶، میر محمد کتب خانه – کراتشی.
[8] تاریخ مدینة السلام: من اسمه عبدالرحمن، ۱۱/ ۵۲۶، رقم: ۵۳۲۱، ت: دکتور بشار عوّاد، دار الغرب الإسلامی - بیروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[9] تاریخ مدینة السلام: من اسمه عبدالرحمن، ۱۱/ ۵۲۶، رقم: ۵۳۲۱، ت: دکتور بشار عوّاد، دار الغرب الإسلامی - بیروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[10] المغنی: حرف العین،۱/ ۵۴۴، رقم: ۳۶۱۴، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[11] المجروحين: باب العین، ۲/ ۵۹،ت: محمود ابراهيم زايد،دار المعرفة– بيروت،ط: ۱۴۱۲ هـ .
[12] الأنساب للسمعانی: باب الزاء والعین، الزنی، ۳/ ۱۵۳، ت: عبدالله عمر البارودی،دارالجنان- بیروت، الطبعةالأولى: ۱۴۰۸ هـ .
[13] التاریخ الکبیر: باب عبدالرحمن، ۵/ ۳۳۹، رقم: ۱۰۸۲، ت: محمد عبید بن علی، دار الكتب العلمية– بيروت،ط: ۱۴۰۷ هـ .
[14] تاریخ مدینة السلام: من اسمه عبدالرحمن، ۱۱/ ۵۲۶، رقم: ۵۳۲۱، ت: دکتور بشار عوّاد،دار الغرب الإسلامی - بیروت،ط: ۱۴۱۲ هـ .
[15] الضعفاء والمتروکین: باب العین، ۱۵۹، رقم: ۳۸۳،ت: کمال یوسف الحوت، مؤسسة الکتب الثقافية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .
[16] تاریخ مدینة السلام: من اسمه عبدالرحمن، ۱۱/ ۵۲۶، رقم: ۵۳۲۱، ت: دکتور بشار عوّاد، دار الغرب الإسلامی - بیروت،ط: ۱۴۱۲ هـ .
[17] تاریخ مدینة السلام: من اسمه عبدالرحمن، ۱۱/ ۵۲۶، رقم: ۵۳۲۱، ت: دکتور بشار عوّاد، دار الغرب الإسلامی - بیروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[18] کتاب الضعفاء: باب العین، ۱۰۳،ت: فاروق حمادة، دار الثقافة- بیروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .
[19] الضعفاء والمتروکین: ۲ / ۹۸، رقم:۱۸۹۲، ت: عبدالله قاضی، دار الكتب العلمية– بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .
[20] تقريب التهذيب: ص: ۳۴۹،رقم:۳۹۸۹،ت: محمد عوامة، دار الرشد - سوريا،ط:۱۴۰۶ هـ .