اس روایت کی تحقیق سے
حکایت: ابومعلق تاجرصحابیr کا ڈاکو سے حفاظت کی نماز میں ایک خاص دعا کرنا، اور فرشتہ کا اس ڈاکو کو نیزہ سے قتل کرنا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی موسی بن حجاج سمر قندی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘ [30] میں ایک دوسری حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’حديث: بسند مظلم، ثنا محمد بن حجاج، عن مالك بن دينار، عن الحسن، عن أنس، رفعه: خلقت الزنابير من رءوس الخيل، وخلقت النحل من رءوس البقر. محمد هالك ‘‘.اس روایت کی سند مظلم ہے۔۔۔ حضرت انس r فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بھڑ گھوڑوں کے سروں سے پیدا کی گئی ہیں، اور شہد کی مکھیاں گائے کے سروں سے پیدا کی گئی ہیں۔(حافظ ذہبی l فرماتے ہیں کہ سند میں موجود راوی)محمد ’’هالك‘‘ ہے۔
حافظ ابن جوزی l کی ’’ کتاب الموضوعات‘‘ میں مذکورہ ضمنی روایت کی سند میں محمد بن حجاج کے بجائے موسی بن حجاج ہے، جو مالک بن دینار سے اس حدیث کو نقل کررہا ہے، اور بشران بن عبد الملک اس موسی بن حجاج سے نقل کررہا ہے، بشران بن عبد الملک کا مروی عنہ اور مالک بن دینار سے نقل کرنے والوں میں موسی بن حجاج کا نام تراجم کی کتب میں ملتا ہے، البتہ حافظ ذہبی l کی ’’تلخیص‘‘ کی ذکر کردہ یہ عبارت حافظ ابن جوزی l کی ’’ کتاب الموضوعات‘‘ سے ماخوذ ہے، جس میں موسی بن حجاج کی جگہ محمد بن حجاج لکھا ہے، اس لئے درست یہی ہے کہ یہ لفظ موسی بن حجاج ہے نہ کہ محمد بن حجاج، بظاہر یہ محمد بن حجاج تصحیف ہے، الحاصل حافظ ذہبی l کے نزدیک یہ سند مظلم اور سند میں موجود راوی موسی بن حجاج ’’هالك‘‘ ہے۔
ذیل میں ہم بعض دیگر شواہد بھی ذکر کریں گے جس میں موسی بن حجاج کے بارے میں دیگر ائمہ کا تعامل بھی واضح ہوجائے گا۔
1 حافظ ابن جوزی l نے ’’ كتاب الموضوعات‘‘[31] میں ایک روایت ذکر کی ہے جس کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے، اس کی سند میں موسی بن حجاج موجود ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأكثر رجاله مجهولون‘‘. یہ حدیث آپ ﷺ کے انتساب سے صحیح نہیں ہے، اور اس کے اکثر راوی مجہول ہیں۔
2 علامہ ابن عراق l نے ’’ذیل اللآلئ‘‘ میں موجود ایسی دو من گھڑت روایتوں کو ’’تنزيه الشريعة‘‘ کی فصلِ ثالث میں ذکر کیا ہے جن کی سند میں موسی بن حجاج موجود ہے، اس کے بعد علامہ ابن عراق l ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’لم يبين علته، وفيه موسى بن الحجاج السمرقندي، وعنه نصر بن إسماعيل بن النعمان وعن هذا علي بن عامر النهاوندي، ولم أعرفهم‘‘. علامہ سیوطی l نے اس میں کوئی علت بیان نہیں کی، اور سند میں موسی بن حجاج سمر قندی اور دیگر راوی موجود ہیں، جن کو میں نہیں پہچانتا[32] ۔
3 اور علامہ ابن عراق l دوسری روایت میں فرماتے ہیں: ’’بيض السيوطي للحكم عليه ولوائح الوضع عليه ظاهرة، وفيه محمد بن عبد الواحد البيع عن عبد الله بن إبراهيم الفامي، عن عبد الله بن إسماعيل بن حماد، عن بشران بن عبد الملك، عن موسى بن الحجاج، ولم أقف لواحد منهم على ترجمة‘‘. اس پر سیوطی l نے حکم کے مقام پر کچھ نہیں کہا، اور اس میں وضع کی علامت ظاہر ہے، اور سند میں موجود راوی موسی بن حجاج سمر قندی اور دیگر راویوں کے ترجمہ پر میں واقف نہیں ہوسکا ہوں[33] ۔
حوالہ جات
[30] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:46،رقم:87 ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعةالأولى1419هـ .
[31] كتاب الموضوعات:1/188،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1386هـ .
[32] تنزيه الشريعة:2/326،رقم:21،ت:عبد اللطيف عبد الوهاب،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[33] تنزيه الشريعة:1/246،رقم:9،ت:عبد اللطيف عبد الوهاب،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .