اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عليكم بلا إله إلا الله والاستغفار، فأكثروا منهما، فإن إبليس قال: أهلكتهم بالذنوب وأهلكوني بالاستغفار، فلما رأيت ذلك منهم أهلكتهم بالأهواء، فهم يحسبون أنهم مهتدون، فلا يستغفرون‘‘. لاالہ الا اللہ اور استغفار کو بہت کثرت سے پڑھا کرو، شیطان کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے استغفار سے ہلاک کردیا، جب میں نے دیکھا (کہ یہ تو کچھ بھی نہ ہوا) تو میں نے ان کو ہوائے نفس (یعنی بدعات) سے ہلاک کیا، وہ اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے رہے، سو وہ استغفار نہیں کرتے تھے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)ابو مضر محمد بن مضر بن معن رِباطی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’تاريخ نيسابور‘‘[72] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب الأخبار والحكايات‘‘. یہ اخبار اور حکایات والا ہے۔
حافظ سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[73] میں امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l کے قول پر، اور حافظ ابن اثیر جزری l نے ’’اللباب‘‘[74] میں حافظ سمعانی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن جوزیl’’العلل المتناهية‘‘[75] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فقد رفعه محمد بن مضر عن بُوري بن الفضل، ولا يعرفان‘‘. اسے مرفوعاً محمد بن مضر نے بُوری بن فضل سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں کی معرفت نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[76] میں بُوری بن فضل ہرمزی کے ترجمہ میں سابقہ حافظ ابن جوزی l کی ذکر کردہ روایت کو ’’باطل‘‘ کہہ کر فرماتے ہیں: ’’تفرد به عنه محمد بن مضر بن معن الأنماطي، فأحدهما وضعه‘‘. اس میں بُوری بن فضل سے نقل کرنے میں محمد بن مضر بن معن انماطی متفرد ہے، سو ان دونوں میں سے کسی ایک نے اس روایت کو گھڑا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[77] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[78] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[79] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
نیز حافظ عراقی l نے ’’ذيل ميزان‘‘[80] میں اور حافظ سیوطی l نے ’’الزيادات‘‘[81] میں حافظ ابن جوزی l اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[82] میں محمد بن مضر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے لکھتے ہیں: ’’اتهمه الذهبي‘‘. ذہبی l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[72] تاريخ نيسابور:ص:۵۸،كتاب خانة ابن سينا ـ تهران .
[73] الأنساب:۶/۷۰،رقم:۱۷۴۴،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .
[74] اللباب في تهذيب الأنساب:2/14،دار صادر ـ بيروت،الطبعة1400هـ .
[75] العلل المتناهية في الأحاديث الواهية:۱/۱۱۷،رقم:۱۷۸،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة العلوم الأثرية ـ فيصل آباد،باكستان،الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .
[76] ميزان الاعتدال:1/356،رقم:1332،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[77] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۷۹،رقم:۱۷۸،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[78] لسان المیزان:۲/۳۷۲،رقم:۱۶۴۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[79] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۲۸۱،رقم:۱۱۰،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[80] ذيل ميزان الاعتدال:ص:۱۸۶،رقم:۶۶۵،ت:أبو رضا الرفاعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .
[81] الزيادات على الموضوعات:1/۱۹۶،رقم:۲۲۹،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[82] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۱۱۴،رقم:۲۶۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .