التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو مضر محمد بن مضر بن معن رِباطی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو مضر محمد بن مضر بن معن رِباطی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو مضر محمد بن مضر بن معن رِباطی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’تاريخ نيسابور‘‘[72] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب الأخبار والحكايات‘‘. یہ اخبار اور حکایات والا ہے۔

حافظ سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[73] میں امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l کے قول پر، اور حافظ ابن اثیر جزری l نے ’’اللباب‘‘[74] میں حافظ سمعانی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن جوزیl’’العلل المتناهية‘‘[75] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فقد رفعه محمد بن مضر عن بُوري بن الفضل، ولا يعرفان‘‘. اسے مرفوعاً محمد بن مضر نے بُوری بن فضل سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں کی معرفت نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[76] میں بُوری بن فضل ہرمزی کے ترجمہ میں سابقہ حافظ ابن جوزی l کی ذکر کردہ روایت کو ’’باطل‘‘ کہہ کر فرماتے ہیں: ’’تفرد به عنه محمد بن مضر بن معن الأنماطي، فأحدهما وضعه‘‘. اس میں بُوری بن فضل سے نقل کرنے میں محمد بن مضر بن معن انماطی متفرد ہے، سو ان دونوں میں سے کسی ایک نے اس روایت کو گھڑا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[77] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[78] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[79] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ عراقی l نے ’’ذيل ميزان‘‘[80] میں اور حافظ سیوطی l نے ’’الزيادات‘‘[81] میں حافظ ابن جوزی l اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[82] میں محمد بن مضر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے لکھتے ہیں: ’’اتهمه الذهبي‘‘. ذہبی l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[72] تاريخ نيسابور:ص:۵۸،كتاب خانة ابن سينا ـ تهران .

[73] الأنساب:۶/۷۰،رقم:۱۷۴۴،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .

[74] اللباب في تهذيب الأنساب:2/14،دار صادر ـ بيروت،الطبعة1400هـ .

[75]  العلل المتناهية في الأحاديث الواهية:۱/۱۱۷،رقم:۱۷۸،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة العلوم الأثرية ـ فيصل آباد،باكستان،الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .

[76] ميزان الاعتدال:1/356،رقم:1332،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[77] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۷۹،رقم:۱۷۸،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[78] لسان المیزان:۲/۳۷۲،رقم:۱۶۴۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[79] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۲۸۱،رقم:۱۱۰،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

[80] ذيل ميزان الاعتدال:ص:۱۸۶،رقم:۶۶۵،ت:أبو رضا الرفاعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .

[81] الزيادات على الموضوعات:1/۱۹۶،رقم:۲۲۹،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .

[82] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۱۱۴،رقم:۲۶۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ