اس روایت کی تحقیق سے
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی ابو محمد موسی بن عبدالرحمن ثقفی صنعانی مفسر کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[40] میں لکھتے ہیں: ’’دجال، يضع الحديث، روى عنه عبد الغني بن سعيد الثقفي، وضع على ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس كتابا في التفسير، جمعه من كلام الكلبي ومقاتل بن سليمان، وألزقه بابن جريج عن عطاء، عن ابن عباس، ولم يحدث به ابن عباس، ولا عطاء سمعه، ولا ابن جريج سمع من عطاء، وإنما سمع ابن جريج من عطاء الخراساني، عن ابن عباس في التفسير أحرفا شبيها بجزء، وعطاء الخراساني لم يسمع من ابن عباس شيئا ولا رواه، لا تحل الرواية عن هذا الشيخ، ولا النظر في كتابه، إلا على سبيل الاعتبار‘‘.
دجال ہے، حدیث گھڑتا ہے، اس سے عبد الغنی بن سعید ثقفی روایت کرتا ہے، اس نے ابن جریج پر عن عطاء، عن ابن عباسرضی اللہ عنہما کے طریق سے تفسیر میں ایک کتاب گھڑی ہے، اس میں کلبی اور مقاتل بن سلیمان کے کلام کو جمع کیا ہے، اور اسے عن عطاء، عن ابن عباسرضی اللہ عنہما کے طریق سے ابن جریج پر چسپاں کردیا ہے، جبکہ اسے ابن عباسرضی اللہ عنہما نے بیان نہیں کیا، اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا، اور نہ ہی ابن جریج نے عطاء سے سنا ہے، بلکہ ابن جریج نے عطا ء خراسانی، عن ابن عباسرضی اللہ عنہما کے طریق سے تفسیر میں چند حروف ایک جزء کے مشابہ سنے ہیں،اور عطاء خراسانی نے ابن عباسرضی اللہ عنہما سے نہ کچھ سنا ہے اور نہ ہی کچھ روایت کیا ہے، اس شیخ سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی کتاب کو دیکھنا حلال ہے سوائے اعتبار کے۔
حافظ ذہبیl نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[41] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’موافقة الخبر الخبر‘‘[42] حافظ ابن حبانl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
نیز علامہ ابن عراق lنے بھی ’’تنزيه الشريعة‘‘[43] میں موسی بن عبدالرحمن کووضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبانl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.
اس کے بعد حافظ ابن عدیl ان کی چند احادیث نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث بواطيل‘‘[45] .اور یہ باطل حدیثیں ہیں۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[46] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[47] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وموسى هذا منكر الحديث عن الثقات، وهو أبو محمد المفسر‘‘. اور یہ موسی ثقات کے انتساب سے منکر الحدیث ہے، اور یہ ابو محمد مفسر ہے۔
حافظ ابن تیمیہ l ’’مجموع الفتاوى‘‘[48] میں فرماتے ہیں: ’’وموسى بن عبد الرحمن هذا من الكذابين‘‘. اور یہ موسی بن عبد الرحمن جھوٹوں میں سے ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’المهذب في اختصار السنن‘‘[49] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبد الرحمن کو ’’واه‘‘ کہا ہے، اور ’’المغني‘‘[50] میں ’’هالك‘‘قرار دیا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة‘‘.
علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[52] میں حافظ ذہبی l، حافظ ابن حبان l اور حافظ ابن عدی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ا بن حجرعسقلانی l نے ایک روایت کے تحت موسی بن عبد الرحمن کو ’’التلخيص الحبير‘‘[53] میں ’’متروك‘‘ اور ’’العجاب‘‘[54] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[40] المجروحين:2/242،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[41] ديوان الضعفاء:ص:402،رقم:4291،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[42] موافقة الخبر الخبر:1/58،ت:حمدي السلفي وصبحي السيد جاسم السامرائي,مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴14هـ .
[43] تنزيه الشريعة:۱/120،رقم:386،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۱هـ .
[44] الكامل:8/66،رقم:1831،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[45] الكامل:8/67،رقم:1831،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[46] السنن الكبرى للبيهقي:7/62،رقم:13272،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[47] ذخيرةالحفاظ:ص:1970،رقم:4528، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[48] مجموع الفتاوى:1/259،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة، الطبعة1425هـ .
[49] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:2598،رقم:10609،ت:أبي تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .
[50] المغني في الضعفاء:2/334،رقم:6506،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[51] ميزان الاعتدال:4/211،رقم:8891 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[52] الكشف الحثيث:ص:263،رقم:794،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[53] تلخيص الحبير:1/243،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .
[54] العجاب في بيان الأسباب:2/755،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .