اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں
موجود راوی ابو عبد الملک علی بن یزید اَلْہَانِیْ دمشقی کے بار ےمیں
ائمہ رجال کا کلام
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[59] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے ’’المسند المستخرج‘‘[60] میں اورحافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[61] میں امام بخاریl کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
امام بخاریl نے ایک دوسرے مقام پر علی بن یزید کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[62]۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[63] میں اسے ’’متروك الحديث‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[64]۔
امام ابو احمد حاکم l نے اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[65]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘ [66] میں علی بن یزید کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’من أهل دمشق، يروي عن القاسم أبي عبد الرحمن، روى عنه عبيد الله بن زَحْر ومُطَرِّح بن يزيد، منكر الحديث جدا، فلا أدري التخليط في روايته ممن هؤلاء؟ في إسناده ثلاثة ضعفاء سواه، وأكثر روايته عن القاسم أبي عبد الرحمن، وهو ضعيف في الحديث جدا، وأكثر من روى عنه عبد الله بن زَحْر ومُطَرِّح بن يزيد، وهما ضعيفان واهيان، فلا يتهيأ إلزاق الجرح من علي بن يزيد وحده، لأن الذي يروي عنه ضعيف، والذي روى عنه واه، ولسنا ممن يستحل إطلاق الجرح على مسلم من غير علم، عائذ بالله من ذلك، وعلى جميع الأحوال يجب التنكب عن روايته، لما ظهر لنا عمن فوقه ودونه من ضد التعديل، ونسأل الله جميل الستر بمنه‘‘.
یہ دمشقی ہے، ابو عبد الرحمن قاسم سے روایت کرتا ہے، اور قاسم سے عبیداللہ بن زَحْر اور مُطَرِّح بن یزید روایت کرتے ہیں، یہ (علی بن یزید) منکرالحدیث جداً ہے، معلوم نہیں کہ اس روایت میں تخلیط ان میں سے کس کی طرف سے ہے؟ اس سند میں اس علی بن یزید کے علاوہ تین ضعیف راوی ہیں، اور اس علی بن یزید کی اکثر روایات عن القاسم ابی عبد الرحمن کے طریق سے ہیں، اور وہ احادیث میں شدید ضعیف ہے، اوریہ قاسم اکثر جن سے روایت کرتا ہے وہ عبید اللہ بن زَحْر اور مُطَرِّح بن یزید ہیں، اور یہ دونوں ضعیف واہی ہیں، لہذا صرف علی بن یزید پر جرح کو چسپاں کرنا درست نہیں ہے، اس لئے کہ علی بن یزید جس سے روایت کررہا ہے وہ ’’ضعیف‘‘ہے، اور جو علی بن یزید سے روایت کررہا ہے وہ ’’واہی‘‘ ہے، اور ہمارے لئے کسی مسلمان پر بغیر علم کے جرح کا اطلاق کرنا حلال نہیں ہے، ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اس تمام صورت ِ حال میں اس علی بن یزید کی روایت سے اجتناب کرنا واجب ہے، اس لئے کہ اس سے اوپر جو راوی ہے اور جو اس سے نیچے ہے وہ تعدیل کی ضد ہیں، اور ہم اللہ تعالی سے اس کے احسان کے وسیلے سے حسن ِستر کا سوال کرتے ہیں۔
امام ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، حديثه منكر، فإن كان ما روى علي بن يزيد عن القاسم على الصحة فيحتاج أن ننظر في أمر علي بن يزيد‘‘[67]. ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث منکر ہے، اگر علی بن یزید قاسم سے صحیح روایت نقل کرے تو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم علی بن یزید کے معاملہ میں غور کریں۔
حافظ حرب بن اسماعیلl کہتے ہیں: ’’قلت لأحمد بن حنبل: علي بن يزيد؟ قال: هو دمشقي، كأنه ضعفه‘‘[68].میں نے احمد بن حنبلl سے علی بن یزید کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا کہ وہ دمشقی ہے، گویا کہ انہوں نے اس کی تضعیف کی۔
امام ابو زرعہ l نے اسے ’’ليس بقوي‘‘ کہا ہے[69]۔
حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’اتفق أهل العلم على ضعفه‘‘[70]. اہل علم اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں۔
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة هي ضعاف كلها‘‘[71].علی بن یزید کی عن القاسم عن ابی امامہ r کے طریق سے تمام روایات ضعیف ہیں۔
حافظ ابو زکریا یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وأحاديث عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة مرفوعة ضعيفة‘‘[72].عبید اللہ بن زحر اور علی بن یزید کی مرفوع احادیث عن القاسم، عن ابی امامہ r کے طریق سے ضعیف ہیں۔
حافظ مفضل بن غسان غلابیl کہتے ہیں : ’’علي بن يزيد الهلالي صاحب القاسم منكر الحديث‘‘[73]. صاحبِ قاسم، علی بن یزید ہلالی منکر الحدیث ہے۔
حافظ یعقوب بن شیبہl کہتے ہیں: ’’علي بن يزيد واهي الحديث، كثير المنكرات‘‘[74]. علی بن یزید واہی الحدیث، کثیر المنکرات ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[75] میں فرماتے ہیں: ’’ولعلي بن يزيد أحاديث ونسخ غير ما ذكرت، و عبيد الله بن زحر يروي عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أمامة. ويروي عنه يحيى بن أيوب بن أبي مريم، وله غير هذه النسخة، وهو في نفسه صالح إلا أن يروي عنه ضعيف، فيؤتى من قبل ذلك الضعيف‘‘.
علی بن یزید کی جو روایات میں نے ذکر کی ہیں ان کے علاوہ بھی اس کی احادیث اور نسخے ہیں، اور عبید اللہ بن زحر عن علی بن یزید عن القاسم عن ابی امامہ r کے طریق سے روایت کرتا ہے، اور اس عبید اللہ بن زحر سے یحی بن ایوب بن ابی مریم روایت کرتا ہے، اور علی بن یزید کے اس نسخے کے علاوہ بھی نسخے ہیں، اور یہ علی بن یزید بذات ِ خود صالح ہے، مگر اس سے جو ضعیف روایت کرے، اس ضعیف کی جانب سے ایسی اشیاء لائی جاتی ہیں۔
علامہ تقی الدین مقریزی l ’’إمتاع الأسماع‘‘[76] میں زیر ِ بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت کے تحت امام بیہقیl کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ’’أبو عبد الملك هذا علي بن يزيد الشامي، وليس بالقوي إلا أنه معه ما يؤكد حديثه‘‘. ابو عبد الملک یہ علی بن یزید شامی ہے، اور یہ ’’لیس بالقوی‘‘ ہے، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایسی چیز ہو جو اس کی حدیث کو مؤکد کردے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب سعدی l ’’أحوال الرجال‘‘[77] میں فرماتے ہیں: ’’علي بن يزيد أبو عبد الملك، رأيت غير واحد ينكر أحاديثه التي يرويها عنه عبيد الله بن زَحْر وعثمان بن أبي العاتكة، ثم رأينا أحاديث جعفر بن الزبير وبشر بن نمير يرويان عن القاسم أبي عبد الرحمن أحاديث تشبه تلك الأحاديث، وكان القاسم خيارا فاضلا ممن أدرك أربعين رجلا من المهاجرين والأنصار، وأظننا أتِيْنَا [ كذا في الأصل] من قبل علي بن يزيد، على أن جعفر بن الزبير وبشر بن نمير ليسا ممن يحتج بهما على أحد من أهل العلم‘‘.
میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس علی بن یزید کی ان روایات کا انکار کرتے ہیں جو روایتیں اس سے عبید اللہ بن زحر اور عثمان بن ابی عاتکہ نے نقل کی ہیں، پھر ہم نے جعفر بن زبیر اور بشر بن نمیر کی وہ احادیث دیکھیں جنہیں وہ قاسم ابو عبد الرحمن سے نقل کرتے ہیں تو اِن کی یہ احادیث اُن کی احادیث کے مشابہ تھیں، اور قاسم نیک فضیلت والا تھا، ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے مہاجرین اور انصار میں سے چالیس مردوں کو پایا تھا، اور ہمارا گمان یہ ہے کہ یہ اشیاء علی بن یزید کی جانب سے لائی گئی ہیں، تاہم اہل علم کے نزدیک جعفر بن زبیر اور بشر بن نمیر بھی ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن سے احتجاج کیا جائے۔
علامہ محمد بن یزید مُسْتَمْلِیl کہتے ہیں: ’’قلت لأبي مسهر: فعلي بن يزيد؟ قال: ما أعلم إلا خيرا، وانظر من يروي عنه، ابن أبي العاتكة، ليس من أهل الحديث ونظرائه‘‘[78]. میں نے ابو مسہر l سے علی بن یزید کے بارے میں پوچھا؟انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس میں خیر ہی دیکھی ہے، اور آپ دیکھیں اس کو جو اس سے روایت کرتا ہے (جیسے) ابن ابی عاتکہ ہے، یہ اہل ِ حدیث اور ان جیسوں میں سے نہیں ہے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l، امام دارقطنی l اور حافظ ابوبکر بَرقَانی l نے اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے[79]۔
حافظ محمد بن ابراہیم کنانی اصبہانیl فرماتے ہیں: ’’قلت لأبي حاتم: ما تقول في أحاديث علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة؟ قال: ليست بالقوية، هي ضعاف‘‘[80]. میں نے ابو حاتم l سے کہا کہ آپ علی بن یزید کی احادیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو عن القاسم عن ابی امامہ r کے طریق سے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ احادیث قوی نہیں ہیں، ضعیف ہیں۔
حافظ ابو علی حسن بن علی طوسی l فرماتے ہیں: ’’وقد تكلم بعض أهل العلم في علي بن يزيد وضعفه‘‘[81]. اور بعض اہلِ علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے، اور اسے ضعیف کہا ہے۔
امام ابو سعید بن یونسl ’’تاريخ‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘.
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[83] میں ایک حدیث کے تحت علی بن یزید کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[84] میں فرماتے ہیں: ’’وله مناكير، وضعفه جماعة‘‘. اور اس کی مناکیر ہیں، اور ایک جماعت نے اس کی تضعیف کی ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ الكاشف‘‘[85] میں علی بن یزید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفه جماعة، ولم يترك‘‘. اسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ متروک نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تقريب التهذيب‘‘[86] میں اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’نتائج الأفكار‘‘[87] میں علی بن یزید کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[59] التاريخ الكبير:6/127،رقم:2470،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[60] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/74،رقم:160،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[61] الضعفاء الكبير:۳/254،رقم:۱۲59،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[62] علل الترمذي الكبير للترمذي:ص:190،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى 1409هـ .
[63] الضعفاءوالمتروكين:ص:180،رقم:455،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[64] تاريخ دمشق:43/281،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[65] تاريخ دمشق:43/281،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[66] المجروحين :۲/110،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[67] الجرح التعديل:۶/209،رقم:1142،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[68] الجرح التعديل:۶/209،رقم:1142،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[69] الجرح التعديل:۶/209،رقم:1142،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[70] تهذيب التهذيب:4/665،رقم:4154،ت:عادل أحمد،علي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1425هـ .
[71] تهذيب الكمال:21/179،رقم:4154،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية 1403هـ .
[72] تاريخ دمشق:43/283،رقم:5118،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[73] تاريخ دمشق:43/284،رقم:5118،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[74] تاريخ دمشق:43/28۳،رقم:5118،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري،دارالفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[75] الكامل:6/143،رقم:۱۳43،ت:محمدأنس مصطفى الخن،دارالرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1433هـ .
[76] إمتاع الأسماع:12/89 ،ت:محمد عبد الحميد النميسي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[77] أحوال الرجال:2/285،رقم:301،ت:عبدالعليم عبدالعظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان .
[78] الكامل:6/305،رقم:۱۳37،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[79] تهذيب الكمال:21/182،رقم:4154،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية 1403هـ .
[80] تهذيب الكمال:21/181،رقم:4154،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية 1403هـ .
[81] تاريخ مدينة دمشق:43/۲۸۵،رقم:۵۱۱۸،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[82] تاريخ ابن يونس:2/156،رقم:414،ت:عبدالفتاح فتحي عبد الفتاح،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[83] ذخيرة الحفاظ:ص:311،رقم:287،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[84] تاريخ الإسلام:3/466،رقم:238،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[85] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۴۹،رقم:۳۹۸۳،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[86] تقريب التهذيب:ص:406،رقم:4817،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[87] نتائج الأفكار:1/128،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .