اس روایت کی تحقیق سے
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو محمد مُعان بن رِفاعہ سَلامی دمشقی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معینl نے اسے ’’ ضعيف‘‘ کہا ہے[38]۔
امام علی بن مدینیl فرماتےہیں:’’ثقة، قد روى الناس عنه‘‘[39].یہ ثقہ ہے، لوگ اس سے روایت نقل کرتے ہیں ۔
امام علی بن مدینیl ایک دوسرے مقام پر فرماتےہیں:’’ كان شيخا ضعيفا‘‘[40]. یہ ضعیف شیخ تھا۔
حافظ دحیمl نے اسے ’’ ثقة‘‘ کہا ہے[41]۔
حافظ ابو زرعہ دمشقیl فرماتے ہیں:’’شيخان، معناهما واحد: عثمان بن أبي العاتكة، ومُعان بن رفاعة، وأخبرني دحيم أن مُعانا أرفعهما وأرجحهما‘‘[42]. دو شیخ ہیں، جن کا ایک ہی معنی ہے: عثمان بن ابی عاتکہ اور مُعان بن رِفاعہ، اور مجھے دُحیم l نے بتایا کہ مُعان ان میں زیادہ بلند اور زیادہ راجح ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی سعدی lنے اسے ’’ليس بحجة‘‘ کہا ہے[43]۔
حافظ ابن حبانl فرماتے ہیں:’’منكر الحديث، يروي مراسيل كثيرة، ويحدث عن أقوام مجاهيل، لا يشبه حديثه حديث الأثبات، فلما صار الغالب على روايته ما تنكر القلوب استحق ترك الاحتجاج به‘‘[44].منکر الحدیث ہے، کثرت سے مرسل روایات اور مجہول راویوں سے روایت بیان کرتا ہے، اس کی حدیث اثبات کے مشابہ نہیں ہوتی، جب اس کی روایت پر اس چیز کا غلبہ ہوگیا جن کا قلوب انکار کرتے ہیں تو یہ احتجاج میں ترک کئے جانے کا مستحق ہوگیا۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[45] میں مُعان بن رِفاعہ کا ترجمہ بلاجرح وتعدیل ذکر کیا ہے۔
امام ابوداؤدl نے مُعان کو ’’ليس به بأس‘‘ کہا ہے[46] ۔
امام احمد بن حنبلl نے مُعان بن رِفاعہ کو ’’ لم يكن به بأس‘‘ کہا ہے[47]۔
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه، ولا يحتج به‘‘[48]. اس کی حدیث لکھی جائے گی، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانیl نے اسے ’’ ليس بحجة‘‘ کہا ہے[49]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فسوی lنے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[50] میں اسے ’’لين الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابوالفتح ازدیl فرماتے ہیں :’’لا يحتج به‘‘[51]. اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[52] میں فرماتے ہیں:’’ومُعان بن رِفاعة عامة ما يرويه لا يتابع عليه، وله غير ما ذكرت من رواية الشاميين عنه، مثل الوليد بن مسلم، وأبو حيوة شريح بن يزيد، ومبشر بن إسماعيل، وبقية وغيرهم‘‘. عام طورپر مُعان بن رِفاعہ کی روایات میں اس کی متابعت نہیں ہوتی، اس کی اور بھی روایتیں ہیں جنہیں میں نےذکر نہیں کیا جو اہل شام ان سے نقل کرتےہیں،مثلاً ولید بن مسلم، ابو حیوہ شریح بن یزید، مبشر بن اسماعیل اور بقیہ بن ولید وغیرہ ۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[53] میں فرماتے ہیں:’’هو صاحب حديث، ليس بمتقن‘‘. یہ صاحبِ حدیث ہے، متقن نہیں ہے۔
حافظ ذہبیlنے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[54] میں ایک حدیث کے تحت مُعان بن رِفاعہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
اسی طرح حافظ ذہبیl ہی نے مُعان کو ’’سير أعلام النبلاء‘‘[55] میں ’’ليس بذاك القوي‘‘ اور ’’ميزان‘‘[56] میں ابراہیم بن عبد الرحمن عذری کے ترجمہ میں ’’ليس بعمدة‘‘کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسير‘‘[57] میں مُعان بن رِفاعہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’تقريب التهذيب‘‘[58]میں فرماتے ہیں: ’’لين الحديث كثير الإرسال‘‘. یہ لین الحدیث، کثیر الارسال ہے۔
حوالہ جات
[38] الكامل:۸/۳۷،رقم:۱۸۰۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[39] تهذيب الكمال:28/158،رقم:6043،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[40] سؤالات ابن أبي شيبة:ص:158،رقم:225،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .
[41] تهذيب الكمال:28/158،رقم:6043،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[42] تهذيب الكمال:28/158،رقم:6043،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[43] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۳۷،رقم:۱۸۰۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[44] المجروحین:۳/ ۳۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[45] التاريخ الكبير:۷/۳۷۳،رقم:۲۱۹۴،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[46] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/231،رقم:1692،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[47] الجرح والتعدیل:۸/۴۲۲،رقم:۱۰۱۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[48] الجرح والتعدیل:۸/۴۲۲،رقم:۱۰۱۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[49] تهذيب الكمال:28/15۹،رقم:6043،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[50] المعرفة والتاريخ:۲/۵۴۱،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[51] تهذيب التهذيب:10/20۲،رقم:۳۷۴،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۷هـ .
[52] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۳۸،رقم:۱۸۰۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[53] ميزان الاعتدال:۴/۱۳۴،رقم:۸۶۱۹ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[54] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:355،رقم:972 ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[55] سير أعلام النبلاء:17/292،ت:شعيب الأرنؤوط ومحمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1403هـ .
[56] ميزان الاعتدال:1/45،رقم:137،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[57] تفسير ابن كثير:2/418،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[58] تقريب التهذيب:ص:ٍ537،رقم:۶۷۴۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .