اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’السخي إنما يجود من حسن الظن بالله، والبخيل إنما يبخل من سوء الظن بالله‘‘. جو شخص سخاوت کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے کرتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے وہ حق تعالی شانہ کے ساتھ بدظنی سے کرتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی عبید اللہ بن زَحْر ضَمْرِی افریقی کنانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام دارمیl فرماتے ہیں: ’’قلت ليحيى بن معين: عبيد الله بن زَحْر كيف حديثه؟ فقال: كل حديثه عندي ضعيف‘‘[9]. میں نے یحیی بن معین lسے پوچھا: عبید اللہ بن زَحْر کی حدیث کیسی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی جو بھی حدیث میرے پاس ہے وہ ضعیف ہے۔
امام یحیی بن معین lنے ایک دوسرے مقام پر عبید اللہ بن زَحْر کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[10]۔
امام علی بن مدینیl نے عبید اللہ بن زَحْر کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[11]۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[12] میں عبید اللہ بن زَحْر کا ترجمہ قائم کرکے سکوت اختیار کیا ہے۔
امام بخاری l ایک دوسرے مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’عبيد الله بن زَحْر ثقة، وعلي بن يزيد ذاهب الحديث‘‘[13]. عبید اللہ بن زَحْر ثقہ ہے، اور علی بن یزید ذاہب الحدیث ہے۔
حافظ ابوالحسن احمد بن عبد اللہ عِجلی l ’’الثقات‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه، وليس بالقوي‘‘. اس کی حدیث لکھی جائے گی، اور یہ قوی نہیں ہے۔
حافظ ابو الحسن عِجلیl ہی ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’لا بأس به، صاحب سنة‘‘[15]. یہ لابأ س بہ ہے، صاحب سنت ہے۔
امام ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’لا بأس به، صدوق‘‘[16]. یہ لابأ س بہ ہے، صدوق ہے۔
حافظ ابو اسحاق حربی l، عبید اللہ بن زَحْر کے بارےمیںفرماتے ہیں: ’’غيره أوثق منه‘‘[17]. دوسرے ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
امام ابو داؤدl فرماتے ہیں: ’’سمعت أحمد يقول: عبيد الله بن زَحْر ثقة‘‘[18]. میں نے احمد (بن حنبلl) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زَحْر ثقہ ہے۔
حافظ حرب بن اسماعیلl کہتے ہیں: ’’قلت لأحمد بن حنبل: عبيد الله بن زَحْر؟ فضعفه‘‘[19]. میں نے احمدبن حنبل l سے پوچھا: عبید اللہ بن زَحْر کیسا ہے؟ تو انہوں نے اس کی تضعیف کی۔
امام ابو حاتم l نے عبید اللہ بن زَحْر کو ’’لين الحديث‘‘ کہا ہے[20]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوی l نے ’’المعرفة‘‘[21] میں عبید اللہ بن زَحْر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’ليس به بأس‘‘[22]. یہ لیس بہ بأ س ہے۔
حافظ ابن یونس l ، عبید اللہ بن زَحْر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا صالحا‘‘[23]. یہ نیک شخص تھا۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[24] میں عبید اللہ بن زَحْر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، يروي الموضوعات عن الأثبات، وإذا روى عن علي بن يزيد أتى بالطامات، وإذا اجتمع في إسناد خبر: عبيد الله بن زَحْر وعلي بن يزيد والقاسم أبو عبد الرحمن لا يكون متن ذلك الخبر إلا مما عملت أيديهم، فلا يحل الاحتجاج بهذه الصحيفة، بل التنكب عن رواية عبيد الله بن زَحْر على الأحوال أولى‘‘.
منکر الحدیث جداً ہے، ثقہ کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اور جب علی بن یزید سے روایت کرتا ہے تو طامات (بڑی مصیبت) لاتا ہے، اور جب کسی خبر کی سند میں عبید اللہ بن زَحْر اور علی بن یزید اور قاسم ابو عبد الرحمن جمع ہوجائیں تو اس خبر کا متن انہی کے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہوگا، لہذا اس صحیفہ سے احتجاج حلال نہیں ہے، بلکہ عبید اللہ بن زَحْر کی روایت سے تمام احوال میں اجتناب کرنا اولی ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’ولعبيد الله بن زَحْر غير ما ذكرت من الحديث، ويقع في أحاديثه ما لا يتابع عليه‘‘. عبید اللہ بن زَحْر کی جو احادیث میں نے ذکر کی ہیں، اس کے علاوہ بھی اس کی روایات ہیں، اور اس کی احادیث میں ایسی حدیثیں واقع ہوتی ہیں جس پر اس کی کوئی بھی متابعت نہیں کرتا۔
امام دارقطنی l نے ایک مقام پر عبید اللہ بن زَحْر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[26]۔
امام دارقطنی l ’’الضعفاء‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’عن علي بن يزيد نسخة باطلة‘‘.علی بن یزید سے ایک باطل نسخہ نقل کرتاہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l نے عبید اللہ بن زَحْر کی احادیث ’’المستدرك‘‘[28] میں تخریج کی ہیں۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l نے عبید اللہ بن زَحْر کو ’’لين الحديث‘‘ بھی کہا ہے[29]۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l ہی ’’معرفة‘‘[30] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’وأوهى أسانيد الشاميين: محمد بن قيس المصلوب، عن عبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أمامة‘‘. اور شام والوں کی اسانید میں سب سے بڑھ کر واہی سند ’’محمد بن قیس مصلوب، عن عبید اللہ بن زَحْر، عن علی بن یزید، عن قاسم، عن ابی امامہ r‘‘ہے۔
علامہ ابو بکر عبد اللہ بن محمد مالکی l ’’رياض النفوس‘‘[31] میں عبید اللہ بن زَحْر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان فاضلا، صالحا‘‘. یہ فاضل تھا، نیک شخص تھا۔
حافظ ابن حزم ظاہری اندلسیl نے ’’المحلى‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت عبید اللہ بن زَحْر کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’المتفق‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا صالحا، وفي حديثه لين‘‘. نیک آدمی تھا، اور اس کی حدیث میں ’’لین‘‘ ہے۔
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء‘‘[34] میں عبید اللہ بن زَحْر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن علي بن يزيد نسخة باطلة‘‘.علی بن یزید سے ایک باطل نسخہ روایت کرتاہے۔
حافظ عز الدین ابن اثیر جزری l نے ’’اللباب‘‘[35] میں عبید اللہ بن زَحْر کو ’’منكر الحديث، متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو بکر ابن خَلفُون l ’’الثقات‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا صالحا‘‘. یہ نیک شخص تھا۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’قد أخرج له أرباب السنن، وأحمد في مسنده، وكان النسائي حسن الرأي فيه، ما أخرجه في الضعفاء، بل قال: لا بأس به‘‘.اصحاب ِسنن اور احمد l نے اپنی ’’مسند‘‘ میں اس سے تخریج کی ہے، اور نسائی l اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، انہوں نے اس کو ’’ضعفاء‘‘ میں ذکر نہیں کیا، بلکہ ’’لا بأ س بہ‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب‘‘. یہ راوی مختلف فیہ ہے، اور ضعف کے زیادہ قریب ہے۔
حافظ ذہبی l ہی ’’ديوان الضعفاء‘‘ [39] میں فرماتے ہیں: ’’له صحيفة غرائب عن علي بن يزيد، ليس بحجة‘‘. علی بن یزید سے اس کا ایک صحیفۂ غرائب ہے، یہ حجت نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’فيه اختلاف، وله مناكير‘‘. اس کے بارے میں اختلاف ہے، اور اس کی مناکیر ہیں۔
حافظ عراقی l نے ’’ذيل‘‘[41] میں ایک روایت کے تحت عبید اللہ بن زَحْر کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘میں ایک روایت کے تحت عبید اللہ بن زَحْر کو ’’ضعيف‘‘[42]، دوسرے مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[43] اور تیسرے مقام پر ’’ضعيف، متهم‘‘[44] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[45] میں فرماتے ہیں: ’’صدوق، يخطئ‘‘. یہ صدوق ہے، خطاء کرتا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[46] میں فرماتے ہیں: ’’مختلف فيه، والأكثرون على ضعفه‘‘. یہ مختلف فیہ ہے، اور اکثر اس کے ضعف کے قائل ہیں۔
اس کے بعد علامہ سبط ابن عجمی l نے حافظ ابن حبان l کا قول نقل کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے بھی ’’تنزيه‘‘[47] میں عبید اللہ بن زَحْر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کا قول نقل کیا ہے۔
حوالہ جات
[9] المجروحين :۲/62،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[10] سؤالات ابن الجنيد:ص:408،رقم:568،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[11] الجرح التعديل:5/315،رقم:1499،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[12] التاريخ الكبير:5/238،رقم:7294،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1429هـ .
[13] انظرعلل الترمذي الكبير:ص:190،رقم:335،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى 1409هـ .
[14] تاريخ الثقات:ص:۳۱۶،رقم:۱۰۵۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[15] انظر إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/۱۹،رقم:3437،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[16] الجرح التعديل:5/315،رقم:1499،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[17] انظر إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/۱۸،رقم:3437،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[18] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/179،رقم:1523،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[19] الجرح التعديل:5/315،رقم:1499،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[20] الجرح التعديل:5/315،رقم:1499،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[21] المعرفة والتاريخ:2/4۳۴،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[22] انظرتهذيب الكمال في أسماء الرجال:19/38،رقم:3633،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1413هـ .
[23] انظر إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/20،رقم:3437،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[24] المجروحين :۲/62،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[25] الكامل في ضعفاء الرجال:5/524،رقم:1157،ت:عادل أحمد عبد الموجود،علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] تهذيب التهذيب:7/13،رقم:25،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[27] الضعفاء والمتروكون:ص:268،رقم:327،ت:موفق بن عبدالله،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[28] انظر المستدرك على الصحيحين:2/411،رقم:3433،وكذا في:4/137،رقم:7148،ورقم:7844،ت: مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .
[29] تهذيب التهذيب:7/13،رقم:25،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[30] كتاب معرفة علوم الحديث:ص:58،ت:السيد معظم حسين،المكتبة العلمية ـ المدينة المنورة،الطبعة الثالثة 1397هـ .
[31] كتاب رياض النفوس في طبقات علماء القيروان وإفريقية وزهادهم ونساكهم وسير من أخبارهم وفضائلهم وأوصافهم:1/174،رقم:74،ت:بشير البكوش،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية 1414هـ .
[32] المحلى بالآثار:5/305،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1425هـ .
[33] المتفق والمفترق:ص:1542،رقم:879،ت:محمد صادق آيدن الحامدي،دارالقاري ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[34] الضعفاء والمتروکین:۲/۱۶۲،رقم:۲۲۳۸،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[35] اللباب في تهذيب الأنساب:2/264،دار صادر ـ بيروت،الطبعة1400هـ .
[36] انظر إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/۱۹،رقم:3437،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[37] ميزان الاعتدال:3/7،رقم:5359،ت:ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] المغني في الضغفاء:2/27،رقم:3922،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[39] ديوان الضعفاء:ص:264،رقم:2693،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[40] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:1/:680،رقم:3544،ت:محمد عوامة،أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة ـ جده .
[41] ذيل ميزان الاعتدال:ص:219،رقم:781،ت:أبو رضا الرفاعي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .
[42] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۳۱۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[43] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۲/۱۲۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[44] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:2/239،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[45] تقريب التهذيب:ص:371،رقم:4290،ت:محمدعوامة،دارالرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱1هـ .
[46] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:178،رقم:475،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[47] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأحاديث الشنيعة الموضوعة:1/83،رقم:227،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبدالله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .