التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ ابو جعفر محمد بن ولید بن ابان قَلانِسی بغدادی مولی بنی ہاشم

2 روایات میں تذکرہ

ابو عبد اللہ ابو جعفر محمد بن ولید بن ابان قَلانِسی بغدادی مولی بنی ہاشم کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ ابو جعفر محمد بن ولید بن ابان قَلانِسی بغدادی مولی بنی ہاشم کے بارے میں  ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’لم يكن يصدق‘‘. وہ صدوق نہیں ہے[16]۔

حافظ ابو  عروبہ l نے محمد بن ولید بن ابان کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[17]۔

حافظ ابن حبانl نے ’’الثقات‘‘[18] میں محمد بن ولید کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا ہے: ’’محمد بن الوليد بن أبان البغدادي، سكن الشام، وحدثهم بها، يروي عن عبيد الله بن موسى، وأهل العراق، حدثنا عنه القطان، وشيوخنا، ربما أخطأ وأغرب‘‘. محمد بن ولید بن ابان بغدادی ہے، شام میں رہتا تھا، اور وہیں پر حدیث بیان کرتا تھا، یہ عبید اللہ بن موسی اور عراق والوں سے روایت کرتا ہے، قطان اور ہمارے شیوخ نے ہمیں اس سے روایت کی ہے، یہ بسا اوقات خطاء کرتا ہے، اور غریب لاتا ہے۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[19] میں محمد بن ولید بن ابان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث، ويوصله ويسرق، ويقلب الأسانيد والمتون‘‘. حدیث گھڑتا ہے،اور حدیث میں وصل اور سرقہ کرتا ہے، اور اسانید اور متون میں قلب کرتا ہے۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[20] میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[21] میں محمد بن ولید بن ابان کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن الوليد غير ما ذكرت مما سرقه من الثقات‘‘. اور محمد بن ولید کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی ایسی احادیث ہیں جن کو اس نے ثقہ راویوں سے سرقہ کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[22] میں زیر بحث روایت کے تحت محمد بن ولید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والآفة فيه منه‘‘. اور اس میں آفت اسی (محمد بن ولید) کی وجہ سے ہے۔

حافظ دار قطنی l نے اپنی ’’سنن‘‘[23] میں ایک روایت کے تحت محمد بن ولید کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیl نے ’’الکشف‘‘[24] میں حافظ ابن عدی l اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کرتے ہوئے محمد بن ولید قَلانِسی کو وضاعین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حافظ ابن ناصرالدین دمشقیl ’’جامع الآثار‘‘[25] میں زیر بحث روایت کے تحت محمد بن ولید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’القَلَانِسي رمي بالوضع‘‘. قَلانِسی حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[26] میں محمد بن ولید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو عروبة: كذاب، وقال ابن عدي: كان يضع الحديث‘‘. ابو  عروبہ l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں: یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حوالہ جات

[16] الجرح والتعديل:8/113،رقم:500،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .

[17] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[18]  الثقات:۹/۱۳۶،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .

[19] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[20] الضعفاء والمتروکین:۳/۱۰۵،رقم:۳۲۳۵،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ . 

[21] الكامل في ضعفاء الرجال:7/546،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[22] ذخيرة الحفاظ:۴/۲۱۰۹،رقم:۴۸۸۰،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[23] سنن الدار قطني:2/432،رقم:1816،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .

[24]  الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۲۵۱،رقم:۷۴۵،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت:۱۴۰۷هـ .

[25]  جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/۵۴۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ .

[26] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۱۱۵،رقم:۲۹۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ ابو جعفر محمد بن ولید بن ابان قَلانِسی بغدادی مولی بنی ہاشم کے بارے میں  ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’لم يكن يصدق‘‘. وہ صدوق نہیں ہے[15]۔

حافظ ابو  عروبہ l نے محمد بن ولید بن ابان کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[16]۔

حافظ ابن حبانl نے ’’الثقات‘‘[17] میں محمد بن ولید کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا ہے: ’’محمد بن الوليد بن أبان البغدادي، سكن الشام، وحدثهم بها، يروي عن عبيد الله بن موسى، وأهل العراق، حدثنا عنه القطان، وشيوخنا، ربما أخطأ وأغرب‘‘. محمد بن ولید بن ابان بغدادی ہے، شام میں رہتا تھا، اور وہیں پر حدیث بیان کرتا تھا، یہ عبید اللہ بن موسی اور عراق والوں سے روایت کرتا ہے، قطان اور ہمارے شیوخ نے ہمیں اس سے روایت کی ہے، یہ بسا اوقات خطاء کرتا ہے، اور غریب لاتا ہے۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[18] میں محمد بن ولید بن ابان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث، ويوصله ويسرق، ويقلب الأسانيد والمتون‘‘. حدیث گھڑتا ہے،اور حدیث میں وصل اور سرقہ کرتا ہے، اور اسانید اور متون میں قلب کرتا ہے۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[19] میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[20] میں محمد بن ولید بن ابان کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن الوليد غير ما ذكرت مما سرقه من الثقات‘‘. اور محمد بن ولید کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی ایسی احادیث ہیں جن کو اس نے ثقہ راویوں سے سرقہ کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[21] میں ایک روایت کے تحت محمد بن ولید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والآفة فيه منه‘‘. اور اس میں آفت اسی (محمد بن ولید) کی وجہ سے ہے۔

حافظ دار قطنی l نے اپنی ’’سنن‘‘[22] میں ایک روایت کے تحت محمد بن ولید کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیl نے ’’الکشف الحثیث‘‘[23] میں حافظ ابن عدی l اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کرتے ہوئے محمد بن ولید قَلانِسی کو وضاعین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حافظ ابن ناصرالدین دمشقیl ’’جامع الآثار‘‘[24] میں زیر بحث روایت کے تحت محمد بن ولید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’القَلَانِسي رمي بالوضع‘‘. قَلانِسی حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[25] میں محمد بن ولید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو عروبة: كذاب، وقال ابن عدي: كان يضع الحديث‘‘. ابو  عروبہ l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں: یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حوالہ جات

[15] الجرح والتعديل:8/113،رقم:500،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .

[16] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[17]  الثقات:۹/۱۳۶،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .

[18] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[19] الضعفاء والمتروکین:۳/۱۰۵،رقم:۳۲۳۵،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ . 

[20] الكامل في ضعفاء الرجال:7/546،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[21] ذخيرة الحفاظ:۴/۲۱۰۹،رقم:۴۸۸۰،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[22] سنن الدار قطني:2/432،رقم:1816،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .

[23]  الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۲۵۱،رقم:۷۴۵،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت:۱۴۰۷هـ .

[24]  جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/۵۴۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ .

[25] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۱۱۵،رقم:۲۹۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ