التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو اسحاق ابراہیم بن صِرْمہ بن ابی صِرْمہ انصاری مدینی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو اسحاق ابراہیم بن صِرْمہ بن ابی صِرْمہ انصاری مدینی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو اسحاق ابراہیم بن صِرْمہ بن ابی صِرْمہ انصاری مدینی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ كذاب، خبيث، يكذب على الله وعلى رسوله‘‘[26]. کذاب، خبیث ہے، اللہ تعالی اور اس کے رسول (ﷺ) پر جھوٹ بولتا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’وسألته عنه: فقال: هو شيخ مديني، سكن بغداد، قلت ما حاله؟ قال: هو شيخ‘‘. میں نے اپنے والد سے اس کے بارے میں پوچھا: تو فرمایا: یہ شیخ مدینی ہے، بغداد میں رہائش پذیر تھا، میں نے کہا: اس کا  کیا حال ہے؟ فرمایا: یہ شیخ ہے۔

امام ابو بکر بزارl  اپنی ’’مسند‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن صِرْمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وليس هو بالقوي في الحديث‘‘. اور یہ حدیث میں قوی نہیں ہے۔

حافظ ابن صاعدl، ابراہیم بن صِرْمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’انقلبت على إبراهيم بن صِرْمة نسخة ابن الهاد، فجعلها عن يحيى بن سعيد في الأحاديث كلها‘‘[29]. ابراہیم بن صِرْمہ پر ابن ہاد کا نسخہ منقلب ہوگیا تھا، سو اس نے اس نسخہ کی تمام احادیث یحیی بن سعید کے انتساب سے بیان کردیں۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’وهذا الشيخ يحدث عن يحيى بأحاديث ليست بمحفوظة من حديث يحيى، فيها شيء يحفظ من حديث ابن الهاد، وفيها مناكير، وليس ممن يضبط الحديث‘‘. اور یہ شیخ یحیی سے ایسی احادیث بیان کرتا ہے جو یحیی کی حدیث سے محفوظ نہیں ہوتیں، ان میں سے کچھ ابن ہاد کی حدیث سے محفوظ ہوتی ہیں، اور ان میں مناکیر ہیں، اور یہ ان راویوں میں سے نہیں ہے جو حدیث کو ضبط کرتے ہیں۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[31] میں ابراہیم بن صِرْمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن يحيى بن سعيد الأنصاري بنسخ لا يحدث بها غيره، ولا يتابعه أحد على حديث منها‘‘. اس نے یحیی بن سعید کے انتساب سے ایسے نسخے بیان کئے جن کو اس کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا، اور اس کی حدیث پر اس کی کوئی بھی متابعت نہیں کرتا۔

نیز حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[32] میں ابراہیم بن صِرْمہ کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولإبراهيم بن صِرْمة أحاديث عن يحيى بن سعيد وعن غيره، وعامة أحاديثه إما أن تكون مناكير المتن، أو تنقلب عليه الأسانيد، وبين على أحاديثه ضعفه‘‘. اور ابراہیم بن صِرْمہ کی یحیی بن سعید، اور ان کے علاوہ سے احادیث ہیں، اور اس کی اکثر احادیث یا تو متن کے اعتبار سے منکر ہوتی ہیں، یا ان پر اسانید منقلب ہوجاتی ہیں، اور اس کی حدیث پر ضعف واضح ہے۔

حافظ دار قطنی l نے اسے ’’الضعفاء‘‘[33] میں ذکر کیا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی  l’’تاريخ بغداد‘‘[34] میں فرماتے ہیں: ’’وفي حديثه غرائب لا يتابع عليها‘‘. اور اس کی حدیث میں ایسے غرائب ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفه الدارقطني وغيره‘‘. اسے دارقطنی l وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن صِرْمہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[37] میں ابراہیم بن صِرْمہ مدینی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن معين: كذاب، خبيث‘‘. ابن معین l فرماتے ہیں: کذاب، خبیث ہے۔

حوالہ جات

[26] انظر تاريخ بغداد:7/11،رقم:3092،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[27] الجرح والتعدیل:۲/1۰۷،رقم:۳۰۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[28] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۴/۲۴۹،رقم:۷۸۲۶،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1427هـ .

[29] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۸،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[30] الضعفاء الكبير:۱/۵۵رقم:۴۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[31] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۸،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[32] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۹،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[33] الضعفاء والمتروكون:ص:۱۱۰،رقم:2۷،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ  الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[34] تاريخ بغداد:7/11،رقم:3092،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[35] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:16،رقم:194،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .

[36] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۸/۲۲۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربيي ـ بيروت .

[37] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/22،رقم:33،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ