التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد السلام بن عبید بن ابی فروہ نصیبی

ایک روایت میں تذکرہ

عبد السلام بن عبید بن ابی فروہ نصیبی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عبد السلام بن عبید بن ابی فروہ نصیبی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن حبان l ’’ المجروحين‘‘[29] میں عبد السلام بن عبید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يسرق الحديث، ويلزق بالثقات الأشياء التي رواها غيرهم من الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به بحال‘‘. یہ حدیث سرقہ کرتا ہے، اور ثقہ راویوں پر ایسی اشیاء چسپاں کرتا ہے جن کو دوسروں نے ثبت راویوں سے روایت کیا ہوتا ہے، اس سے کسی بھی حالت میں احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابو الفتح ازدیl فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[30]. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[31] میں اور حافظ ذہبیl نے ’’ميزان‘‘[32] میں حافظ ابن حبان l اور حافظ ازدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ دارقطنیl نے ’’العلل‘‘[33]میں عبد السلام بن عبید کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد السلام سرقه وركبه‘‘. اور عبد السلام نے اس میں سرقہ اور ترکیب کی ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’النكت‘‘[35] میں ایک روایت کے تحت عبد السلام بن عبید کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[36] میں عبد السلام بن عبید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: كان يسرق الحديث، ويروي الموضوعات‘‘. ابن حبان l فرماتے ہیں: حدیث سرقہ کرتا تھا، اور من گھڑت احادیث روایت کرتا تھا۔

حوالہ جات

[29]  المجروحين من المحدثين:2/152،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[30] ميزان الاعتدال:۲/۶۱۷،رقم:۵۰۵۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[31] الضعفاء والمتروكين:2/107،رقم:1930،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[32] ميزان الاعتدال:۲/۶۱۷،رقم:۵۰۵۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[33] العلل الواردة في الأحاديث النبوية:9/200،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴14هـ .

[34] تذكرة الحفاظ:ص:۳۹۶،رقم:۱۰۲۲،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[35] النكت على كتاب ابن الصلاح:۲/۶65،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .

[36] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۷۹،رقم:۱۶۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ