اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے اناروں میں سے ہر ایک انار میں جنتی انار کا ایک دانہ ہوتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو یَسَع مَسْعَدہ بن یَسَع بن قیس یشکری باہلی بصری (المتوفی ما بین ۱۶۱ھ – ۱۷۰ھ [43])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’مَسْعَدَة بن اليَسَع ليس بشيء، خرقنا حديثه، أو تركنا حديثه منذ دهر‘‘[44]. مَسْعَدَہ بن یَسَع لیس بشیء ہے، ہم نے اس کی حدیث کو پھاڑ دیا ہے، یا (فرمایا) ہم نے اس کی حدیث کو ایک زمانے سے ترک کر دیا ہے۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[45] میں فرماتے ہیں: ’’وكان أحيانا يكون بمكة، روى عنه مروان بن سالم، قال قتيبة: أدركته، ولم أكتب عنه، وكان يذكر بالصلاح، قال أحمد: مَسْعَدَة بن اليَسَع ليس بشيء، خرقنا حديثه، وتركنا حديثه منذ دهر‘‘. یہ کبھی کبھی مکہ میں ہوتا تھا، اس سے مروان بن سالم نے روایت کی ہے، قتیبہ l فرماتے ہیں: میں اس سے ملا ہوں، اور میں نے اس سے نہیں لکھا، اور وہ اس کا تذکرہ صلاح کے ساتھ کرتے تھے، احمد l فرماتے ہیں: مَسْعَدَہ بن یَسَع لیس بشیء ہے، ہم نے اس کی حدیث کو پھاڑ دیا ہے، اور ہم نے اس کی حدیث کو ایک زمانے سے ترک کر دیا ہے۔
یہی تفصیل امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘[46] میں بھی ذکر کی ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ’’اور وہ اس کا تذکرہ صلاح کے ساتھ کرتے تھے‘‘۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[47] میں مَسْعَدَہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام ابو داؤد l ، مَسْعَدَہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، كان من الكذابين‘‘[48]. لیس بشیء ہے، یہ جھوٹوں میں سے تھا۔
حافظ ابو حاتم l ، مَسْعَدَہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو ذاهب، منكر الحديث، لا يشتغل به، يكذب على جعفر بن محمد عندي، والله أعلم‘‘[49]. وہ ذاہب، منکر الحدیث ہے، اس میں مشغول نہ ہوا جائے، میرے نزدیک یہ جعفر بن محمد پر جھوٹ بولتا تھا، واللہ اعلم۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح التعديل‘‘[50] میں فرماتے ہیں: ’’سألت أبي يوما عن حديث لمَسْعَدَة، فلم يحدثني به‘‘. میں نے ایک دن اپنے والد سے مَسْعَدَہ کی حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھےاس کی حدیث بیان نہیں کی۔
حافظ ابو بکر احمد بن ابی خیثمہ l ’’التاريخ الكبير‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’وسئل يحيى بن أيوب: لم ترك حديث مَسْعَدَة بن اليَسَع؟ قال: لأنه روى حديثا أنكروه، قال مَسْعَدَة: حدثنا جعفر بن محمد، قال: رأيت خفاشا مختونة‘‘. یحیی بن ایوب (یعنی ابو زکریا یحیی بن ایوب مَقَابِری l) سے پوچھا گیا کہ مَسْعَدَہ بن یَسَع کی حدیث کو کیوں ترک کیا گیا ہے؟ یحیی بن ایوب l نے فرمایا: کیونکہ اس نے ایک حدیث روایت کی تھی، جس پر محدثین نے انکار کیا تھا، مَسْعَدَہ کا کہنا ہے کہ ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے ایک مختون چمگادڑ دیکھا ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي عن الثقات الأشياء المقلوبات، حتى إذا سمعها المبتدئ في الصناعة علم أنه لا أصول لها‘‘. یہ ان راویوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں کے انتساب سے مقلوب اشیاء روایت کرتے ہیں، حتی کہ ان اشیاء کو جب صناعت میں مبتدی شخص سنتا ہے تو وہ بھی جان لیتا ہے کہ ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’ومَسْعَدَة هذا ضعيف الحديث، كل ما يرويه من المراسيل ومن المسند وغيره‘‘. اور یہ مَسْعَدَہ ضعیف الحدیث ہے، مراسیل اور مسند وغیرہ تمام میں۔
امام دار قطنی l نے مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’الضعفاء‘‘[54] میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[55]۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l نے ’’المستدرك‘‘[56] میں مَسْعَدَہ بن یَسَع کی احادیث تخریج کی ہیں۔
امام ابو الحسین قدوری l ’’التجريد‘‘[57] میں ایک حدیث کے تحت مَسْعَدَہ بن یَسَع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو من وضاع الحديث، روى نسخا موضوعا‘‘. یہ حدیث گھڑنے والا ہے، اس نے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے۔
امام بیہقی l نے ’’شعب الإيمان‘‘[58] میں مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ایک روایت کے تحت ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[59] میں ایک حدیث کے تحت مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ عبد الحق اشبیلی l ’’الأحكام الوسطى‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومَسْعَدَة ضعيف، بل متروك‘‘. اور مَسْعَدَہ ضعیف بلکہ متروک ہے۔
حافظ ذہبی l نے مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’المقتنى‘‘[61] میں ’’لين‘‘، ’’تاريخ الإسلام‘‘[62] میں ’’ أحد الضعفاء‘‘ اور ’’ميزان‘‘[63] میں ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[64] میں مَسْعَدَہ بن یَسَع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هالك، كذبه أبو داود‘‘. ہالک ہے، ابو داؤد l نے اسے کذاب کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ہی ’’تلخيص الموضوعات‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت مَسْعَدَہ بن یَسَع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وقد وضعه مَسْعَدَة بن اليَسَع‘‘. اور اسے مَسْعَدَہ بن یَسَع نے گھڑا ہے۔
حافظ ابن ملقن l نے ’’التوضيح‘‘[66] میں ایک روایت کے تحت مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘میں ایک روایت کے تحت مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘[67]، دوسرے مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[68] اور ایک مقام پر ’’كذاب‘‘[69] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[70] میں نضر بن شُفَی کے ترجمہ میں مَسْعَدَہ بن یَسَع کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[71] میں مَسْعَدَہ بن یَسَع کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’هالك، كذبه أبو داود‘‘. ہالک ہے، ابو داؤد l نے اسے کذاب کہا ہے۔
حوالہ جات
[43] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں ابو یَسَع مَسْعَدہ بن یَسَع کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶۱ھ سے 1۷۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[44] العلل ومعرفة الرجال:۳/۲۶۷،رقم:۵۱۷۹،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .
[45] التاریخ الکبیر:7/337،رقم:11367،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[46] التاريخ الصغير:2/۱۵1،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[47] الكنى والأسماء:2/931،رقم:3798،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .
[48] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۲۴۳،رقم:۳۲۸،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[49] الجرح التعديل:۸/۳۷۱،رقم:۱۶۹۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[50] الجرح التعديل:۸/۳۷۱،رقم:۱۶۹۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[51] التاريخ الكبير المعروف بتاريخ ابن أبي خيثمة:1/1۵۴،رقم:۸۷۷ ،ت:صلاح بن فتحي هلل،الفاروق الحديثة للطباعة والنشر ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴2۴هـ .
[52] المجروحين من المحديثن:3/35 ،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[53] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۱۲۸،رقم:۱۸۷۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[54] الضعفاءوالمتروكون:ص:3۶۰،رقم:5۰۷،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[55] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:3/116،رقم:3300،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .
[56] المستدرك على الصحيحين:دیکھئے: رقم:۶۰۳۷،۸۱۹۰ ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .
[57] التجريد:۸/۳۹۲۱،رقم:۱۸۸۲۱،ت:محمد أحمد سراج، علي جمعة محمد،دار السلام ـ القاهرة،الطبعة الأولى1424هـ .
[58] شعب الإيمان:۸/۱۰۹،رقم:۵۵۶۴،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[59] ذخيرة الحفاظ:۲/۸۶۶ ،رقم:۱۷۳۱،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[60] الأحكام الوسطى من حديث النبي صلى الله عليه وسلم:3/۳۳۱،ت:حمدي السلفي صبيحي السامرئي، مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1416هـ .
[61] المقتنى في سرد الكنى:۲/۱۵۶،رقم:۶۷۹۹،ت:محمد صالح عبد العزيز،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[62] تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام:۴/۱۲۰۵،رقم:۳۰۳،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[63] ميزان الاعتدال:4/۹۸،رقم:۸۴۶۷ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[64] المغني في الضعفاء:۲/40۱،رقم:۶۱۹۹،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[65] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:2۴۴،رقم:۶۳۴،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[66] التوضيح لشرح الجامع الصحيح:۳۰/۵۳۷،دار النوادر ـ دمشق،الطبعة الأولى1429هـ .
[67] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:10/419،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[68] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:1/162،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[69] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:4/58،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[70] لسان الميزان:8/276،رقم:8141 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[71] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۱۱۷،رقم:۳۲۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .