التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سلم ویقال ابو عمرو یحیی بن علاء رازی بَجَلی

المتوفی مابین 1۵0 – ۱۶0ھایک روایت میں تذکرہ

ابو سلم ویقال ابو عمرو یحیی بن علاء رازی بَجَلی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو سلم ویقال ابو عمرو یحیی بن علاء رازی بَجَلی (المتوفی مابین 1۵0 – ۱۶0ھ[51]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام وکیع بن جراح l فرماتے ہیں: ’’ كان يكذب، حدث في خلع النعلين نحو عشرين حديثا‘‘[52]. یہ جھوٹ بولتا تھا، اس نے جوتا اتارنے سے متعلق بیس کے قریب احادیث بیان کی ہیں۔

حافظ یحیی بن معین l نے یحیی بن علاء کو ’’لیس بشیء‘‘ کہا  ہے[53]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ ليس بثقة‘‘ کہا ہے[54]۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’يحيى بن العلاء الرازي كذاب، رافضي، يضع الحديث‘‘[55]. یحیی بن علاء رازی کذاب، رافضی ہے، حدیث گھڑتا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیlنے’’الكشف الحثيث‘‘[56] میں امام احمد بن حنبلl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[57] اور ’’التاريخ الصغير‘‘[58] میں فرماتے ہیں:  ’’وكيع يتكلم فيه‘‘. وکیع l اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔

امام بخاری l نے ایک مقام پر اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا  ہے[59]۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[60] میں فرماتے ہیں: ’’غير مقنع، حدثت عن عبد الرزاق، قال: سألت وكيعا عن يحيى بن العلاء: ما تقول فيه؟ قال: أما رأيت فصاحته؟ قلت على ذاك ما تنكرون منه؟ قال: يكفي أنه روى عشرين حديثا في خلع النعل على الطعام‘‘. ’’غیر مقنع‘‘ ہے، عبد الرزاق l سے مجھے یہ بات پہنچی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے وکیع l سے یحیی بن علاء کے بارے میں پوچھا کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ وکیع l نے فرمایا: آپ نے اس کی فصاحت کو نہیں دیکھا؟ میں نے کہا: اسی بناء پر تم انکار کرتے ہو؟ وکیع l نے فرمایا: یہ کافی ہے کہ اس نے کھانے میں جوتا اتارنے سے متعلق بیس احادیث روایت کی ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے ایک مقام پر یحیی بن علاء کو ’’شيخ واهي‘‘ کہا ہے[61]۔

حافظ ابو زرعہ رازیl نے اسے ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[62]۔

حافظ ابو زرعہ رازیl ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’في حديثه ضعف‘‘[63]. اس کی حدیث میں ضعف ہے۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘[64]. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

امام ابو داؤد l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[65]۔

حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوِی l نے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[66] میں اس کے بارے میں ’’يعرف وينكر‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو اسحاق حربی l فرماتے ہیں: ’’غيره أوثق منه‘‘[67]. دوسرے اس سے زیادہ ثقہ ہیں۔

امام نسائیl نے ’’الضعفاء‘‘[68] میں اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عقیلیl نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[69] میں محمد بن نعمان کے ترجمہ میں یحیی بن علاء کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاسl نے یحیی بن علاء کو ’’متروك الحديث [جدا]‘‘ کہا ہے[70]۔

حافظ ابو حاتم l نے یحیی بن علاء کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[71]۔

حافظ ابو حاتم l نے ایک مقام پر یحیی بن علاء کے بارے میں کہا ہے: ’’تكلم فيه وكيع‘‘[72]. وکیع l نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے۔

حافظ ابو بشر دولابی l نے ’’ الكنى‘‘[73] میں اسے ’’ضعيف‘‘  کہا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن ينفرد عن الثقات بالأشياء المقلوبات التي إذا سمعها من الحديث صناعته سبق إلى قلبه أنه كان المعتمد لذلك، لا يجوز الاحتجاج به، كان وكيع شديد الحمل عليه‘‘. یحیی بن علاء ان لوگوں میں سے ہے جو ثقات کے انتساب سے ایسی مقلوب اشیاء نقل کرنے میں متفرد ہیں جب اہل صناعت اُنہیں سنتے ہیں تو ان کے دل میں یہ بات سبقت کر جاتی ہے کہ یہ ان مقلوب روایات کو جان بوجھ کر لاتا ہے، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے، وکیع l  ان کی شدید تضعیف کرتے تھے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[75] میں فرماتے ہیں:  ’’وليحيى بن العلاء غير ما ذكرت، والذي ذكرت مع ما لم أذكر مما لا يتابع عليه، وكلها غير محفوظة، ويحيى بن العلاء بين الضعف على روايته وحديثه‘‘. یحیی بن علاء کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور جو احادیث میں نے ذکر کیں اور جو ذکر نہیں کیں ان میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور  یہ تمام کی تمام غیر محفوظ ہیں، اور یحیی بن علاء کی روایت اور حدیث میں ضعف واضح ہے۔

حافظ ساجی l فرماتے ہیں:  ’’فيه ضعف، منكر الحديث‘‘[76]. اس میں ضعف ہے، یہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو الفتح ازدیl نے اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[77]۔

حافظ ابن حزم اندلسیl نے ’’المحلى‘‘[78] میں یحیی بن علاء کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[79] میں ایک روایت کے تحت یحیی بن علاء کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[80] میں ایک دوسری حدیث کے تحت یحیی بن علاء کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’أحد الأعلام الجلة على ضعفه‘‘. باوجود ضعیف ہونے کے جلیل القدر اعلام میں سے ہیں۔

نیز حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کیا ہے۔

حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[83] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’يحيى بن العلاء (أبو عمرو) البَجَلي الرازي، وقد ضعفوه جدا‘‘. یحیی بن علاء ابو عمرو بَجَلی رازی کو محدثین نے ضعیف جداً قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’تقريب التهذيب‘‘[84] میں فرماتے ہیں: ’’رمي بالوضع‘‘. حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[85] میں یحیی بن علاء بَجَلی رازی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أحمد بن حنبل: كذاب، يضع الحديث، وقال ابن عدي: أحاديثه موضوعة، وقال في التقريب: رمي بالوضع‘‘. احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: یہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں: اس کی احادیث من گھڑت ہیں، اور ’’تقریب‘‘ میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l نے) کہا ہے کہ یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

حوالہ جات

[51] امام بخاریl نے  ’’التاریخ الصغیر‘‘ میں موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۵0 اور۱۶0ھ کے درمیان ہوا ہے (التاريخ الصغير:2/244ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[52] تهذيب الكمال:31/487،رقم:6895،ت:بشار عواد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[53] سؤالات ابن الجنيد:ص:۴۶۸،رقم:۷۹۲،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1408هـ .

[54] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۲/۲۸۴،رقم:۴۸۲۹،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[55] سؤالات البرذعي:ص:288،رقم:498،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .

[56] الكشف الحثيث:ص:280،رقم:840 ،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[57] التاريخ الكبير:۸/۱۷۹،رقم:۱۲۴۰۷،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[58] التاريخ الصغير:2/۱۳۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[59] الكامل في الضعفاء:9/23،رقم:2104،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[60] أحوال الرجال:ص:3۴۱،رقم:۳۷۶،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .

[61] تهذيب الكمال:31/48۶،رقم:6895،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴13هـ .

[62] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:۲۴۱،رقم:۴۲۷،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱430هـ .

[63] الجرح والتعدیل:۹/۱۸۰،رقم:۷۴۴، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[64] انظر تهذيب الكمال:31/487،رقم:6895،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴07هـ .

[65] انظر تهذيب الكمال:31/487،رقم:6895،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴07هـ .

[66] المعرفة والتاريخ:3/۱۴۱،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[67] انظر إكمال تهذيب الكمال:12/352،رقم:5182،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[68] الضعفاء والمتروکین:ص:۱۰۷،رقم:۶۲۷،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[69] الضعفاء الكبير:۴/۱۴۶،رقم:۱۷۱۲،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸هـ .

[70] الجرح والتعدیل:۹/۱۸۰،رقم:۷۴۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[71] الجرح والتعدیل:۹/۱۸۰،رقم:۷۴۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[72] الجرح والتعدیل:۹/۱۸۰،رقم:۷۴۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[73] الكنى والأسماء:ص:779،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[74] المجروحين:۳/1۱6،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[75] الكامل في ضعفاء الرجال:۹/۲۸،رقم:۲۱۰۴،ت:عادل أحمد عبد الموجود,وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[76] إكمال تهذيب الكمال:۱۲/۳۵۲،رقم:5182،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[77] الضعفاء والمتروکین:3/200،رقم:3743،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .

[78] المحلى بالآثار:۹/۳۹۳،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1425هـ .

[79] السنن الكبرى:۹/۵۷۳،رقم:۱۹۵۴۱،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[80] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۳۳۴،رقم:۹۰۶،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .

[81] تاريخ الإسلام:4/۵۴۲،رقم:۴۳۱،ت:بشار عواد  معروف،دار  الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[82] الكاشف:۲/۳۷۲،رقم:۶۲۲۴،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[83] البدر المنير:۱/۵73،ت:أبو محمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[84] تقريب التهذيب:ص:۵۹۵،رقم:۷۶۱۸،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[85] تنزيه الشريعة عن الأحاديث الشنيعة الموضوعة:1/۱27،رقم:31،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ